مولانا وزیراعظم کے فطری حلیف تھے حریف نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 مولانا فضل الرحمان صاحب، ایک پریگماٹسٹ اور کثیر المقاصد شخصیت ہونے کی وجہ سے، عمران خان جیسے سیاسی نوارد کیلئے بہترین فطری حلیف تھے۔ اگر عمران خان ماضی میں کرکٹ کے بہترین آل راؤنڈر تھے، تو مولانا صاحب سیاست میں بہترین آل راؤنڈر شمار ہوتے ہیں۔ مولانا کو ٹیم میں شامل کرنے کی وجہ سے مولانا کو کم اور عمران خان کو زیادہ اور دیرپا فائدہ ملتا۔ دونوں مخصوص حلقوں کی خاص فائلوں میں، آزمودہ، پسندیدہ، کارآمد، اور قابل بھروسہ جیسے ہم معنی الفاظ کے ٹیگز کے نیچے موجود ہیں۔ دونوں پرواسٹیبلشمنٹ اور سٹیٹس کو، کے قائل ہیں لیکن مولانا کی شہرت اس میدان میں عمران خان جتنی نہیں۔

اگرچہ عمران خان کا نعرہ تبدیلی ہے لیکن وہ جن کے حلیف ہیں وہ تبدیلی کے حق میں کبھی نہیں رہے۔ اتنا کچھ مشترکات رکھنے کے باوجود، دونوں جیلس بچوں کی طرح والد کی توجہ حاصل کرنے کے علاؤہ کس بات پر لڑ رہے ہیں؟ عجیب سا لگتا ہے۔ عمران خان صاحب گزشتہ انتخابات میں جیت کو اپنے کرشماتی شخصیت اور “زبردست” سیاسی پارٹی کی کامیابی سمجھتے ہیں، تو حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے نرگسیت کے شکار ہیں۔

انکو ملنے والی حکومت، انکی جیت سے زیادہ، بے نظیر اور نواز شریف کے درمیان کئے گئے باغیانہ اور ناقابل برداشت معاہدے، میثاق جمہوریت کی سزا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی نااہلی اور میمو گیٹ سکینڈل میں کوئلوں کی دلالی کرنے کے باوجود نوازشریف نے ویسا کردار ادا نہیں کیا جسکا ان سے توقع کی جارہی تھی۔ اس دور میں نوازشریف نے اپنی سیاسی زندگی کی ایک بڑی غلطی کرتے ہوئے، مولانا فضل الرحمان اور شیرپاؤ کی خواہش کے باوجود، پختونخوا میں عمران خان کی حکومت کو تبدیل نہیں کیا۔ اگرچہ عمران خان نے بھی پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں اور ماڈل حکمرانی کے موقع ضائع کرتے ہوئے اپنی ساری توانائیاں، سیاسی نظام، پارلیمنٹ اور سیاسی رہنماؤں کو چور اور ڈاکو ثابت کرنے اور لعنت بھیجنے میں خرچ کیں۔

ہمارے ہاں ویسے بھی اصلاحی، عوامی بہبود اور کسی کی حمایت پر مبنی تحریکوں سے زیادہ، احتجاجی اور مبنی بر مخالفت تحریکیں کامیاب ہوتی رہی ہیں۔ عوامی نبض پر انگلیاں رکھے ہوئے حکیم اور تحریکی تاریخ سے باخبرحلقے جس کو خوب جانتے ہیں۔ اسلئے اصلاحی سیاسی پارٹی پی ٹی آئی تب عوامی جماعت بنی جب عمران خان نے احتجاج اور مخالفت پر مبنی سیاست شروع کی۔ ایک طرف اثرانداز ہونے والی ساری قوتیں، نواز مخالف تحریک کے ساتھ رہیں تو دوسری طرف، مشرف دور میں ووٹر کی عمر اٹھارہ سال تک کم کرنے کی پالیسی، ناچ گانے اور گالم گلوچ پر مبنی عمران خان کی سیاست نے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کیا۔

جو عمران خان کو اپنا مسیحا اور مخالفین کو اپنی تاریک مستقبل کے مجرم سمجھنے لگے۔ جمہوریت بچانے کیلئے جن جن سیاستدانوں نے نوازشریف کا ساتھ دیا ان سب کو آنے والے الیکشن میں یلو کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیجا گیا، جن میں مولانا فضل الرحمان جیسے بے پناہ سیاسی، مذاکراتی اور رئیل پالٹیک کے ماہر بھی، پہلی دفعہ، اپنی کمزور سیاسی ججمنٹ کی وجہ سے شامل تھے۔ عمران خان نے دھرنوں اور الیکشن کمپین کے دوران زرداری اور نوازشریف کو چور اور ڈاکو اور مولانا کو عامیانہ بازاری ناموں سے یاد کیا۔ جبکہ مولانا نے مذہبی وار کرتے ہوئے خان صاحب کے عقیدے پر شک اٹھائے۔

عمران خان حکومت میں آئے تو “کرپٹ” سیاستدان جیل میں ڈالے گئے اور مولانا صاحب ان دونوں کے حکومتی ساتھی ہونے کے باوجود”کرپٹ” نہ ہونے کی وجہ سے آج تک آزاد ہیں۔ یہ بھی عجیب مذاق ہے کہ ایک مولانا (طاہر القادری) نے عمران خان لانے اور دوسرے مولانا (فضل الرحمان) نے عمران خان اتارنے کیلئے اپنا کاندھا پیش کیا۔ اگرچہ مذہبی سیاسی تحریکیں پاکستانی سیاست میں، اپنے طویل المدتی مقاصد میں ناکام ہوتی رہی ہیں لیکن قلیل المدتی مقاصد (تبدیلی) میں کامیاب۔ کیونکہ ہر حرقہ سالوس کے اندر ہے مہاجن۔ اسلئے مولانا صاحب کی مذاکراتی مہارت کے باوجود، پی پی پی اور نون لیگ، پھونک پھونک کر قدم اٹھاتی رہی ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مذہب کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں کی پہلی صف میں مولوی اور آخری میں “وہی” ہوتے ہیں۔

مولوی ایسی تحریکوں کو شروع کرتے ہیں اور “وہ” انہیں ختم کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے خلاف اٹھنے والی تحریک کا اختتام ایوب خان کی مارشلائی حکومت پر منتج ہوئی تو بھٹو صاحب کے خلاف نظام مصطفی کے نام پر برپا ہونے والی مذہبی تحریک ضیائی مارشل لاء کا سبب بنی۔ طالبانی مذہبی تحریک کی وجہ سے مشرف نے ایک عشرہ ضائع کیا تو طاہر القادری کے کینیڈا سے ماڈل ٹاؤن میں ظہور اور خون خرابے کے صدقے موجودہ آدھا تیتر آدھا بٹیر حکومت ملی۔ اب مولانا فضل الرحمان اور انکی آزادی مارچ عرف تحفظ ناموس رسالت کی تحریک کے بدلے کیا ملے گا، زرداری اور نوازشریف جیلوں میں ہونے کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ سینیٹ میں سبکی اٹھانے کے بعد انکو قابل اعتماد ضمانتیں چاہیئے۔

انکو شک ہے کہ مولانا جس مارچ کے جرنیل ہیں اسکا کوئی اور سرخیل ہے۔ امریکہ میں حالیہ ہونے والی ملاقاتوں میں، کہیں کسی اور بندوبست پر اتفاق تو نہیں کیا گیا ہے؟ کیونکہ چاند تارے والوں کے ساتھ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے زیادہ بہتر تعلقات پانچ تارے کے وردی نشینوں کے ہوتے ہیں۔ سیاستدان ممکنہ مقاصد کے حصول کی خاطر، مذاکرات، امید اور مواقع پر کبھی اپنا دروازہ بند نہیں کرتا۔ یہاں چھوٹی چھوٹی لڑائیاں لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔ یہاں کوئی فیصلہ کن جنگ نہیں ہوتی۔ یہاں ٹیپو سلطان بھی بہادر شاہ کی طرح ناکام سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ملکر افہام وتفہیم اور لین دین کے ذریعے کاروبار چلتا ہے۔ صرف ڈکٹیٹر اپنے مخالفین کو جیل یا بیرون ملک بھیجتا ہے۔ سیاسی رہنما مخالفین کو سیاسی میدان میں ووٹ کے ذریعے شکست دیتا ہے کسی نادیدہ قوت کی شہہ یا ریاستی مشینری کی زور پر نہیں۔ مولانا فضل الرحمان بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کا ساتھ دے سکتے تھے، جیسے کہ انکے والد مفتی محمود نے ولی خان کا ساتھ دیا تھا،

تو کوئی وجہ نہیں کہ عمران خان کا ساتھ نہ دیتے۔ اگر عمران خان الیکشن کے بعد اپنے بچگانہ نعرے ترک کردیتا اور اپنے بیانئے میں تھوڑی گنجائش پیدا کرکے کہہ دیتے کہ دونوں سابقہ حکومتوں کا اتحادی ہونے کے باوجود مولانا نے کرپشن نہیں کی اس لئے ہمارے دروازے ان کیلئے کھلے ہیں، تو عمران خان کو ایک جہاندیدہ سیاستدان اور قابل اعتماد اتحادی مل جاتا۔

اگر مولانا مشرف جیسے ڈکٹیٹر کو ہر قسم کی مخالفت کے باوجود دوبارہ منتخب کرانے کیلئے ایم ایم اے کو توڑنے اور پختونخوا اسمبلی نہ توڑنے پر تیار ہوسکتے ہیں تو عمران خان کیلئے اللہ جانے کیا کچھ کر گذرتے۔ لیکن پی ٹی آئی کے نواردوں نے مولانا کے بغیر حکومت چلانے کا تہیہ کرکے، کرسی پرست لوٹے سیاستدانوں، دولت پرست کالم نگاروں اور ٹی وی اینکرز اور منافع خوش سرمایہ داروں کے ذریعے اکیلے سیاست کے طلاطم خیز دریا میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان اگر خود کو کسی کا راج دلارا سمجھتے ہیں تو مولانا کی پہنچ بھی ناقابلِ رسائی مقامات تک ہے۔

یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر عمران خان مدینے کی ریاست کے متمنی تھے تو اس کیلئے انکو مولانا کا ہاتھ تھامنا تھا، طارق جمیل کی وقتی پاور پلے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ مدینے والے اور تحفظ ناموس رسالت والے کے درمیان مفاہمت ہوتی مخاصمت نہیں۔ عمران خان کو مشورہ لینا ہوتا، مذاکرات کرنے ہوتے، کشمیر کا مسئلہ ہوتا یا حزب مخالف سے رابطہ کی ضرورت پڑتی، آئینی ‘چونکہ چنانچہ’ کیلئے درست اور مناسب الفاظ کا انتخاب مقصود ہوتا یا مذہبی حلقوں کو مطمئن کرنے کیلئے بیانیئے اور مناسب شخصیت کی صورت، مولانا سے بہتر کوئی نہیں تھا۔ کیونکہ مولانا ہی عمران خان کے فطری حلیف ہیں۔

انہیں مولانا کے ہوتے ہوئے کسی قریشی، ترین چوہان، یوسفزئی سنجرانی یا فردوس عاشق اعوان کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ زرداری ہوتے یا نوازشریف، اسفندیار ہوتے یا محمود خان اچکزئی، طالبان ہوتے یا کشمیری، ہر کسی سے مذاکرات، مکالمے اور رابطے کیلیے ایک مولانا کافی تھے۔ لیکن شاید عمران کا کردار لکھنے والوں نے انکے ساتھ کسی سائڈ ہیرو یا سپورٹنگ کردار کو لکھا ہی نہیں تھا۔ تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں آسانی سے ہینڈل کیا جاسکے۔ کشمیر کا “مسئلہ” حل کرنا تھا، ہوگیا۔ ایسے مسئلے حل کرنے کے لیے نیازیوں سے بہتر کون ہوسکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •