برہنہ سچائی، جو کنویں کی تہہ میں جا چکی ہے
سرکاری سکول کی استانی جب بھی ذرا سستانے کے موڈ میں ہوتیں تو مجھے کلاس کے آگے کھڑا کر کے خود کہیں نکل جاتیں اور اگلے کئی گھنٹے کلاس کے سب بچے کورس کی شکل میں یہ نظم دہراتے رہتے۔ اردو کی پہلی یا دوسری کتاب میں اسمعیٰل میرٹھی کی وہ نظم مجھے آج تک یاد ہے، نظم تھی؛ ”سچ کہو ہمیشہ سچ“ جہاں سچ کے پرچار سے استانی صاحبہ کی انا کو تسکین ملتی، وہیں وہ اپنے ضروری و
Read more

