وہ کہاں ہیں جن کے کاندھوں پر قومی مفاد کا جنازہ دھرا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد ہائی کورٹ نے طویل سماعت، درجنوں سوالوں، وزیر اعلیٰ پنجاب، نیب، شہباز شریف کے وکیلوں اور ڈاکٹروں کی گفتگو سننے کے بعد نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں آٹھ ہفتے کی ضمانت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا گیا کہ اس مدت میں توسیع کے لئے حکومت پنجاب سے رجوع کیا جائے۔ کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ ان آٹھ ہفتوں میں نواز شریف کی صحت اور ملکی سیاست کی کیا صورت حال ہوگی ۔ وزیر اعظم گزشتہ روز کندھے اچکاتے ہوئے یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ کسی کی زندگی کی ضمانت نہیں لے سکتے۔

ملک کا نظام اور اعلیٰ عدالت یہ سلوک ایک ایسے شخص کے ساتھ روا رکھنے پر ’مجبور‘ ہے جو تین بار ملک کا وزیر اعظم رہا ہے اور وہ ایک ایسے جج کی دی ہوئی سزا بھگتنے کے لئے جیل میں بند ہے ،جسے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ’تمام ججوں کے لئے باعث شرم‘ قرار دے چکی ہے۔ اس کے باوجود انصاف کا پتھر دل پگھلتا نہیں ہے بلکہ انصاف کا ڈولتا ترازو تھامے آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت میں جج حضرات یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ آخر پنجاب حکومت کیوں نواز شریف کو رہا کرنے کا فیصلہ نہیں کرتی۔ ہفتہ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی پنجاب اور وفاقی حکومت کے نمائیندوں سے یہی جواب مانگتے رہے تھے۔ آج یہ ذمہ داری جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے پوری کی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب بنفس نفیس عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ خود وکیل ہیں ، اس لئے وہ عدالتی طریقہ اور جیلوں کی حالت سے آگاہ ہیں بلکہ وہ ملک کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں کہ جس جگہ بھی جاتے ہیں وہاں جیل کا دورہ ضرور کرتے ہیں۔ ان کی نگرانی میں حکومت پنجاب 600 قیدیوں کو رہا کرچکی ہے۔ تاہم جب ہائی کورٹ کا یہ سوال سامنے آیا کہ ’حکومت پنجاب نواز شریف کی علالت کی وجہ سے ان کی رہائی کی ذمہ داری کیوں قبول نہیں کرتی‘ تو ان کے پاس اس کا صرف یہ جواب تھا کہ پنجاب حکومت نواز شریف کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کررہی ہے۔

ڈاکٹروں نے سروسز ہسپتال لاہور میں داخل نواز شریف کی حالت کو تشویشناک اور پریشان کن قرار دیا ہے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو ڈاکٹروں کی نیت یاقابلیت پر شبہ نہیں ہے لیکن یہ میڈیکل بورڈ خود کہہ رہا ہے کہ وہ مریض کو ’مینیج‘ کرنے میں کامیاب نہیں ہورہا۔ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہوں نے کبھی نواز شریف کو اس قدر بری حالت میں نہیں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ نواز شریف کی بیماری کی مکمل تشخیص کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

الیکٹرانک میڈیا کے سورما ایک طرف ڈیل ہونے اور نوز شریف کی طرف سے کئی ارب ڈالر ادا کرکے رہائی پانے کی خبریں کھوج کھوج کر سامنے لارہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کپتان نے عوام سے کئے ہوئے ہر وعدے کی طرح ،اس وعدہ کو بھی سو فیصد پورا کیا ہے کہ ’لوٹ کا مال لئے بغیر کسی کی جان نہیں چھوٹے گی‘ لیکن ہسپتال و نواز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ سوال درپیش نہیں ہے کہ انہیں بیرون ملک لے جایا جائے یا کسی دوسرے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ بلکہ ان کی طبی حالت کو مستحکم کرنا بنیادی ضروت اور پریشانی ہے۔ خبر ہے کہ نواز شریف جسمانی و طبی لحاظ سے اس قدر لاغر اور کمزور ہیں کہ انہیں کسی دوسرے ہسپتال منتقل کرنا بھی ممکن نہیں ہے، بیرون ملک بھیجنا تو دور کی بات ہے۔

تاہم ’باخبر ‘ ذرائع تسلسل سے یہ اطلاعات لا رہے ہیں کہ نواز شریف کا بیرون ملک جانا بہت ضروری ہے لیکن وہ خود اس طرف راغب ہونے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ پاکستان میں رہ کر ہی اپنا مقدمہ لڑیں گے اور یہیں پر علاج کروائیں گے۔ ان سے منسوب یہ بات بھی منظر عام پر آئی ہے کہ ’میں نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے‘۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک سفر پر راضی کرنے کے لئے پہلے ان کے بھائی شہباز شریف المشہور اسٹیبلشمنٹ دوست، کو یہ ٹاسک دیا گیا تھا جنہوں نے اس نیک کام میں اپنی والدہ اور خاندان کی دیگر خواتین کو بھی شامل کرلیا۔ تاہم نواز شریف کا جواب فی الوقت یہی تھا کہ ’کیا لندن میں موت کا فرشتہ نہیں آتا، میں نے اگر صحتیاب ہونا ہے تو یہیں ہوجاؤں گا‘۔ لگتا ہے کہ نواز شریف کا بیرون ملک سفر ان کی اپنی ضرورت و صحت سے زیادہ ملکی سیاست کے درجہ حرارت کو کم کرنے اور حکومت کی لائف لائن کے لئے ضروری ہے۔

ان دونوں کو مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے بھی شدید اندیشہ ہے۔ یہ مارچ کراچی سے روانہ ہؤا، سکھر اور ملتان سے ہوتا ہؤا کل صبح تک لاہور پہنچ جائے گا جہاں سے روانہ ہوکر اسے جمعرات کو اسلام آباد میں داخل ہونا ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں سے روانہ ہونے والے قافلے بھی اسلام آباد داخل ہوتے ہوئے مولانا کی قیادت میں پہنچنے والے بڑے جلوس کا حصہ بن جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کی حکومت نے شاہراہیں بند کرکے آزادی مارچ کے جنونیوں کا جوش کچھ کم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پشاور ہائی کورٹ نے اس خواہش کو پورا ہونے سے پہلے ہی نامکمل رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمیعت علمائے اسلام کے لیڈر حافظ حمدللہ کی شہریت منسوخ کرنے کے لئے نادرا کا حکم معطل کردیا ہے ۔ یہ حکم مولانا فضل الرحمان کے اس اعلان کی گونج سمجھا جائے گا کہ ’شہریت منسوخ کرنے کے فیصلہ کو ہم جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں‘۔ اگرچہ یہ خبر نہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں پیمرا بھی الیکٹرانک میڈیا کو جاری کئے گئے اپنے اس حکم نامہ پر نظر ثانی کرے گا کہ حافظ حمدللہ چونکہ ’اجنبی یا غیر ملکی ‘ ہیں، اس لئے انہیں کسی ٹاک شو میں مدعو نہ کیا جائے۔ البتہ یہ امید کرنا عبث ہو گا کہ میڈیا کی سہولت کار جو اتھارٹی ٹی وی اینکرز سے تبصرہ کرنے کا حق سلب کرنے کا اعلان کررہی ہے، وہ حافظ حمدللہ جیسے ’مشکوک‘ شخص کو ایک عبوری عدالتی حکم کے بعد حکومت مخالف بیان بازی کی اجازت دے دے گی۔

اداروں کو خود مختار بنانے کی حامی حکومت اس وقت اداروں کی پناہ میں ہے۔ نیب حکومت مخالف سیاست دانوں کو چن چن کر منظر نامہ سے ہٹانے کے کام پر مامور ہے اور جو لوگ اس طرح زد میں نہیں آسکے، ان کی آواز بند کرنے کے لئے دیگر ادارے فعالیت کے مثالی نمونے پیش کررہے ہیں۔ قوم کو داخلی اور خارجی محاذ پر جس بحران کا سامنا ہے، اس سے نمٹنے کے لئے پیمرا نام نہاد آزادی رائے کی درستگی کا فریضہ پوری مستعدی سے ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ سپریم کورٹ اپنے ہی جج کی یہ دہائی سننے میں مصروف ہے کہ اس کی اور اس کے اہل خاندان کی غیر قانونی نگرانی کی گئی تھی جس کی بنیاد پر ان کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیا گیا تاکہ ایک ’برے‘ جج سے تو جان چھوٹے۔ اور وزیر اعظم تو یہ اعلان کر ہی چکے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں کیوں کہ فوج ان کی پشت پر ہے۔

ملک کی عمومی سیاسی، سماجی اور معاشی صورت حال پر اگر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو یہ ساری کوششیں بار آور ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں وزیروں و مشیروں کی فوج اس وقت آزادی مارچ کے بھوت سے نمٹنے اور بدعنوان سیاست دانوں کے گٹھ جوڑ کو ناکام بنانے کے لئے پوری تن دہی سے بیان بازی میں مصروف ہے۔ لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جس طرح معیشت دعوے کرنے سے درست نہیں ہوتی اسی طرح سیاسی معاملات بیان دینے اور الزام لگانے سے طے نہیں ہوسکتے۔ اس کے لئے زبان کو دانتوں میں دبا کر دماغ کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

نواز شریف کی بیماری ہو یا آزادی مارچ کا ہنگامہ، کسی ایسے ملک میں ان کی وجہ سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہونی چاہئے جہاں کوئی بھی نظم حکومت کسی قاعدے کے تحت کام کررہا ہو۔ نواز شریف ایک بیمار اور لاغر مریض ہے جسے عدالت اپنے سارا اختیار بروئے کار لاکر ہر عہدہ اور ہر اعزاز سے محروم کرچکی ہے۔ پھر بھی ان سے منسوب ایک ایک لفظ ملکی سیاست کو تہ و بالا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس وقت ہسپتال کے بستر پر بے بس لیٹے ہوئے نواز شریف کی سانس کے ساتھ حکومت وقت ہی کی نہیں، اس کا انتظام کرنے والے ان تمام عناصر کی زندگی اور امیدوں کی ڈور بندھی ہے جو ملک میں سرزد ہونے والے سارے جرائم کا پنڈارا نواز شریف اور آصف زرداری کے سر پر لاد کر قومی مفاد کے تقدس کی حفاظت کا اہتمام کررہے تھے۔

سوچنا چاہئے کہ ملک میں اس وقت گلی کوچوں سے لے کر ٹی وی ٹاک شوز تک اور طاقت کے مراکز سے لے کر حکمرانوں کے ڈرائینگ رومز تک میں جو ہنگامہ بپا ہے کہیں یہ اسی قومی مفاد کی مردہ لاش کا نوحہ تو نہیں جسے نوچنے کے لئے یہ سارے فریق اکٹھے ہوئے تھے۔ اور اب اس کی موت پر ایک دوسرے کو الزام دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ جواب تو اس سوال کا بھی چاہئے کہ وہ کہاں ہیں جن کے کاندھوں پرقومی مفاد کا جنازہ دھرا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1309 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali