سانحہ ساہیوال: یہ خون خاک نشیناں تھا، رزق خاک ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی آٹھ ماہ قبل 19 جنوری 2019 کو پورا پاکستان ایک لرزہ خیز واردات کی خبر سے سکتے میں آگیا۔ ایک ہنستا بستا خاندان شادی کی کسی تقریب میں شرکت کے لئے گھر سے روانہ ہوا۔ ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر پنجاب پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کے چھ اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو روکا اور گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ میاں بیوی اور ان کی ایک بچی کے ساتھ ڈرائیور کو بھی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے بھون دیا گیا۔ کسی نے فرار ہونے کی کوشش نہ کی ۔ کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا کہ وہ جوابی فائرنگ کرتا۔ ادنیٰ سی مزاحمت بھی نہ ہوئی۔ نام نہاد پولیس مقابلے کے باوجود کسی پولیس اہلکار کو خراش تک نہ آئی۔ واقعے کی تفصیلات نے پورے ملک میں ایک آگ سی لگا دی۔ میڈیا نے اس سفاکی پر شدید تنقید کی۔ حکومتی موقف آیا کہ گاڑی میں کسی دہشت گرد کی اطلاع ملی تھی۔وہ دہشت گرد کون تھا اور کہا ں گیا، کچھ پتہ نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اس وقت قطر کے دورے پر تھے۔ انہیں اس سانحے کی اطلاع ملی تو انہوں نے وہیں سے ٹویٹ کیا کہ وہ وطن واپس آتے ہی قاتلوں کو نمونہ عبرت بنا دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں عوام کے غم و غصے کو اچھی طرح سمجھتا ہوں اور اس طرح کی خون ریزی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اب اس خونریزی کے تقریبا آٹھ ماہ بعد خبر آئی ہے کہ چار افرا د کے بہیمانہ قتل کے نامزد ملزم چھ کے چھ اہلکار بری کر دئیے گئے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پچاس سے زائد گواہوں کی شہادتیں قلمبند کیں۔ جج نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے ملزموں کو بریت کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا۔ پاکستان کے لوگ سوچ رہے ہیں کہ دن دیہاڑے چار معصوم انسانوں کے جسم بیسیوں گولیوں سے چھلنی کرنے والے قاتل کون تھے؟ اگر کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے تمام اہلکار جنہوں نے موقع پر موجودگی سے بھی انکار نہیں کیا تھا، قاتل نہیں تو گولیاں برسانے والے کہاں غائب ہو گئے؟ جس طرح 19 جنوری 2019 کا دن ظلم اور لاقانونیت کے حوالے سے کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا۔ اسی طرح 24 اکتوبر 2019 کا دن بھی ہماری تاریخ میں قانون و انصاف کے ناقص نظام کے حوالے سے دیر تک یاد رکھا جائے گا۔ جنوری 2019 میں ایک خاتون اور بچی سمیت چار انسانوں کا خون بہا تھا تو اکتوبر 2019 میں یقینا انصاف کا خون ہوا ہے۔

لگتا یہ ہے کہ جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا مقدمہ اتنا ناقص اور کمزور تھا کہ وہ ملزموں کو بری کرنے پر مجبور کر دئیے گئے۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس کھیل میں حکومت ہی نہیں ریاست بھی شامل ہو گئی۔ پہلے تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون نے شکوک و شبہات پیدا کیے۔ پھر پولیس نے اپنے پیٹی بند بھائیوں کے خلاف ایف آئی آر، تفتیش اور چالان میں اپنے روایتی کردار کا مظاہرہ کیا۔ ریاست اور حکومت بھی وزیر اعظم کے واضح اعلان کے برعکس اس کوشش میں لگ گئی کہ ملزموں پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔ اس مقصد کیلئے پانچ کروڑ روپے کی بڑی رقم، پانچ لواحقین میں تقسیم کی گئی اور انہیں قاتلوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرنے کیلئے کہا گیا۔ یہ کوئی با قاعدہ قصاص اور دیت یا لواحقین کی طرف سے معافی دینے کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ ساری کاروائی پس پردہ کی گئی اور بظاہر مقدمہ اپنے معمول کی رفتار سے چلتا رہا۔ منصوبے کے عین مطابق لواحقین اور گواہ اپنی گواہیوں سے منحرف ہو گئے یا بیانات کو جان بوجھ کر مشکوک بناتے گئے۔ مقتولین کے وکیل کا بھی کہنا ہے کہ جب مدعی خود کمزور پڑ جائے اور پیسہ لے کر اپنا مقدمہ بگاڑ دیں تو وکیل کیا کر سکتا ہے۔

اس افسوس ناک کہانی سے نہ صرف پاکستان کے عوام کا قانون و انصاف کے عمل پر اعتماد مزید کمزور ہو ا ہے بلکہ قانون کو ہاتھ میں لینے اور انسانی جانوں سے کھیلنے والے اہلکاروں کا حوصلہ بھی بڑھا ہے۔ یقینا دنیا کے لئے بھی ہمارے حوالے سے یہ کوئی اچھی خبر نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس صلاح الدین کا بھی ذکر ہونا چاہیے جو ایک اے۔ ٹی ۔ایم سے کارڈ چرانے یا مشین توڑنے کے الزام میں پولیس کے ہتھے چڑھا اور مبینہ طور پر پولیس نے تشدد کر کے اسے مار ڈالا۔ وہاں بھی پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ وہاں بھی میڈیا نے بہت واویلا کیا۔ وہاں بھی عوام میں غم و غصے کی ایک شدید لہر تھی۔ لیکن اب پتہ چلا کہ مقتول کے والد نے تمام قاتلوں کو ” اللہ کی رضا” کیلئے معاف کر دیا۔ ” اللہ کی اس رضا” کے حصول کیلئے مقتول صلاح الدین کے مظلوم والد کو کس نے کتنی ادائیگی کی، اس کا کچھ پتہ نہیں۔ لیکن اس معاملے میں بھی قانون اور انصاف کے نظام کا کوئی اچھا تاثر قائم نہیں ہوا۔

دنیا نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے لیکن ہمارے ہاں سب کچھ ایسے بے ڈھنگے انداز سے چل رہا ہے کہ بعض اوقات شدید بیزاری کی لہر اٹھتی ہے اور لوگ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا ہم واقعی کسی مہذب ریاست کے با شندے ہیں؟ کیا آئین کے اندر جو کچھ لکھا ہے اور بنیادی حقوق کے حوالے سے جو ضمانتیں دی گئی ہیں، عملی دنیا میں بھی ان کی کوئی جھلک موجود ہے؟ اب تو اس ریاست کو جو ” اسلامی” بھی ہے اور ” جمہوریہ” بھی، ریاست مدینہ سے تشبیہ دی جانے لگی ہے۔

لیکن قانون یہاں موم کی ناک ہے اور انصاف کے عمل کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی بھی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس ملک کا اندازہ کریں ، جہاں ایک شخص کو بیس سال کی قید مشقت کا ٹنے کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سے فیصلہ ملتا ہے کہ وہ بے گناہ تھا۔ ان بیس برسوں میں اس پر کیا گزری اور اس کے اہل خانہ، عزیز، رشتہ دار کس عذاب سے گزرے، اس کا حساب کون دے گا۔ یہاں تو ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کوئی شخص قتل کے الزام میں قید ہوا۔ برسوں بعد اسے پھانسی چڑھا دیا گیا اور عدالت عظمی کا فیصلہ آیا کہ وہ بے گناہ تھا۔

جب گولیاں چلانے اور معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والے بھی قانون کی موشگافیوں سے، ریاست اور حکومت کی اپنی چالوں کے ذریعے بے گناہ قرار پا کر بری ہو جائیں اور پہلے کی طرح پھر سے بندوقیں اٹھائے شکار کھیلنے لگیں تو عام آ دمی کے جان و مال کی کیا ضمانت ہے؟ پاکستان کو قائم ہوئے بہتر سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن قانون اور انصاف کے معاملے میں ہم آگے جانے کے بجائے پیچھے کی طرف لڑھک رہے ہیں۔ پولیس کے نظام میں اصلاح محض نعرہ بن کے رہ گئی ہے۔ قانون اور انصاف کے عمل میں حقیقی اصلاحات کسی کی ترجیح ہی نہیں۔ یہاں آج بھی بھینس اسی کی ہے جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔ ساہیوال کے مقتولوں کے جسموں کے بعد آج ان کی روحوں کو بھی چھلنی کر دیا گیا ہے۔ لیکن کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •