لنڈے کے لبرل آزادی مارچ سے کیا مانگتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولوی جن کو لنڈے کے دیسی لبرل دیکھنا اور سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے ایک دم سے مزاحمت کا استعارہ بن گئے۔ ایک کی شہریت کو جعلی قرار دے کر منسوخ کیا گیا اور ساتھ کہا گیا کہ اس کو سننا اور دیکھنا اب وسیع تر قومی مفاد کے خلاف تصور ہوگا اور دوسرے کو صبح 4 بجے ایک مسجد سے گرفتار کرکے ایک ماہ کے لئے ہری پور کی جیل میں نظر بند کر دیا گیا۔

جس کی شہریت منسوخ کی گئی یا اس کے شناختی کارڈ کو جعلی قرار دیا گیا وہ اس ملک کی پارلیمان میں بطور سینیٹر منتخب ہونے کے علاوہ جغرافیائی لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔ قاری حمداللہ کے نام سے پہچانے جانے والا مولوی بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن کا رہائشی ہے جہاں سے ان کے انتخابات میں جیت جانے کو عدالتوں میں اس بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا کہ وہ پیدائشی پاکستانی نہیں بلکہ افغان مہاجر ہے مگر اس وقت حالات ان کے حق میں موافق تھے۔

اس ملک کے وہ سب شہری جو انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن پر حالات حاضرہ کے مباحثے دیکھتے اور سنتے ہیں، جانتے ہیں کہ ان مولویوں کا جرم کیا ہے، جس کی پاداش میں وہ زیر عتاب آئے ہیں۔ اگر وہ اس بات کی یقین دہانی کروا دیں کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مبصرین اور مقررین کی طرح وہ بھی اپنی زبان کو قابو میں رکھیں گے تو ایسی نوبت ہی نہ آئے۔ ہر وقت عوام کی نبض پر ہاتھ رکھے مولوی خوب جانتے ہیں کہ کون سی باتیں عوام سننا چاہتے ہیں اور کون سی باتیں ہیں جن کو لوگ برداشت تو کر لیتے ہیں مگر سننا نہیں چاہتے۔

کراچی سے چلے جمیعت علمائے اسلام فضل الر حمان گروپ کے آزادی مارچ میں کیا زبان و بیان ہے اس کا پتہ نہیں چل رہا ہے کیونکہ اس پر ایک غیرعلانیہ سنسر شپ ہے۔ مگر جو خبریں مل رہی ہیں ان کے مطابق یہ مارچ دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ اس میں شامل لوگ ایک ماہ اسلام آباد میں گزارنے کی تیاریوں کے ساتھ عازم سفر ہیں۔ آٹا، چاول، دال، چینی، چائے پتی، خشک دودھ، میوہ کے علاوہ دیگچی، چمچ، پلیٹ، پیالی کمبل خیمے ساتھ اٹھائے اپنے امیر کے حکم کے منتظر اس مارچ کے شرکاء کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ رات کسی بس اڈہ پر گزارنی ہے یا مینار پاکستان کے سبزہ زار پر۔

تاریخ میں لانگ مارچ کی وجہ سے مقبول چین کے انقلابی راہنما ماؤزے تنگ اور چاؤ این لائی نے جب سال بھر میں 6 سو میل کا سفر طاے کیا تو ان کے ساتھیوں کو بھی اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ ان کے راستے میں مشکلات آئیں گی یا وہ اس سفر میں کسی طرح کے امتحان سے گزریں گے۔ لینن، مہاتما گاندھی، نیلسن منڈیلا، مارٹن لوتھرکنگ اور فیڈرل کاسترو جیسے راہنماؤں نے بھی انقلاب کسی ساز باز کے ذریعے نہیں بلکہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر ان کے اندر اپنے عزم کی سچائی پر یقین پیدا کرکے برپا کیا تھا۔ مگر بار بار انقلاب کی نوید سنا کر ہمارے ہاں کبھی ایسا کیوں نہ ہوسکا اس سوال کا جواب بھی انتہائی اختصار کے ساتھ یہ سامنے آتا ہے کہ راہنماؤں کو اپنے عزم کی سچائی پر خود یقین نہیں تھا وہ دوسروں میں انقلاب کی جوت کیا جگاتے۔ اس لئے ہر بار انقلاب سراب ثابت ہوا۔

ایوبی آمریت کے خلاف ڈھاکہ سے پشاور اور کراچی سے خیبر تک لوگ یک آواز ہوئے اور جمہوریت کے لئے سڑکوں پر آگئے۔ ایوب چلا گیا مگر ساز باز ہوئی اور یحییٰ خان آ گیا، انقلاب سراب ثابت ہوا۔ بھٹو کے خلاف ملحد و مومن سب یکجا ہوئے بھٹو چلا گیا مگر پھر ضیا آ گیا۔ مشرف کے خلاف وکلا، صحافی، سیاسی کارکن سب میدان میں آگئے مشرف تو چلا گیا مگر اس کے بعد عدالتی جبر کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جس کی بنیاد آج ان ہی عدالتوں کے آگے ہاتھ پھیلا کر رحم کی بھیک مانگتے نواز شریف نے بھی ایک لانگ مارچ پر رکھی تھی۔

جمہوریت، شہری و انسانی حقوق کی بحالی اور معاشی و سماجی انصاف کے نام پر بار بار کے دھوکہ سے سیاسی کارکن اس حد تک مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی صرف پولنگ بوتھ میں جا کر ووٹ دینے کی حد تک رکھے ہوئے ہیں۔ عمران خان کی تبدیلی کے نام پر چلی تحریک سے متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے لوگوں نے ویسی ہی توقعات رکھی تھیں جیسے اس سے پہلے بھٹو کے ساتھ ملک کے مزدور اور کسانوں نے رکھی تھیں۔ مگر تبدیلی سرکار کے پہلے سال میں ہی یہ امیدیں مایوسی میں ایسی بدل گئیں کہ پورے ملک میں گویا پچھتاوے کا موسم آ گیا ہو۔ وہ صحافی جو عمران خان کی شان میں قصیدے کہتے تھکتے نہیں تھے آج خود کوملامت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ سیاسی کارکن جو تبدیلی کے نام پر ہفتوں اور مہینوں تک گھر بار کو بھول کر سڑکوں پر نعرے لگا رہے تھے، آج نظریں جھکائے رکھتے ہیں۔

فضل الرحمان نے بھی اپنے کارکنان اور ماننے والوں کو یہ یقین دلایا ہے کہ وہ اسلام آباد جاکر بر سر اقتدار نا اہل حکمرانوں کو چلتا کردیں گے اور نئے انتخابات منعقد کروانے کا مطالبہ کریں گے۔ لیکن کیا انتخابات پہلے بھی نہیں ہوئے؟ کیا حکومتیں نہیں بنی مگر عوام کبھی کسی حکومت سے مطمئن کیوں نہیں ہو سکے؟ عوام کے اطمینان کے لئے اس آزادی مارچ کے منتظمین نے اپنا کوئی معاشی، معاشرتی، سیاسی و انداز حکمرانی کا خاکہ سامنے نہیں لایا۔ اس کے باوجود آزادی مارچ رواں دواں ہے۔

تمام تر سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے کارکنان کے نظم و ضبط اور ڈسپلن کی تعریف کیے بغیر رہا نہیں جاتا۔ خاص طور پر جب لاہور شہر میں سڑک کی دونوں جانب مارچ کے ہزاروں شرکاء نے کھڑے ہوکر عوامی بسوں خاص طور میٹرو کی آمد و رفت میں خلل نہیں ڈالی جو پاکستان میں یقیناً قابل تقلید مثال ہے۔ توقع ہے کہ اسلام آباد پہنچ کر بھی ایسے ہی نظم و ضبط کا مظاہرہ ہوگا خاص طور پر صفائی ستھرائی کا خیال رکھ کر ایک اور مثال قائم کریں گے۔

مجھے خدشہ ہے کہ آزادی کے نام پر کیے مارچ کے نتیجے میں صدیوں سے جاری سماجی، سیاسی اور معاشی جبر سے چھٹکارا تو ممکن نہیں اور نہ ہی یہ اجتماع کسی بڑی تبدیلی اور انقلاب کا نقیب ہوگا۔ ہاں مگر اپنے نظم وضبط کی طرح دلیل کے ساتھ مکالمہ میں بھی جمیعت علمائے اسلام کے لوگوں نے عامۃ الناس کے دلوں میں جگہ بنا لی ہے۔ آج مفتی کفایت اللہ کی نظر بندی اور قاری حمداللہ کی زبان بندی پر ان کے مخا لفین نے بھی مذمت کی ہے۔ جمعیت کے لئے اپنے مذہبی سیاسی انداز سیاست میں تبدیلی لا کر عوامی مسائل پر مبنی ایجنڈا کو آگے بڑھانے کا ایک سنہری موقع ہے۔ اس سے پہلے کہ انقلاب سراب ثابت ہوکر مایوسی میں بدل جائے جمیعت کے اکابرین اپنے روایتی موقف اور انداز سیاست میں تبدیلی لاکر ملک کی سیکولر جماعتوں کے تساہل سے پیدا ہونے والے خلاء کو پر کرکے عوامی سیاست میں ایک مثبت مسابقت کا آغاز کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 196 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan