پورن اسٹار ایڈی اینڈریوز نے فحش فلموں میں اداکاری سے پہلے نو برس تک چرچ میں راہبہ کی زندگی گزاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے کیلیفورنیا میں 9 سال تک چرچ میں راہبہ کی زندگی گزارنے والی ایک خاتون پورن اسٹار بن گئی۔ حال ہی میں انہیں پینٹ ہاؤس میگزین نے پیٹ آف منتھ کے خطاب سے نوازا ہے۔ ایڈی ایڈمس نام کی خاتون 17 سال کی عمر میں چرچ سے منسلک ہو گئی تھی۔ ان کی پرورش بھی پیسیفک نارتھ ویسٹ میں رہنے والے ایک مذہبی کنبے میں ہوئی تھی۔

ڈیلی میل کی خبر کے مطابق ایڈی نے 9 سال تک راہبہ بن کر چرچ میں اپنی زندگی گزاری۔ وہ لاس اینجلس جا کر اداکارہ بننا چاہتی تھیں لیکن اس میں انہیں کامیابی نہیں ملی۔ ایڈی ایڈمس نے بتایا کہ وہ چرچ سے نکلنےکے بعد اداکارہ بننے گئی تھیں لیکن جب یہ پلان فیل ہوگیا تو وہ پورن انڈسٹری پہنچ گئیں۔ ایڈی کا کہنا ہے کہ ان کا مذہبی کنبہ بھی ان کے اس کیریر کی حمایت کرتا ہے کیونکہ وہ ایسے خوش رہتی ہیں۔

ایڈی نے چرچ کے قوانین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ راہبہ تھیں تب کئی قانون ہوا کرتے تھے۔ وہاں نہ صرف پری میریٹیل سیکس منع تھا بلکہ اسے سنگین گناہ سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جس قدر مذہب میں اترتی چلی گئیں۔ اپنی پہچان سے دور ہوتی گئیں۔

حال ہی میں اس پورن اسٹار کو مشہور پینٹ ہاؤس میگزین نے کور پیج پر شائع کیا ہے۔ ایڈی نے کہا کہ کیرئر کی شروعات میں فیملی نے ناراضی ظاہر کی لیکن بعد میں سبھی نے اسے قبول کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ لیٹر ڈے سینٹس چرچ سے جڑنے کے بعد انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ اپنی بہن کی شادی میں برائیڈس میڈ نہیں بن سکتیں کیونکہ اس کے لئے انہیں نیم برہنہ لباس پہننا ہوگا۔

ایڈی نے کہا “بالغ فلموں کی اداکارہ بن کر کام کرنا شروع میں ناگوار لگا لیکن اب میں ٹھیک ہوں۔ وہ اب بھی کبھی چرچ میں جمعے (فرائی ڈے) کی دعا نہیں چھوڑتیں۔ مستقل طور پر جمعہ اور سنیچر ،اتوار کو چرچ جاتی ہیں۔ تاہم انہوںنے بتایا کہ اعترافات کے دوران ہر مرتبہ ان کے پاس بتانے کیلئے کوئی دلچسپ بات ضرور ہوتی ہے’۔

ڈیلی میل کی مکمل خبر کے لئے ذیل کے لنک پر کلک کریں

https://www.dailymail.co.uk/news/article-7605195/Porn-star-tells-abandoned-Mormon-faith-work-adult-film-business.html

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •