نوازشریف کی سزا معطلی: اٹارنی جنرل انور منصور عدالتی کارروائی پر سخت ناخوش


اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کا کہنا ہے کہ اگر نوازشریف کو اس حالت میں ضمانت مل سکتی ہے تو جیل میں موجود ٹی بی یا کینسر کے مریضوں کو کیوں نہیں مل رہی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطلی اور ضمانت کیلئے دائر ہنگامی درخواست پر عدالتی کارروائی پر انور منصور کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی جیسے چلی، مجھے اس پر افسوس ہوا۔

انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا کہ نوازشریف پنجاب حکومت کی تحویل میں ہیں، فیڈریشن کو نوٹس ملا نہ ہی وفاقی حکومت اس کیس میں فریق تھی، کیس سے متعلق حکومت کو علم ہی نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دوپہر دو بجے نوٹس ملا کہ چار بجے پیش ہو جائیں، نوازشریف کے کیس میں نیب فریق تھی لیکن ہمارے افسر سے کہا گیا کیا آپ گارنٹی دیں کہ منگل تک نوازشریف کا انتقال نہیں ہو گا؟ زندگی اور موت کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا۔

انور منصور کے مطابق ہم کیس میں فریق نہیں، اگر نوٹس آیا تو عدالت جائیں گے، کیس میں ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اگر نوازشریف کو اس حالت میں ضمانت مل سکتی ہے تو جیل میں ٹی بی یا کینسر میں مبتلا شخص کو کیوں نہیں مل رہی؟ نواز شریف کے لئے شریف میڈیکل سینٹر سے ڈاکٹرز آتے تھے۔

Facebook Comments HS