گلزار، آئے لو یو۔۔ تبو، آئے لو یو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"zeffer05\"

کسی کی عمر کا وہ حصہ سب سے بہترین ہوتا ہے، جب وہ خواب دیکھتا ہے۔ خواب وہ، جو جاگتی آنکھوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ زندگی کے جس حصے میں وہ خواب دیکھنا چھوڑ دے، اسے بے ثمر دور سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ میں اور میرا دوست خواب دیکھنے والی عمر میں تھے۔ ایسے ہی کئی خواب جنھیں ہم صرف ایک دوسرے کو سناتے؛ ان خوابوں کی کسی تیسرے کو خبر ہوجاتی، تو ہمیں دیوانہ قرار دیا جاتا؛ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے، ہر کسی کو اپنا خواب نہیں بتانا چاہیے۔۔۔ ان دنوں دیکھے خواب ایسے سچ ہوئے، کہ کس کس خواب کی تعبیر بیان ہو!۔۔ ہم دونوں ہی فلم ساز، شاعر گلزار کے پرستار تھے؛ راج گڑھ لاہور کی ایک بیٹھک میں بیٹھ کر گلزار سے ملنے کا خواب دیکھنا، اپنا مذاق اڑانے والی بات ہی تھی۔ میں اداکارہ تبو کا بھی دیوانہ تھا۔ اس وقت تبو اتنی مقبول نہ تھیں۔ فلم ”سزائے کالا پانی“ دیکھتے، وہ دل میں ایسی کھبیں، کہ آج تک نکل کر نہ دیں۔ زرا سنیے تو دو خواب زادوں کا مکالمہ:
”اگر تبو سے ملاقات ہو جائے، تو تم کیا کرو گے؟
”کیا کروں گا؟۔۔ میں سوچنے لگا؛ دل نے کہا، ”میں تبو سے فرمائش کروں گا، کہ وہ اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر لائے۔“
”اور پھر؟“
”اور پھر یہ کہ وہ اور میں ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پئیں گے۔“
”بس۔۔۔؟“ دوست کی ذومعنی مسکراہٹ کچھ اور پوچھ رہی تھی۔
میں نے اپنے دل کو مزید ٹٹولا، تو اس سے زیادہ کی خواہش نہ برآمد ہوئی۔۔۔ ”ہاں!۔۔ بس!“

\"Gulzar\"

یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے؛ سن انیس سو پچانوے چھیانوے کا ذکر ہے، کہ میں راول پنڈی کے صدر بازار، بنک روڈ کنارے لگے ٹھیلے سے پرے بیٹھا، ایک دوست کے ساتھ گپ ہانک رہا تھا۔ ٹھیلا میرے اسی دوست کا تھا، جو گریجوایشن کے بعد بیلٹیں بیچ کر رزق کماتا تھا۔ ایک نوجوان جس کی قمیص، آدھی پینٹ کے اندر، اور آدھی باہر لٹک رہی تھی، بغل میں فائلیں دبائے بیلٹ دیکھنے لگا۔ میرے دوست نے کہا، یہ ”ڈاکٹر“ لگتا ہے، تمھی اس کو اٹینڈ کرو۔ دُکان داروں کی زبان میں ”ڈاکٹر“ اسے کہا جاتا ہے جو معائنہ کرنے آیا ہو، خریداری میں دل چسپی نہ رکھتا ہو۔ میں‌ قریب گیا، تو میری نگاہ اس کی بغل میں دبی فائل کور پہ گئی، جس پہ ”بھرم۔۔ (ڈراما سیرئیل)“ لکھا تھا۔ میں اس وقت جمال شاہ کے فائن آرٹ اسکول ”ہنرکدہ“ جایا کرتا تھا، اور ڈراما سیرئیل ”کل“ کی پروڈکشن میں تھوڑا بہت حصہ ڈالا تھا؛ اسی ڈرامے کی پہلی قسط کے ایک منظر میں ٹیلی ویژن اسکرین پر پہلی بار اداکاری بھی کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب ملک بھر میں صرف پی ٹی وی دیکھا جاتا تھا، یا مخصوص علاقوں میں این ٹی ایم۔ ایسے میں پی ٹی وی کے ڈرامے میں کوئی کیمرے کے سامنے سے بھی گزر جائے، تو اگلے دن وہ گلی کے ”مشہور“ لوگوں کی فہرست میں شامل ہوتا تھا۔۔۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کے پوچھا، کہ یہ کیا ہے؟۔۔ آپ کیا کرتے ہیں؟۔۔ موصوف نے کہا، وہ ڈرامے لکھتے ہیں، اور مشہور ڈراما ”آہن“ انھی کا ”خیال“ ہے۔ نام بتایا حسن ضیا الامین۔

میں نے اپنا تعارف کرایا کہ میں بھی اسی دشت کی ”سیاہی“ کا متمنی ہوں۔ فوراً پہچان لیا گیا، کہ میں وہی کالج کا لڑکا ہوں، جو ”کل“ کے ایک منظر میں تھا۔ ایک دوسرے کا پتا لیا، الوداع کیا۔ گاہے بگاہے ملاقات رہی۔ خواب دیکھتے رہے، خواب کہتے رہے، خواب سنتے رہے۔ ہوا یوں کہ میرے ایک عزیز نے میرے شوق کو دیکھتے ٹیلی فلم بنانے کی ہامی بھر لی۔ میں اس وقت لاہور میں تھا، فورا حسن کو کال کی، ”آجا۔۔ بڑا اچھا موقع ہے۔“۔۔ حسن نے چٹا انکار کر دیا، کہ میں جاپان جانے کی کوشش میں ہوں، یہاں کوئی مستقبل نہیں۔ میرے پاوں تلے سے زمین نکل گئی، کہ ایسا نایاب موقع ہے، جب میں اور حسن مل کر ڈرامے کی دنیا میں انقلاب رُونما کر سکتے ہیں، اور یہ کم ہمتی دکھا رہا ہے!۔۔ دہائی دیتے جیسے تیسے راضی کیا، کہ اے مردِ مجاہد جاگ زرا۔۔۔ نئیں تاں میں مر گئی آں۔۔ قصہ مختصر! حسن لاہور آیا، ٹیلی فلم بنی؛ انتہائی کام یاب رہی؛ حسن کو کراچی میں قائم دفتر کا ان چارج بنا کر بھیجا گیا۔ میرے عزیز نے اسی شعبے سے خوب کمایا، لٹایا۔۔ اسی دوران مشرف صاحب نے اقتدار کا سنگھاسن سنبھالا، تو میرے عزیز نے سمجھا کہ انقلاب آ گیا ہے، پی ٹی وی انتظامیہ کی بد عنوانی کو موضوع بناتے، متعلقہ ادارے کو ایک خط لکھ دیا۔۔ کچھ عرصے بعد انھیں‌ اپنی دکان بڑھانا پڑی۔۔ سیاست دان کو معزول کیا گیا تھا؛ بیوروکریسی وہی تھی۔

کراچی میں ایک میڈیا ٹائیکون نے حسن کے سر پہ ہاتھ رکھا۔ اس کے بعد تو یہ جا، وہ جا۔۔ حسن چند برسوں میں ککھ پتی سے، لکھ پتی، اور لکھ پتی سے کروڑ پتی ہوا۔ یہی نہیں ہندُستان کے کاروباری دورے کرنے لگا؛ ابتدا میں پاکستانی ٹی وی چینلوں پہ ”کرشمہ“ نامی سوپ سیرئیل، اور دیگر ہندستانی فروخت کرنے والا یہی شخص حسن ضیا تھا۔ سب سے پہلے ہندُستانی فن کاروں کو پاکستانی ڈراموں میں کاسٹ کرنے کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے۔۔۔ حسن نے ممبئے پہنچ کر گلزار صاحب سے رابطہ کیا؛ یہ تعلق اتنا مضبوط ہو گیا، کہ گلزار دو مرتبہ پاکستان آئے، تو دونوں بار میزبانی کا اعزاز حسن ضیا ہی کو حاصل ہوا۔ بل کہ دوسری بار گلزار صاحب پاکستان آئے، تو کراچی جانے کی دو ہی وجوہ تھیں، ایک حسن کے بچوں سے ملاقات کرنا، اور دوسری شکیل عادل زادہ سے ملنے کی چاہت۔۔۔ یہ وہی حسن ضیا تھا، جو جاپان جانا چاہتا تھا، کہ یہاں‌ مستقبل مخدوش دکھائی دینے لگا تھا۔ یہ وہی حسن ضیا تھا، جو راج گڑھ لاہور کے کھڈے جیسے کمرے میں بیٹھا، گلزار سے ملنے کی تمنا کرتا تھا۔ خواب دیکھنے سے تعبیریں مل جاتی ہیں۔

\"tabu\"

اس کہانی میں میری تبو کہیں بیچ میں رہ گئیں۔ اس دوران کوئی صورت نہ ہوئی، کہ میں اتنا قد آور ہوتا، کہ تبو مجھ سے ملاقات کرنے آتیں۔ ایک مدت بعد، ”سب رنگ“ ڈائجسٹ کے دفتر میں بیٹھا تھا، شکیل عادل زادہ قیلولہ فرما کر تشریف لائے، پوچھا ”چائے پیو گے؟“۔۔ میں نے جھٹ سے کہا، کہ ”اگر آپ خود بنائیں گے۔“۔۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ میرے دل میں جس کے لیے از حد احترام ہو، اس سے یہی فرمائش کرتا ہوں۔ کوئی ایسی صورت ہو، کہ تبو سے ملاقات کی امید بر آئے، تو میں کوشش کروں گا، ان سے نہ ملوں۔۔۔ شاید آپ کہیں، کہ ”انگور کھٹے ہیں“۔۔ تبھی تو کہتے ہیں، ہر کسی کو اپنے خواب مت بتائیں۔ یہ اتنی پرانی بات نہیں ہے، کہ گلزار صاحب مجھ سے تین کلومیٹر دور حسن کے یہاں مہمان تھے، مجھ سے پانسو میٹر دور شکیل عادل زادہ کے گھر آئے تھے۔ میں نے خود پہ قابو رکھا، اور ان سے ملنے نہیں گیا۔ اس لیے کہ اتنے عرصے میں یہ سمجھا تھا، کہ کچھ خوابوں کو ادھورا رہنا چاہیے۔ کبھی کبھی تعبیر ملنے پہ وہ بت ٹوٹتے ہیں، کہ الامان۔۔ خوابوں کی کرچیاں کچھ دے جاتی ہیں؛ تعبیر بری نکلے، تو خواب روٹھنے لگتے ہیں۔۔۔ لیکن یہ ہے، کہ گلزار، آئے لو یو۔۔۔ تبو، آئے لو یو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 317 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

One thought on “گلزار، آئے لو یو۔۔ تبو، آئے لو یو

Leave a Reply