یزید کا نام گم جائے گا، حسین زندہ رہے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"sehrish-usman-2\"وہ شعر یاد نہیں آرہا تھا کچھ کچھ یوں ہے کہ جو اہل ہوں وہ منتخب نہیں ہوتے۔ پہلا مصرع کربلا کی حکایت سے سبق ملنے سے متعلق تھا۔ سارا دن شعر کو دہراتے الفاظ کا ہیر پھیر کرتےگزرا۔ شعر یاد نہیں آنا تھا سو نہ آیا۔

شام ڈھلے جب موسم میں گھلی غیر معمولی اداسی اور خاموشی محسوس کی تو چپکے سے کوئی سوال جاگا کہ ذرا بتاؤ تو کربلاکی حکایت سے تم نے کیا سیکھا ہے کیا سبق دیتی ہے ہمیں کربلا کی خون آشام شام؟

آج تک کبھی اس سوال پر غور ہی نہیں کیا نا ہم نے؟ شاعروں نے جو کچھ بتایا بس ہم نے وہ ہی سیکھا۔ غور کیا تو کربلا کی ظلمت میں بہت سے سبق پوشیدہ ملے۔ ایک تو یہ یقین ہو گیا کہ ظلم پر زیادتی پر نا انصافی پر خاموش رہنا یا اس کا ساتھ دینا کچھ اور ہو تو ہو حسینیت نہیں ہو سکتی۔ یہ دریچہ بھی کھلا کہ اگر حسین (رض) سچ پر حق پر جان نہ وارتے تو شائد اس کے بعد سچ بانجھ ہو جاتا اور آنے والے ہر دور کا یزید اپنی مرضی منشاء ضرورت اور پسند کی سچائی لکھواتا منواتا۔

اور تاریخ کا بیک وقت بدترین اور بہترین سبق بھی کربلا نے سیکھایا کہ ضروری نہیں تم اپنے حال میں جس حیثیت یا سٹیٹس میں زندگی گزار رہے ہو تاریخ اسے قائم بھی رکھے۔ تاریخ کے صفحات پر وقت کے سارے یزید بے یارومددگار پڑے نظر آتے ہیں۔ کبھی بھی ہمدردی کے محبت کے حق دار نہیں سمجھے جاتے۔ تاریخ کی وہ کتاب یاد آئی کہ جب اسے پڑھا تو عہد یزید،کربلا کے برپا کرنے والے یزید کا دور ٹوٹل ڈیڑھ صفحے پر مکمل تھا۔ اور اگلے دو چیپٹر کربلا کی اہمیت اسباب واقعات اثرات پر تھے۔ وہ جس \”قصے\” کو ختم کرنا تھا اس کی بجائے خود ایک قصہ بن گیا۔

بہت عام سا نام تھا عرب میں جیسے امر تھا یا عمر تھا ویسے ہی یزید تھا عام سا نام ناں جیسے ہمارے ہاں ہر تیسرے بچے کا نام عبداللہ ہوتا ہے ناں ویسے۔

بہت سے بچوں کا نام ہوگا لوگ رکھتے بھی ہوں گے___ پر آج کیا ہے؟ وہ نام نام نہیں رہا مثال بن چکا ہے ظلم کی، شدت پسندی کی اور زیادتی کی۔ مثال دینا ہو یا وقت کے کسی جابر شقی القلب کا قصہ سنانا ہو بس یہ کہہ دینا کافی سمجھا جاتاہے کہ \”یزید ہے پورا وہ\”

اور دنیا کے کسی خطے کی کوئی ماں اپنے بچے کا نام یزید نہیں رکھنا چاہتی نہ اس سے نسبت ہی ملانا چاہتی ہے۔

اور دوسری طرف حسین تھے بلکہ حسین ہیں۔ کیا یہ جملہ واقعہ کربلا کو سمیٹ نہیں دیتا کہ یزید کے ساتھ ماضی بعید کا صیغہ لگے اور حسین کے ساتھ حال کا؟

اور کہنے دیجیے وہ نواسا رسولؐ ہی تھے جو کربلا کا ظلم سہہ کے بھی حق پر ڈٹے رہے ہم آپ ہوتے تو یزید کے ساتھ \”این آر او\” کر چکے ہوتے۔ سچائی ہار دیتے پر \”جمہوریت نظام\” بچا لیتے۔

کہنے دیجیے وہ حسین تھے جنہوں نے فرات کے کنارے پیاسا شہید ہونا پسند فرمایا ظلم کو نہ قسمت کا لکھا سمجھا نہ زیادتی کو یہ کہہ کر ٹالا کہ وقت اچھا بھی آئے گا۔

وہ حسین ہی تھے جنہوں نے سر کٹانا پسند فرمایا جھکانا نہیں۔

وہ بالیقین حسین تھے حفیظ جالندھری کے الفاظ میں یوں کہ۔

لباس ہے پھٹا ہوا، غُبار میں اٹا ہوا
تمام جسمِ نازنیں، چھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ کون حق پرست ہے، مئے رضائے مست ہے
کہ جس کے سامنے کوئی بلند ہے نہ پست ہے
اُدھر ہزار گھات ہے، مگر عجیب بات ہے
کہ ایک سے ہزار کا بھی حوصلہ شکست ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ جسکی ایک ضرب سے، کمالِ فنّ ِ حرب سے
کئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے
غضب ہے تیغِ دوسرا کہ ایک ایک وار پر
اُٹھی صدائے الاماں زبانِ شرق وغرب سے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
عبا بھی تار تار ہے، تو جسم بھی فگار ہے
زمین بھی تپی ہوئی فلک بھی شعلہ بار ہے
مگر یہ مردِ تیغ زن، یہ صف شکن فلک فگن
کمالِ صبر و تن دہی سے محوِ کارزار ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *