پاکستان میں حاجی بوٹے کی شاندار کامیابی کا راز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاجی بوٹا کاغذی اعتبار سے انیس سو ستر میں اس دنیا میں آیا چونکہ اس کا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں عمر کے معاملے میں جھوٹ بولنا فرض کے برابر تھا۔ اس لیے اس کی عمر میں کوئی چھ سات برس کم تھے۔ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نزدیکی قصبہ میں پیدا ہوا۔

یوں تو اس کا نام سرور تھا لیکن بچپن سے ہی سب نے اسے بوٹا ہی پکارا جاتا۔ اب تو وہ اپنا اصلی نام خود بھی بھول چکا تھا۔ کم عمری میں ہی وہ حج کر آیا اور حاجی ہو گیا۔ اس لیے حاجی بوٹا کے نام سے اس نے اپنی پہلی اسٹیٹ ایجنسی کھولنے کا سوچا۔ چونکہ اس کے پاس دکان کے لیے پیسے کی کمی تھی تو اس نے ملک صاحب کے ساتھ شراکت میں کام کا آغاز کیا۔ ملک صاحب اور بوٹے میں باپ بیٹے کے جیسا فرق تھا۔ اور وہ اسٹیٹ ایجنسی کے کاروبار میں کئی سال سے تھے۔

اس کاروباری شراکت میں چونکہ پیسے ملک صاحب کے لگے تھے اس وجہ سے حاجی بوٹا ملک صاحب کا ملازم نما ورکنگ پارٹنر بنا اور دھوم دھام سے دفتر نما دکان کا افتتاح کیا۔

بوٹے نے ملک صاحب کا دل جیتنے کے لیے ہر کام کیا۔ وہ ان کے گھر کی سبزی اور دھوبی سے کپڑے تک لاتا، ملک صاحب کی پسند کے گانے لگاتا تاکہ وہ دکان میں بور نہ ہوں۔ دوران سفر جب کبھی وہ دونوں ریل گاڑی میں سفر کرتے تو بوٹا اپنے ساتھ تیار کھانا رکھنے کے علاوہ دودھ کا ڈبہ، ٹشو پیپر، روم اسپرے، باڈی اسپرے، موسپیل اور ایک بستر بند بھی رکھتا۔ وہ کبھی بھی ملک صاحب کے اوپر والی برتھ نہ کھولتا۔ اور زمین پہ بستر لگا لیا کرتا۔

بوٹا ملک صاحب کی ہر بات پہ ہاں کرتا ہے۔ جب وہ کہتے کہ “قائد اعظم پاکستان کی آزادی کے موقع پر فوجی دستے کی قیادت کر رہے تھے” تو بوٹا کہتا ہاں جی سر میرے ابو جی بھی یہی کہتے ہیں۔ ملک صاحب جب راحیل شریف کی تعریف کرتے تو بوٹا جھٹ سے کہتا “سر جی آپ یقین کریں اپنے خاندان کے اگلے شہید اور نشان حیدر پانے والے یہ ہی ہوں گے، انشاء اللہ”۔ جب ملک صاحب پی ٹی آئی کے حامی بنے تو بوٹا جھٹ سے پی ٹی آئی کا جھنڈا اور ٹوپی لے آیا۔ دھرنے کے بعد ملک صاحب عمران خان سے ناراض ہوئے تو بوٹا اور بھی زور سے ناراض ہوا ساتھ دو چار مادر پدر آزاد گالیاں بھی دے ڈالیں۔

بوٹا ملک صاحب کی ایک ایک حرکت پہ نظر رکھنا اپنا فرض سمجھتا۔ ان کا دفتر دو کمروں پر مشتمل ہے، لیکن بوٹا کبھی اپنے کمرے میں نہیں بیٹھتا، ہمیشہ ملک صاحب کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتا ہے۔ ملک صاحب اس تمام چاپلوسی کو دل و جان سے پسند کرتے اور اپنے بچوں کو بوٹا بننے کی تلقین کیا کرتے۔

یوں تو بوٹا معصوم سا کچھوا بنا سامنے والی کرسی پہ سر ہلایا کرتا لیکن حقیقت میں وہ پورا وقت صرف ملک صاحب کی چوکیداری کرتا۔ اسے ملک صاحب کی ایک ایک بات کا علم رہتا۔ وہ ایک انتہائی وفادار چوکیدار تھا۔

حاجی بوٹا صبح سویرے ایجنسی میں مولانا طارق جمیل کا آنسو بھرا بیان لگاتا جب بیان کے آخر میں مولانا سسکی بھرتے تو ملک صاحب بھی اشک بار ہو جاتے۔ پھر ملی نغمے لگا کے جزبہ حب الوطنی کو جگایا جاتا۔ مختصراً یہ کہ ملک صاحب اور بوٹا دو جسم ایک جان کی طرح ہیں۔ ساری محنت اور پیسے ملک صاحب کے اور منافع میں بوٹے کا آدھے آدھ کا حصہ۔

بوٹا ایک کامیاب انسان ہے اور تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے میں لگا ہے۔

دراصل بوٹا انسان سے بھی آگے کی چیز ہے وہ ایک کردار ہے، ایک کیفیت ہے جو ہر تیسرے انسان میں موجود ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہر دور میں کامیاب اور ہر جگہ ان رہتے ہیں۔

یہ وہی ہیں جو فوجی حکومت میں بھی جیل نہیں جاتے۔ اور جمہوری دور میں بھی الیکشن میں جیت جاتے ہیں۔

عزیز قارئین اگر آپ بھی کامیاب زندگی کے خواہش مند ہیں تو حاجی بوٹا کے نقش قدم پر چلیں کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •