صحافتی دامن اور فرشتوں کے وضو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارمغان احمد داؤد

\"armaghan2\"سیرل المیڈا کی خبر کے بعد اتنا بھونچال نہیں آیا جتنا کہ ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے بعد سے آیا ہوا ہے۔ ماننا پڑے گا کہ حکومت نے ترپ کا پتا کھیلا ہے۔ لاٹھی بھی ٹوٹ نہ پائے اور سانپ بھی درد سے بلبلا اٹھے (محاورے کو حالات کے مطابق بدلنے کی جسارت پر احباب اہل زبان سے معذرت، کیونکہ سانپ کو مارنا مقصود تھا نہیں اور اس کے علاوہ خاکسار کے ذہن میں اور کوئی محاورہ نازل نہیں ہوا)۔

جب یہ خبر ارادی طور پر لیک کی جا رہی تھی تو صحافی حضرت کو بھی معلوم تھا کہ اگر پوچھ گچھ ہو گئی تو خبر دینے والے صاحب نے سینگوں والا معاملہ کرنا ہے، یعنی کہ غائب ہو جانا ہے لہٰذا صحافی نے یہ خطرہ مول لیا، اور صحافی ہوتے ہوئے ایسا خطرہ ایسی خبروں پر مول لینا ہی پڑتا ہے، انگریزی میں اسے کیلکولیٹڈ رسک یا اردو میں نپا تلا خطرہ کہہ لیں۔ ڈان اپنی خبر پر ڈٹ کے قائم ہے اور ہونا بھی چاہیئے یہی تو کسی بھی اچھے میڈیا ہاؤس کا طرہ امتیاز ہونا چاہیئے مگر معاملہ وہی ڈھاک کے تین پات کیونکہ ایسی خبروں کی توثیق بھی ایسے فرشتوں کے ذریعے ہوتی ہے جن کی اخلاقی جرات کی حالت ہماری قومی سلامتی سے بھی زیادہ کمزور دھاگوں سے بنی ہوتی ہے۔

جس نے بھی یہ سارا معاملہ سوچا تھا اس کی ذہانت کی داد نہ دینا بخل ہوگا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ خبر حکومتی حلقے نے لیک کی تھی۔ خبر تھی ہی ایسی کہ اس پر چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ خبر چھپنے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے ایک بار نہیں، دو بار نہیں بلکہ تین بار پُرزور طریقے سے تردید کی گئی اور ساتھ ہی صحافی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ ظاہر ہے سارا ملبہ ملٹری اسٹیبلیشمنٹ پر گرا کہ سویلین حکومت نے ان کے زور دینے پر \’مجبوراً\’ یہ قدم اٹھایا۔ عالمی برادری کو بھی یہ باور کرا دیا گیا کہ ملٹری اسٹیبلیشمنٹ ابھی بھی حکومتی معاملات میں اپنی ٹانگ اڑانے سے باز نہیں آتی اور ملک کے اندر بھی توپوں کا رخ عسکری حکام کی طرف کر کے خود بیٹھ کر تماشہ دیکھنے لگ گئے۔

ہر طرف ایک شور و غوغا برپا ہے۔ صحافی الگ ماتم کناں ہیں کہ دیکھو ظلم ہو گیا، ستم برپا ہے کہ ہم ایک خبر بھی نہیں چھاپ سکتے، حکومت چپ کے دبیز پردوں کے پیچھے گم ہے، اور ایک اور صحافی کے نزدیک عسکری ذرائع صحافی کے خلاف نہیں بلکہ خبر لیک کرنے والے کے خلاف کارروائی چاہتی ہے۔ اکثر لوگ تو خیر اس خبر کو من و عن سچ سمجھ رہے ہیں مگر کافی باتیں آپس میں میل نہیں کھا رہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی انتظامی طور پر وزیر اعظم کے ماتحت ہیں تو اگر خبر وزیر اعظم کی ڈی جی آئی ایس آئی پر برہمی کی ہوتی تو انتظامی طور پر تو بات قابل ہضم تھی، مگر وزیر اعلٰی صاحب کیوں اتنے برہم تھے جب کہ یہ رپورٹس زبان زد عام ہیں کہ نواز لیگ خود بھی مذہبی انتہا پسند جماعتوں کی سرپرستی کرتی رہی ہے۔ رانا ثناء اللہ کا نام تو ویسے ہی سرفہرست ہے جن کے مبینہ طور پر لشکر جھنگوی کے ساتھ تعلقات ہیں۔ پھر جن میں اتنا دم نہیں کہ وہ خبر چھپ جانے کے بعد اس کا دفاع کر سکیں وہ کیسے یک دم ایک میٹنگ میں اتنا بہادر ہو سکتے ہیں۔

ڈان کا اپنے صحافی کی خبر پر اعتماد اور اس کا دفاع یقیناً قابل تحسین ہے مگر اس کو صحافتی اقدار پر حملہ قرار دینا کافی بچگانہ فعل ہے۔ جب ہمارے صحافی حضرات ٹی وی میں بیٹھ کر یا اخبار میں تحریر کے ذریعے ہمارے سیاستدانوں کو سیاست سکھاتے ہیں، فنانس منسٹر کو اکانومی پر لیکچر دیتے ہیں، خارجہ امور کے مشیروں کو خارجہ پالیسی کے اسرارورموز سکھاتے ہیں، وزیر داخلہ کو ملک کے اندرونی معاملات چلانا سکھائے جاتے ہیں، فوج کو ملک کے دفاع کیسے کرنا چاہیئے پر سبق پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اگر سیاسی و فوجی اقدار پر حملہ نہیں ہے تو تردیدی پیغام میں تھوڑا سا لیکچر آپ بھی برداشت کر لیں۔ وہ کہتے ہیں نا کہ

اتنی نہ بڑھا پاکیِ داماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ

آپ کے اپنے صحافی صحافتی اقدار کو پاؤں تلے روندتے ہوئے کھلم کھلا سیاسی جماعتوں کا ساتھ دیتے ہیں، کچھ کے سجدوں کا رخ راولپنڈی کی طرف ہوتا ہے اور کچھ طالبان جیسی جماعتوں کے کو خود مقرر کردہ ترجمان ہوتے ہیں۔ جب اپنے گھر میں ہی اتنا گند موجود ہو تو کسی کی نصیحت کو اتنا بھی دل پر نہیں لے لینا چاہیئے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments