پاکستان کے 22 کروڑ عوام کسی عالی جاہ کی رعایا نہیں، کسی درگاہ کے مرید نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت نے آزادی مارچ کے بارے میں قدرے نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب یہ کہا ہے کہ احتجاج کرنا بنیادی حق ہے لیکن مظاہرہ کرنے والوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے طے کردہ ضابطوں اور متعلقہ قوانین پر عمل کرنا ہوگا یعنی پر امن رہنا ہوگا اور عوام کے لئے آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان متعدد بار یقین دلاچکے ہیں کہ وہ پرامن مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم حکومت کے نمائیندے یہ احتجاج وقوع پذیر ہونے کے کئی ہفتے پہلے سے ہی سراسیمہ دکھائی دیتے ہیں۔ اسی لئے اشتعال انگیز بیانات اور دھمکیوں کے ذریعے اس احتجاج کو ٹالنے یا اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ایک طرف جمیعت علمائے اسلام کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام پر پابندی لگائی گئی ہے حالانکہ جمیعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے نوجوانوں کا یہ گروہ جلوس کے دوران نظم برقرار رکھنے اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر امن و امان بحال رکھنے کے لئے قائم ہے اور ماضی میں بھی یہ خدمات سرانجام دیتا رہا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے بظاہر آزادی مارچ کی اجازت دی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام آباد کو سیل کرنے، ریڈ زون کو کنٹینر لگا کر بند کرنے اور دارالحکومت آنے والے سب راستوں کو روکنے کا اہتمام بھی کیا ہے۔ ایک روز پہلے خیبر پختون خوا حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 30 اکتوبر سے اسلام آباد جانے والی ہائی وے اور موٹر وے کو بند کر دیا جائے گا۔ ان حالات میں حکومت کی نیک نیتی پر سوال کرنے سے پہلے یہ تو پوچھا جاسکتا ہے کہ جو کام یعنی عوام کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا مطالبہ، مولانا فضل الرحمان اور جمیعت علمائے اسلام سے کیا جا رہا ہے، اس پر حکومت کیوں عمل نہیں کرتی؟ شاہراہیں بند کرنے اور اسلام آباد میں رکاوٹیں کھڑی کرکے عوام کو کون سی سہولت فراہم کی جائے گی؟

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اس وقت حکومت کے اعصاب پر سوار ہے لیکن اس کے باوجود وفاقی کابینہ، پارلیمنٹ کو متحرک کرکے اور قانونی و سیاسی معاملات کو عوام کے نمائیندوں کے سامنے پیش کرنے کی بجائے، آرڈی ننسوں کی مدد سے امور مملکت چلانا چاہتی ہے۔ آرڈی ننس کے ذریعے قانونی معاملات طے کرنا اور قانون ساز ادارے کو نظر انداز کرنا کسی بھی جمہوری حکومت کو زیب نہیں دیتا اور نہ ہی ایسی حکومت کا نمائیندہ عوامی حقوق اور آزادیوں کی بات کرتا اچھا لگتا ہے۔

حکومت کو ملک میں سیاسی کشیدگی اور بپھری ہوئی اپوزیشن کا غصہ کم کرنے کے لئے خود جمہوری روایت پر عمل کرنا پڑے گا اور اپنے کردار سے یہ واضح کرنا ہوگا کہ حکمران صرف اپنا ساتھ دینے والوں کو ہی عوام کا نمائیندہ نہیں سمجھتے بلکہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے والے بھی عوام ہی کے نمائیندے ہیں اور اپنا قانونی اور آئینی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی حب الوطنی اور قانون کا احترام بھی اتنا ہی یقینی ہے جس قدر حکومت میں شامل افراد یا گروہوں کی دیانت پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔

وفاقی کابینہ نے آج مختلف النوع 8 آرڈی ننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ’یہ ملک کے لئے فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ حکومت نے عوامی مفاد کے آٹھ قوانین منظورکیے ہیں‘ ۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک قانون دان اور جمہوری حکومت کا نمائیندہ ایک حکم کے ذریعے نافذکیے جانے والے قوانین کو نہ صرف عوامی مفاد کا نام دے رہا ہے بلکہ اس اقدام کو فیصلہ کن مرحلہ بھی قرار دیتا ہے۔ ان آرڈی ننسوں کے ذریعے کی جانے والی تبدیلیاں وقت کے ساتھ سامنے آسکیں گی جن کے بارے میں قانون دان اور پارلیمنٹیرین بہتر رائے دے سکیں گے تاہم ان میں ملک میں طبی شعبہ کی نگرانی اور احتساب قانون کے حوالے سے ترمیم کے آرڈی ننس بھی شامل ہیں۔

ایک آرڈی ننس کے تحت حکومت نے طبی شعبے کے نگران ادارے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کرکے اسے ایک نئے ادارے سے بدل دیا ہے۔ پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے عنوان سے جاری ہونے والے اس آرڈی ننس میں دیگر باتوں کے علاوہ میڈیکل امتحان پاس کرنے والے طالب علموں کے لئے ایک نیا امتحان متعارف کروایا گیا ہے۔ نئی تجویز کے تحت ہاؤس جاب حاصل کرنے کے لئے اب یہ نیا امتحان پاس کرنا لازمی ہوگا۔ یعنی حکومت خود ہی اس امتحان کی ناقدری کا اعلان کررہی ہے جو میڈیکل تعلیم مکمل ہونے کے بعد اسی کے منظور شدہ ادارے کے زیر انتظام لیا جاتا ہے۔

اب باقاعدہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمندوں کو ایک ’سپر امتحان‘ بھی پاس کرنا پڑے گا۔ اس بوالعجبی کی کوئی صراحت نہیں کی گئی لیکن یہ بتا دیا گیا ہے کہ فوج کے کیڈیٹس یعنی فوجی انتظام میں میڈیکل پاس کرنے والے ’نو تجویز کردہ امتحان‘ پاس کرنے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ملک بھر کے میڈیکل طالب علم اور ڈاکٹر اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت نے 31 اکتوبر کو پیش آنے والے بحران سے پہلے خود ایک نئے طوفان کو دعوت دینے کا اہتمام کیا ہے۔

اسی طرح نیب اصلاحات آرڈی ننس کی جو تفصیلات دستیاب ہیں ان کے مطابق اب وزیر اعظم کی خواہش کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو 5 کروڑ روپے یا اس سے زائد کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا جائے گا انہیں جیل میں سی کلاس دی جائے گی۔ اس طرح بدعنوانی کے الزام میں گرفتارکئے جانے والے سیاسی لیڈروں، صنعتکاروں یا تاجروں کو عام قیدیوں کے ساتھ رکھا جائے گا۔ گویا اگر کسی کو صرف شبہ میں گرفتار کیا جاتا ہے تو عدالتی فیصلہ آنے اور متعلقہ شخص کے خلاف الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی اسے ابتر حالات میں جیل میں بند رکھا جائے گا۔

موجودہ سیاسی حالات میں یہ فیصلہ کر کے دراصل عمران خان اپنے اس کور ووٹر کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے وہ یہ وعدہ کرتے رہے ہیں کہ وہ کرپشن کرنے والوں کو سخت سزائیں دیں گے۔ اس کا اشارہ انہوں نے واشنگٹن میں کی جانے والی تقریر میں بھی کیا تھا۔ انہوں نے نواز شریف اور آصف زرادری سے ائیر کنڈیشنرز کی سہولت واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

یہ قانون نافذ ہونے کے بعد بھی سب کے لئے مساوی انصاف کا وہ مقصد پورا نہیں کرسکے گا جسے حقیقی بنانے کا تاثر دیا جا رہا ہے۔ نوازشریف اور آصف زرداری کے علاوہ دیگر سیاسی قیدیوں کی حفاظت اور ان کی صحت کے پیش نظر حکومت کو بہر صورت خصوصی انتظامات کرنا ہوں گے جن میں خصوصی خوراک اور خاص ماحول کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اس کے باوجود اس آرڈی ننس کے ذریعے سیاسی نفرت کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گا جس پر قابو پانا شاید طویل عرصہ تک ممکن نہ ہو سکے۔

نیب قوانین کے حوالے سے سیاست دانوں کے علاوہ سپریم کورٹ کو بھی شدید تحفظات رہے ہیں لیکن ایک آمر کے دور میں نافذکیے گئے اس قانون پر پارلیمنٹ میں بحث کے ذریعے اسے شفاف اور متوازن بنانے کی بجائے ایک آرڈی ننس کے ذریعے ایک نئے تنازعہ کو جنم دیا گیا ہے۔ سیاسی تصادم کے ماحول میں یہ فیصلے حکومت کے راستے کا پتھر بنیں گے۔

دوسری طرف احتساب بیورو کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ادارہ قطعی طور سے غیر جانبدار ہے۔ اس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، اسی لئے وہ کسی سیاست دان سے نہیں ملتے۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے جسٹس (ر) جاوید اقبال شاید عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ہی وزیر اعظم ہاؤس میں ان سے ملاقات کو بھول گئے تھے۔ انہوں نے یہ دلچسپ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’اگر یہ ثابت ہوجائے کہ نیب کا ادارہ یا چیئرمین کسی بھی قسم کی سیاست میں ملوث ہے تو میں ہر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں‘ ۔

جاوید اقبال خود چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ کیا وہ یہ قبول کریں گے کہ جب تک ان کے خلاف عائد الزامات کی تحقیقات مکمل نہ ہوجائیں، انہیں قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے کی تحویل میں دے دیا جائے یا حکومت کی خواہش کے مطابق جیل کی سی کلاس میں رکھا جائے؟ نیب نے ملک کے جن سیاست دانوں کو حراست میں لے رکھا ہے، ان میں سے بیشتر کے خلاف تو اس کی تحقیقات بھی مکمل نہیں ہوئی ہیں۔ پھر بھی وہ کئی کئی ماہ سے نیب کی حراست میں ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے اپنے سیاسی عزائم اور بدنیتی کا ثبوت تو اسی تقریر میں خود ہی فراہم کردیا ہے جب وہ ملک کے غیر ملکی قرضوں کا تجزیہ کرنے کا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے غلط بیانی کرتے ہیں یا یہ فرماتے ہیں کہ ’کیا پاکستان کے غریب عوام کا یہ حق نہیں کہ انہیں 2 وقت کا باعزت کھانا اور بہتر رہائش میسر ہو، وہ بھی عزت سے زندگی گزار سکیں، ہم بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہو سکیں‘ ۔ سوال کرنا چاہیے کہ اگر جسٹس صاحب کو عوامی بہبود کے منصوبے مکمل کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ نیب چئیرمین کے طور پر سیاسی عزائم کا اظہار کرنے کی بجائے کسی سیاسی جماعت کے کارکن کیوں نہیں بن گئے۔ ایک ریاستی ادارے کو سیاست زدہ کرنے کی اس سے بدتر مثال تلاش کرنا ممکن نہیں۔

چئیرمین نیب، وزیر اعظم اور دیگر سب حکمرانوں کو جاننا چاہیے کہ یہ 22 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ وہی اس کے فیصلے کرنے کے مجاز ہیں۔ وہ کسی عالی جاہ کی رعایا نہیں اور نہ کسی پیر کے مرید ہیں کہ ہر غلط بات پر بھی سر جھکا کر ممنون احسان ہوں۔ ملک میں انصاف کا بول بالا کرنے کے لئے حکومت اور نیب سمیت سب ریاستی اداروں کو اپنی حدود کو سمجھنا بھی ہو گا اور ان کا احترام بھی کرنا ہوگا۔ ورنہ ہر بدعنوان دوسرے پر الزام لگا کر اپنی بدعنوانی پر پردہ ڈالتا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1328 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali