نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنا حکومت کی ضرورت ہے، نواز شریف کی مجبوری نہیں
نواز شریف کو نیب کی حراست میں ان کے نجی معالج کے اصرار اور انکشاف کے بعد کہ ان کی حالت خراب ہے، تین روز پہلے رات گئے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ لاہور ہائی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب کے وکیلوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہر ملزم کی زندگی اور صحت قیمتی ہے لیکن نواز شریف کے معاملہ میں نیب عملی طور سے اس طریقہ کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔ نواز شریف نیب کی حراست میں ایک پراسرار بیماری کا شکار ہوئے۔
لیکن انہیں ہسپتال لے جانے کے لئے ڈاکٹر عدنان نے دہائی دی۔ نواز شریف کو ہسپتال لے جانے کے باوجود نیب کے نمائندے یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ڈاکٹر عدنان کی تشخیص کردہ خون پتلا کرنے والی دوا کی وجہ سے نواز شریف کے جسم میں پلیٹ لیٹس ڈرامائی طور سے کم ہوئے تھے۔ بعد میں پنجاب حکومت کے نمائیندے بھی اس دلیل کو دہراتے رہے۔ حالانکہ نواز شریف دل کی بیماری کا شکار ہیں اور بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔ ایسے مریض کو خون پتلا کرنے والی دوائیں مستقل طور سے استعمال کرنا ہوتی ہیں۔
نواز شریف کی موجودہ بیماری کا علاج کرنے کے لئے خصوصی طور سے کراچی سے بلائے گئے خون کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی نے البتہ اس امکان کو مسترد کیا ہے کہ نواز شریف کا عارضہ خون پتلا کرنے والی دواؤں کی وجہ سے لاحق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ مرض یا تو بچوں میں ہوتا ہے یا کینسر کے مریض اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تاہم یہ اطمینان کرلیا گیا ہے کہ نواز شریف کو کینسر نہیں ہے۔ دوران علاج ان کے جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد میں عارضی طور سے اضافہ کیا جاتا ہے لیکن وہ پھر کم ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے ابھی تک اس کی وجہ نہیں بتائی کہ مریض کے جسم میں ایسے کون سے عناصر ہیں جو پلیٹ لیٹس کو تباہ کر رہے ہیں۔
امید کی جا رہی ہے کہ دوائیں شروع کروانے کے بعد پلیٹ لیٹس کی تعداد کو ایک خاص سطح پر مستحکم کیا جا سکے گا۔ البتہ انصاف کا تقاضہ پورا کرنے اور شبہات کے خاتمہ کے لئے اس بات کی حتمی تحقیق ہونی چاہیے کہ نیب کی حراست میں نواز شریف کو یہ عارضہ کیسے لاحق ہؤا اور اس کا علاج کروانے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی۔ یہ سوال اس پس منظر میں بھی اہم ہوجاتا ہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے لیکن نیب نے تفتیش کے لئے انہیں اپنی حراست میں لینا اور اپنے ہیڈ کوارٹر منتقل کرنا ضروری سمجھا۔
اگر نواز شریف کے قد کاٹھ کے مقبول لیڈر کے ساتھ ایسا سلوک رو ا رکھا جا سکتا ہے تو نیب کی انسان دوستی اور زیر تفتیش لوگوں سے مہذب رویوں کے دعوؤں کو قابل اعتبار نہیں ہو سکتے۔ میڈیا میں جلوہ افروز ہونے کے شوقین نیب چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال اکثر یہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔ اب انہیں خود نواز شریف کی بیماری میں نیب کے کردار کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بتائیں کہ متعدد پیچیدہ بیماریوں کا شکار نواز شریف کے ساتھ کون سا برتاؤ کیا گیا اور وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے ایک پراسرار بیماری کے آخری اسٹیج پر ذاتی معالج کی وارننگ پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
موجودہ سیاسی تناظر میں عمران خان کے لئے نواز شریف کی زندگی شاید ان کے اہل خاندان سے بھی زیادہ قیمتی ہو چکی ہے۔ اگر خدانخواستہ نواز شریف کو کچھ ہوتا ہے تو ان کے ساتھ روا رکھے جانے والی بدسلوکی اور ان کے خلاف کی جانے والی بدزبانی کی روشنی میں عمران خان اور ان کی حکومت پر ہی اس کی ذمہ داری عائد ہوگی۔ نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کی خبروں میں حکومت کے کردار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ اسی لئے جعلی خبروں کے ذریعے اب لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ’چور‘ سے لوٹ کا مال واپس لیا جا رہا ہے۔ اگرچہ نواز شریف کے بیرون ملک علاج کا آپشن موجود ہے لیکن نواز شریف ابھی تک اس کی مزاحمت کر رہے ہیں۔
نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنا حکومت کی ضرورت ہے، نواز شریف کی مجبوری نہیں ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ زیر حراست نواز شریف کو کوئی گزند پہنچی تو وہ عوام کے غم و غصہ کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ ان کی دلی خواہش ہوگی کہ کسی طرح وہ ملک سے باہر چلے جائیں تاکہ ایک تو براہ راست ذمہ داری سے گلوخلاصی ہو جائے، دوسرے اسے سیاسی طور پر استعمال کر کے نواز شریف کی سیاسی مقبولیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ حکومت کو ایک طرف مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کا خوف لاحق ہے تو دوسری طرف نواز شریف کی اچانک سنگین بیماری نے اس کے سیاسی آپشنز محدود کر دیے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت گھمنڈ ترک کر کے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں یہی رویہ سب سے بڑی رکاوٹ بنے گا۔ ملک کو بڑے انتشار سے بچانے کے لئے اپوزیشن کو وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ ترک کردینا چاہیے لیکن حکومت کو بھی واضح کرنا ہوگا کہ وہ اپوزیشن کو کون سی سیاسی مراعات دے گی۔ ان مذاکرات میں اگر پارلیمنٹ کو فعال اور فیصلوں کا حتمی ادارہ بنانے پر اتفاق کرلیا جائے تو کئی قدم پیچھے جاتے ہوئے ملک کو ایک قدم آگے لے جانا ممکن ہے۔

