قوم کو دیکھنا ہو تو اس کے بیت الخلا دیکھو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے سات ارب لوگوں میں سے چھے ارب کے پاس موبائل فون تو ہے، لیکن ڈھائی ارب کے پاس ٹوائلٹ (Toilet) کی سہولت نہیں ہے۔
یوں تو ٹوائلٹ اور موبائل فون میں کوئی مناسبت نہیں، دونوں قطعی الگ، الگ چیزیں ہیں۔ لیکن دست رس کی بات کریں تو حیران کن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام کے پاس ٹوائلٹ کم اور موبائل فون زیادہ ہیں۔ پاکستان دنیا کے اُن 10 ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے، جہاں کے شہری رفع حاجت کے لئے بیت الخلا کے بجائے غیر مناسب جگہوں کا استعمال کرتے ہیں۔
 دنیا بھر میں ۱۹ نومبر؛ “ورلڈ ٹوائلٹ ڈے” کے طور پر منایا جاتا ہے۔  ایک رپورٹ کے مطابق؛ پاکستان کے “11 کروڑ 10 لاکھ” افراد ایسے ہیں، جن کے پاس اپنا موبائل فون تو ہے، لیکن “چار کروڑ” لوگوں کو ٹوائلٹ کی سہولت میسر نہیں اور وہ رفع حاجت کے لئے کھلے مقامات، جنگلات یا کھیتوں کا استعمال کرتے ہیں۔
شہری علاقے جہاں پبلک ٹوائلٹ کی سہولت موجود ہے یا پھر دوران سفر اگر رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہو تو ہمیشہ ایک افسوسناک تجربہ ہوتا ہے۔ ہم لوگوں میں اس نہایت اہم سہولت سے مستفیذ ہونے کا شعور ہی نہیں ہے۔ ایسی مقامات کی عمومی حالت دیکھ کر شہری انتظامیہ تو کیا خود اپنا آپ بھی بطور ایک عام فرد کے اس گندگی کا ذمے دار محسوس ہونے لگتا ہے۔ جی ہاں اگرچہ اکثر مقامات پر موجود عوامی بیت الخلا کا احوال لکھنے کے قابل نہیں کہ اکثر تو پانی ہی نہیں ہوتا لیکن جہاں پانی ہوتا ہے، وہاں بھی بیت الخلا استعمال کرنے والے شاید پانی کے استعمال کو پانی اور وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔
مختلف جگہ کے عوامی بیت الخلا جانے کی اذیت برداشت کرنی پڑ جائے تو ہر بار نہ صرف نانی یاد آ جاتی ہے بلکہ نانی اماں کی بات بھی یاد آ جاتی ہے، جو وہ بہو تلاش مہم سے پہلے کہا کرتی تھیں کہ کسی گھر کے سلیقے اور صفائی ستھرائی کا معیار جانچنے کے لیے اس کا گھر، اور گھر کا ڈرائنگ روم نہ دیکھو، بلکہ اس کا کچن اور بیت الخلا دیکھو۔
یہ دو جگہیں جتنی صاف ہوں گی، سمجھ لو، اہل خانہ اتنے ہی سلیقہ شعار اور مہذب ہیں۔ یہ بات ایک قوم کے لیے بھی کہی جا سکتی ہے۔ کسی قوم کی تہذیب جانچنے کے لیے بھی شاید سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ ان کے عوامی بیت الخلا کا ایک سروے کر لیا جائے۔ اگر پاکستان میں اس طرح کا سروے کر لیا جائے تو ثابت ہو جائے کہ پاکیزگی کو نصف ایمان کہنے والی یہ قوم شاید اجتماعی طور پر نصف ایمان سے ہی محروم ہے۔ یاد رکھیے کہ پاکیزگی کا خیال رکھنا صرف اپنی ذات کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ معاشرتی زندگی گزارتے ہوئے دوسروں کو ذہنی و روحانی تکلیف سے بچانا بھی ہے۔
یہ مجلسی اور معاشرتی آداب کے تحت آتا ہے۔ اس لیے گھرسے بھی زیادہ پبلک بیت الخلا کو صاف رکھنا استعمال کنندہ کی قومی اور دینی ذمے داری ہے۔ یہ ذمے داری پوری کرنا بہت آسان ہے، ضرورت پوری کر کے اہتمام سے فلش کیا جائے اور باہر بیٹھے پیسے لینے والے صفائی کے ذمے داروں کو تنبیہ کر دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ کسی شخص کو ایسی ذہنی اذیت اٹھانی پڑے کہ وہ پھر کئی دنوں تک کسی جمالیاتی احساس سے ہی محروم ہو جائے۔ اس معاملے میں گورنمنٹ کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ ہر سال ورلڈ ٹوائلٹ ڈے کے موقع پر بیانات جاری کرنے کے بجائے کچھ عملی قدم بھی اٹھائے۔
تمام پبلک مقامات پر سہولتوں سے مزین بیت الخلا بنانا اور پھر ان کی مستقل صفائی اور دیکھ بھال کے لیے مناسب انتظام کرنا گورنمنٹ کی ذمے داری ہے۔ گورنمنٹ کو چاہیے کہ اس ضمن میں دنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کی مثال دیکھے کہ وہاں انسان کی اس بنیادی ضرورت کا کتنا موثر انتظام ہے۔ آسٹریلیا میں ہائی ویز پر ہر پچاس کلومیٹر پر ریسٹ روم موجود ہوتے ہیں اور ہر گیس اسٹیشن والے کے لیے لازمی ہے کہ وہاں بالکل صاف ستھرے واش روم ہوں، امریکا اور یورپ میں بھی پبلک مقامات پر پبلک ٹوائلٹ اور ان کی دیکھ ریکھ بہت ہی اعلیٰ ہوتی ہے، حتیٰ کہ مشرق بعید اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی صورت احوال برصغیر سے بہت بہتر ہے۔
حکومت کی ذمے داری تو خیر اپنی جگہ مگر ہمارے خیال میں پبلک پلیس پر صفائی ستھرائی کے معاملے میں پبلک پر کئی گنا زیادہ ذمے داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ گورنمنٹ آپ کو ایک چیز بنا کر تو دے سکتی ہے لیکن وہ لوگوں کو اس چیز کے استعمال کے بعد صاف رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتی اور ایسا بھی نہیں کہ عوام جانتے نہیں، یہ تعلیم و آگہی کی کمی کی بات نہیں یہ تو سراسر تربیت کی بات ہے۔ اس حوالے سے ایک دوسرا پہلو بھی قابل غور ہے، وہ یہ کہ صفائی اور پاکیزگی کا خیال صرف مادی طور پر ہی ضروری نہیں کہ گلیوں، سڑکوں، پارکوں اور عوامی واش رومز کو صرف ظاہری طور پر صاف ستھرا رکھا جائے بلکہ معاشرے کو اپنے ذہن و قلب کی آلائشوں سے محفوظ رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔
صفائی ستھرائی کے علاوہ ہمارے پبلک ٹوائلٹس دوسرے حوالے سے بھی نہایت بد نام ہیں۔ انتہائی فحش اشعار، اپنے مخالف سیاستدانوں کو ننگی گالیاں، مکروہ باتیں اور گندے مذاق ہماری پبلک کی اجتماعی ذہنی گراوٹ کی علامت ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ذہنی غلاظت سے بھرے افراد اپنی جسمانی گندگی ہی پھیلا کر نہیں جاتے بلکہ باطنی غلاظتیں بھی گویا در و دیوار پر انڈیل جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں بازاروں، مارکیٹوں حتی کہ بڑے ماڈرن شاپنگ پلازوں میں بھی ٹوائلٹ جیسی بنیادی انسانی ضرورت کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اکثر مرد ایسی جگہوں پر کونوں کھدروں اور دیواروں کے ساتھ رفع حاجت کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن خواتین کے لیے تو یہ لگژری بھی ممکن نہیں. اب اگرچہ جدید شاپنگ مالز کے نقشوں میں اس اہم مسئلے کو مد نظر رکھنے کا چلن شروع ہو چکا لیکن عوام کا صفائی کے متعلق عمومی رویہ بہت بے پروائی کا مظہر ہے، جس سے معاشرے کی بنیادی اخلاقی تربیت کے معیار کا پتہ چلتا ہے۔
اسی طرح عوامی مقامات پر جہاں ہزاروں لوگوں کی روزانہ آمد و رفت ہوتی ہے وہاں یا تو یہ سہولت موجود ہی نہیں لیکن اگر ہے بھی تو صفائی کے انتہائی ناقص انتظام کے باعث استعمال کے قابل نہیں ہوتی۔ یہی احوال سڑکوں، شاہراہوں پر موجود اکثر پبلک ٹوائلٹس کا ہے۔ اسی طرح عوامی مقامات پر جہاں ہزاروں لوگوں کی روزانہ آمد و رفت ہوتی ہے وہاں یا تو یہ سہولت موجود ہی نہیں لیکن اگر ہے بھی تو صفائی کے انتہائی ناقص انتظام کے باعث استعمال کے قابل نہیں ہوتی۔
اس رویے کو دیکھ کر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اصل مسئلہ تعلیم نہیں بلکہ تربیت کا فقدان ہے جس کی شروعات گھر سے ہوتی ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو صفائی کی اہمیت اور ان پر عائد ہونے والی معاشرتی پابندیاں بتانی چاہئیں اور بوقت ضرورت مناسب تنبیہ بھی کرنی چاہیے تاکہ کم ازکم اگلی نسل تو بحیثیت قوم ہمیں بد تہذیب ہونے کا طعنہ نہ دے۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •