مولانا کے احتجاج سے کیا امکانی نتیجہ نکل سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمعیتِ علماء اسلام، مسلم لیگ نواز اورپیپلز پارٹی کے مشترکہ احتجاجی مارچ اور دھرنے کے کیا متوقع امکانات اور نتائج ہوسکتے ہیں؟ اور کون زیادہ فائدے میں رہے گا؟

لیکن اس سے پہلے کہ مارچ اور دھرنے کے مطالبات اور امکانات پر بات کی جائے، یہ کہنا مناسب ہوگا کہ جناب عمران خان صاحب چاہتے تو خود اپوزیشن سے متنازع امور پر بات چیت اور معاہدہ کرکےاس احتجاج کو روک سکتے تھے۔ اس کے برعکس مولانا اور دیگر بڑی پارٹیوں کو تنقید یا مذاق کا نشانہ بنا کر احتجاج کی طرف دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اور ان سے بات چیت تب شروع کی گئی جب اپوزیشن احتجاج کےلیے یکسو ہو چکی تھی۔

احتجاج کا جواز خود عمران خان صاحب اپنے طویل دھرنے سے مہیا کرچکے ہیں۔ مولانا اور خان صاحب کے احتجاج کا پس منظر، مطالبات اور ٹائمنگ ایک جیسے ہیں، تاہم تب پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے سوا حزب اختلاف کی تقریبا سب پارٹیاں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر دھرنے کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑی تھیں جبکہ اب حکومت تقریبا تنہا کھڑی ہے۔ یہ دیکھنا تاہم ابھی باقی ہے کہ کیا اس دھرنے کا انداز بھی سابقہ دھرنے جیسا ہوگا یا مختلف۔

مولانا کے مطالبات کیا ہیں؟

خان صاحب نے 2013 انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے بعد حکومت کو ناجائز قرار دیا اور وزیراعظم نواز شریف کےاستعفیٰ، قومی اسمبلی کی تحلیل اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔ مولانا 2018 کے انتخابات کے بعد یہی مطالبات پی ٹی آئی حکومت کے خلاف لائے ہیں۔ البتہ ان کے ساتھ اسلامی دفعات کا تحفظ بھی شامل کیا گیا ہے۔

وزیراعظم ظاہر ہے کسی دھرنے یا جلوس کے باعث استعفی دے تو یہ غیر آئینی، غیر قانونی اور انتہائی خطرناک نتائج کا حامل عمل ہوگا جس کے بعد کسی بھی حکومت کےلیے اپنی آئینی مدت پوری کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس لیے نہ تب نواز شریف نے فوری استعفیٰ دیا تھا اور نہ اب خان صاحب کو دینا چاہیے۔

اسلامی دفعات کے تحفظ کا نکتہ مولانا نے بظاہر دھرنے کو مذہبی جواز اور اپنے حلقہ اثر کو مطمئن کرنے کےلیے مطالبات میں شامل کیا ہے۔ اس پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ظاہر ہے کیا مذاکرات ہونے ہیں، بس حکومت کی طرف سے یقین دہانی سے یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔

تاہم حکومت کے جواز، اسمبلی کی تحلیل اور نئے انتخابات کے مطالبات کی جہاں تک بات ہے ان پر حکومت اور حزب اختلاف شاید کوئی مشروط معاہدہ، فیصلہ کرلیں کہ سابقہ دھرنے کی طرح ایک عدالتی کمیشن دھاندلی کی تحقیقات کےلیے قائم کیا جائے اور تحقیقات میں اگر پی ٹی ائی کے حق میں منظم دھاندلی ثابت ہوجائے تو وزیراعظم مستعفی ہوجائے اور قومی اسمبلی تحلیل کرکے درکار انتخابی اصلاحات کے بعد نئے انتخابات منعقد کیے جائیں۔ دوسری صورت میں احتجاج کرنے والے قوم سے معافی مانگیں اور تحریک ختم کر دیں۔

اس مشروط معاہدہ سے حکومت اور مولانا دونوں کو فیس سیونگ مل جائے گی۔ حکومت فوری استعفی سے بچ جائے گی جبکہ مولانا بھی فخر سے کہہ سکیں گے کہ حکومت کا مستقبل دھاندلی کمیشن کی تحقیقات سے منسلک/مشروط ہوگیا ہے۔

احتجاج کے امکانات ؟

احتجاجی مارچ اور دھرنے کے درج ذیل امکانات اور تضمنات ہوسکتے ہیں۔

1۔ حکومت اور حزب اختلاف مارچ کے حوالے سے کیے گئے تحریری معاہدے پر عمل کرلیتے ہیں اور احتجاج مقررہ جگہ پر ہوتا اور پرامن طور پر ختم ہو جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ حکومت اور حزب اختلاف دھاندلی کی تحقیقات کےلیے عدالتی یا پارلیمانی کمیشن بنانے کا معاہدہ کر لیتے ہیں اور تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں۔

تحقیقات میں اگر پی ٹی آئی کے حق میں منظم دھاندلی ثابت ہوجاتی ہے تو وزیراعظم مستعفی ہو جائے گا اور قومی اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ پی ٹی آئی کےلیے بہت بڑا سیاسی نقصان اور حزب اختلاف کےلیے بڑی اخلاقی فتح ہوگی۔ دوسری صورت میں پی ٹی آئی خوش مگر حزب اختلاف بدنام ہوگی۔ یہ ایک بہترین امکانی صورتحال ہے جس میں حکومت، حزب اختلاف اور ملک وقوم سب کا بھلا ہے۔

2۔ مارچ پرامن طور پر اسلام آباد پہنچ جاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے مارچ کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی۔ مولانا اور دیگر قائدین تقاریر کر لیتے ہیں، حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھ لیتے اور انہیں حل کرنے کےلیے مناسب وقت دے دیتے ہیں اور پرامن طور پر منتشر ہوجاتے ہیں۔ اس امکانی صورت حال میں بھی حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو بااترتیب مسائل حل کرنے اور مزید تیاری کے لیے وقت مل جائے گا۔ مولانا اس امکانی صورت حال میں بھی سب سے زیادہ فائدے میں رہیں گے۔

3۔ مولانا لاکھوں کارکنان کے ساتھ اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں مگر وہاں سے رخصت ہونے کے بجائے دھرنا دینے کا اعلان کردیتے ہیں تاکہ حکومت کو اپنے مطالبات قبول کرنے پر مجبور کر سکیں۔ فرض کریں وہ خان صاحب کے مشہور دھرنے کی طرح ریڈ زون آجاتے ہیں اور یہ سلسلہ طویل ہوجاتا ہے تو پھر عدلیہ، حکومت اور سیکورٹی اداروں کا طرزعمل کیا ہوگا؟ اور اگر وہ مقررہ جگہ پر دھرنا دیتے ہیں تو پھر ان کا رویہ کیا ہوگا؟ ان حالات میں وزیراعظم صاحب کیا ان سے خود بات کرنے کےلیے تیار ہوں گے؟ اس امکانی حالت میں بھی مولانا سیاست اور میڈیا پر چھائے رہیں گے جبکہ حکومت مولانا کے اگلے پلان پر مسلسل دباو میں رہے گی۔ مگر زیادہ امکان یہی ہے کہ مولانا سردی اور متوقع مشکلات و خطرات کے پیش نظر سرے سے دھرنا یا لمبی مدت والے دھرنے سے اجتناب ہی کریں گے۔

4۔ مارچ اور دھرنے پر تاحال اسلام آباد انتظامیہ اور جے یو آئی کے درمیان ہوئے معاہدے کے علاوہ ابھی تک کسی دوسرے صوبے میں فریقین کے درمیاں مارچ کو پرامن اور رواں رکھنے کا کوئی معاہدہ میرے علم میں نہیں۔ وزیر اعظم صاحب حزب اختلاف سے خود رابطے اور مذاکرات کے لیے تیار نہیں جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے ابھی تک مارچ کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ باالفرض مارچ کے لیے آنے والے قافلوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں یا احتجاج کسی بھی فریق کی وعدہ خلافی، غلطی، غلط فہمی، غفلت، کوتاہی اور سازش یا کسی دہشت گرد حملے سے پرتشدد بن جاتا، مالی و جانی نقصان ہوتا اور امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے تو حکومت اور حزب اختلاف کے مابین سڑکوں اور چوراہوں پر جو “مقابلے” ہوں گے، ان سےجمہوریت کو نقصان پہنچے گا اور عالمی سطح پر ملک کی بدنامی ہوگی جبکہ راستوں کی بندش سے لوگوں کو شدید مشکلات پیش آئیں گی اور مہنگائی کا سیلاب آئے گا جن سے حکومت بدنام ہوگی۔

سوال یہ ہے نفرت، اناپرستی اور انتقام کے اُس ماحول میں فریقین کو میز پر کون بٹھائے گا؟ ہیئت مقتدرہ کا ردعمل کیاہوگا؟ کیا وہ غیر جانبدار رہے گی، مذاکرات کروائے گی یا حکومت کے حکم پر احتجاج کرنے والوں سے نمٹے گی؟ کیا ایک دفعہ پھر فوجی حکومت قائم ہو جائے گی یا عدلیہ اس کے راستے میں رکاوٹ بنے گی؟ ہنگاموں، ہرتالوں، نفرت، انتشار، طاقت کے ممکنہ استعمال اور نتیجتاً مالی و جانی نقصان سے عبارت یہ ایک خوفناک امکانی نتیجہ اور صورت حال ہوگی جو ملک اور قومی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگی۔

کیا اس امکانی صورت حال سے بچنے، اشیاء ضرورت کی قلت اور مہنگائی کو روکنے اور تجارت و معیشت کو درپیش ممکنہ نقصان سے بچانے کےلیے حکومت نے کوئی تیاری کی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •