نواز شریف کی صحت اور مولانا کا آزادی مارچ: حکومت چکی کے دو پاٹوں میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میاں نواز شریف العزیزیہ ریفرنس میں ملنے والی سزا کے دن لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں خاموشی سے پورے کر رہے تھے۔ کبھی کبھار کسی ملاقاتی کی زبانی ان سے منسوب بیان سامنے آ جاتا تو توجہ دوبارہ ان کی طرف ہو جاتی۔ ورنہ لیگی رہنما تو نیویں نیویں رہ کر اپنی کھال بچانے کی فکر میں تھے ہی متوالے بھی حالات سے سمجھوتا کر چکے تھے۔ اچانک مگر نیب نے یہ کہہ کر کہ شریف فیملی سے دوران تفتیش نواز شریف کے چوہدری شوگر مل کیس میں بینی فشری ہونے کے شواہد ملے ہیں، احتساب عدالت میں نواز شریف کو تحقیقات کے بہانے حراست میں لینے کے لیے درخواست دائر کر دی۔

حیرت انگیز طور پر نیب کو اس کی اجازت بھی فورا مل گئی۔ پھر نیب کی تحویل میں ہی میاں نواز شریف کی طبیعت تشویشناک حد تک خراب ہو گئی اور انہیں ہنگامی بنیادوں پر ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ میاں صاحب کی ناسازی طبیعیت کی خبریں جب سوشل اور ریگولر میڈیا کے ذریعے ان کے چاہنے والوں اور عوام تک پہنچیں تو ملک میں تشویش و اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ ابتدا میں حکومتی ذمہ داروں کے بیانات اسی سفاکی و غیر ہمدردانہ جذبات سے لبریز تھے جس کی ان سے توقع ہونا چاہیے۔

لیکن جب عوام کے بدلتے ہوئے تیور دیکھے اور صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا تو نہ صرف وزراء کی زبانیں متوازن ہونا شروع ہوئیں بلکہ ان کے ہاتھ پیر بھی پھول گئے۔ اس کایا پلٹ کی وجہ یہ تھی کہ اگر خدانخواستہ میاں صاحب کو کچھ ہو گیا تو عوامی غیظ و غضب کا جو طوفان کھڑا ہو گا اس کا سامنا کیسے کیا جائے گا اور خمیازہ کون بھگتے گا۔ اس خوف نے میاں صاحب کے لیے حالات یکسر تبدیل کر دیے۔ وہی عمران خان جن کی زبان پر ”حکومت جاتی ہے تو جائے کسی کو این آر او نہیں دوں گا اور چوروں لٹیروں کو نہیں چھوڑوں گا“ کا ورد صبح شام ہوا کرتا تھا یہ کہنے کو مجبور ہوئے کہ نواز شریف کو کچھ ہوتا ہے تو میری ذمہ داری کس طرح ہو گی؟

لوگ کیسے بھول سکتے ہیں کہ امریکا کے دورے میں وہ خود جیل سے اے سی اتروانے کا اعلان کر کے آئے تھے اور کابینہ کے اجلاس میں چند روز قبل تک سیاسی قیدیوں کو سی کلاس میں رکھنے کے بارے مشاورت ہو رہی تھی۔ بعدازاں اسی حکومت اور نیب کے نمائندے نے جو مخالفین کو جائز سہولت تک دینے کی روادار نہ تھی، جان کے لالے پڑے تو لاہور اور اسلام آباد ہائیکورٹس میں ضمانت کی مخالفت تک نہ کی۔

میاں صاحب کو مناسب طبی سہولیات فراہمی سے متعلق فیصلہ خالصتا انتظامی نوعیت کا معاملہ تھا اسے عدالت تک نہیں پہنچنا چاہیے تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نظام عدل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر یقین پہلے ہی متزلزل ہے۔ عدالت کے فیصلے ایک نظیر ہوتے ہیں اور اس حوالے سے بھی اگر دہرے معیار کا تاثر قائم ہو گیا تو اس کے نتائج ملکی یکجہتی کے لیے خطرناک ہوں گے۔ چوہدری شجاعت حسین صاحب کی اس حوالے سے تشویش جائز ہے اور عمران خان کو سیاسی مسئلے عدالت سے باہر سلجھانے کا مشورہ بالکل بجا ہے۔

مسئلہ مگر یہ ہے کہ پچھلے چند سالوں سے تحریک انصاف نے نفرت و تعصب پر مبنی جس سیاسی کلچر کو فروغ دیا ہے اور جس قسم کی نئی پود تیار کی ہے اس کی موجودگی میں یہ اس کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت کو مولانا فضل الرحمن کی زیر قیادت آزادی مارچ کی صورت ایک اور سیاسی مسئلہ درپیش ہے۔ حکومت نے اس مسئلے کو بھی سیاسی انداز سے سلجھانے کے بجائے پہلے فرشتوں سے مدد چاہی مگر کام نہ بنا تو اب احتجاج کے بارے عدالت کے سابقہ فیصلے دکھا کر کام چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس قضیے کو ڈیل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا اس کے لیے بھی کسی ادارے کو آگے آنا پڑے گا۔

احتجاجی تحاریک میں سب سے خطرناک وہ ہوتی ہے جو سیاسی یا معاشی جبر کے خلاف ہو۔ مولانا صاحب نہایت دانشمند اور زیرک ہیں۔ اگرچہ وہ ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں لیکن انہوں نے اپنی تحریک کے لیے مذہب کارڈ بالکل استعمال نہیں کیا۔ حالانکہ ان پر الزام تھا کہ وہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کریں گے اور ڈھال کے طور پر مدارس کے بچے ان کے ساتھ ہوں گے۔ یہ دونوں باتیں غلط نکلیں نہ تو کوئی مذہبی مطالبہ ان کے بیانیے کا مرکزی حصہ ہے اور نہ ہی کوئی نا بالغ ان کا شریک سفر۔

ان کی تحریک خالصتا عوام کے معاشی استحصال اور سیاسی جبر کے خلاف جد و جہد پر مبنی ہے۔ باقی رہی ٹائمنگ کی بات۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخاب سے قبل مقبولیت کا جو بت تراشا گیا تھا وہ تو بہت پہلے ہی بیڈ گورننس کی وجہ سے دھڑام سے گر گیا تھا۔ دو خاندانوں کی کرپشن کو معاشی مصائب کی وجہ قرار دینے والے پراپیگنڈے کی حقیقت بھی خلق خدا نے دیکھ لی۔ پچھلوں کے قرضے کا شور مچا کر کی گئی مہنگائی سے آج عوام کی حالت ابتر ہے۔ لوگوں کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ صحافی، اساتذہ اور ڈاکٹرز بھی حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ تاجر اور صنعتکار سراپا احتجاج ہیں اور ملک گیر ہڑتالیں ہو رہی ہیں۔

مولانا صاحب کو آج سے قبل محض ایک مذہبی جماعت کا سربراہ تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن عاقبت نا اندیش حکومت نے اپنی حرکتوں سے اتنی مختصر مدت میں انہیں مذکورہ تمام طبقات کی تائید دلوائی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بھی اس وقت ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ مولانا صاحب کی حکمت عملی بھی نہایت شاندار ہے۔ انہوں نے اب تک قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوئی بات نہیں کی اور وہ اپنے ساتھ شریک جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے کر چل رہے ہیں۔

اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے اعلی عدالتوں کے فیصلوں کی صورت میں ہدایات موجود تھیں۔ ڈی چوک کے بجائے پشاور موڑ پر اتفاق بھی قانون کے احترام میں رہبر کمیٹی میں شامل تمام جماعتوں کی باہمی مشاورت سے کیا گیا۔ مولانا صاحب اپنی طرف سے نہایت احتیاط اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی نوعیت کے سب سے بڑے مجمع کو پر امن انداز میں چلاتے ہوئے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔

بال اب حکومت کے کورٹ میں ہے اور حالات کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے۔ مولانا صاحب تو انتظامیہ کے ساتھ معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں حکومت کو بھی اپنی کمٹمنٹ پوری کرنی چاہیے۔ ویسے بھی نقل و حرکت، آزادی رائے اور احتجاج آئین کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور حکومت اسے یقینی بنانے کی ذمہ دار ہے۔ خود تحریک انصاف بڑی بے دردی سے پچھلے دور میں ان ”حقوق“ کا استعمال کر چکی ہے۔ یہ بتانے کی بات نہیں کہ گرفتاریوں، جھوٹے مقدمات اور اوچھے ہتھکنڈوں سے کوئی عوامی تحریک نہیں دبائی جا سکتی۔

حافظ حمداللہ صاحب کی شہریت منسوخی اور مفتی کفایت اللہ صاحب کی گرفتاری جیسے اقدامات اشتعال میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ اس وقت تمام ادارے بلاشبہ ایک پیج پر ہیں لیکن، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ملکی تاریخ میں جب بھی حالات نے پر تشدد رنگ اختیار کیا تو اداروں نے نہ صرف عوام کے دوبدو ہونے سے انکار کیا بلکہ حمایت سے ہاتھ بھی کھینچ لیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •