نوازشریف کی تڑیاں اور شہباز شریف کے ترلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہباز شریف اور نوازشریف ایک ہی کھوٹے سیاسی سکے کے دو رخ ہیں۔ نوازشریف اور مقتدرہ کی اناؤں کی ذاتی لڑائی کو جمہوریت، انسانی حقوق اور آئینی برتری کی لڑائی سمجھ کر محمود خان اچکزئی، اسفندیار ولی خان، کسی حد تک آصف علی زرداری اور دوسرے جمہوریت پسند مع باضمیر پریس، نوازشریف کے کاندھے سے کاندھا ملا کر مقتدرہ کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوئے۔ جس کی وجہ سے ان کو گالیاں پڑیں۔ غداری اور ملک دشمنی کے طعنے اور تمغے ملے۔ مختلف نوعیت کے ناقابل برداشت پریشرز برداشت کیے ۔

نوازشریف کا ساتھ دینے والے سیاستدان الیکشن میں اسمبلی سے باہر بٹھا دیے گئے۔ جبکہ نوازشریف کے وزیر معتمد اور شہباز شریف کے یار غار چوہدری نثار ایک دفعہ پھر گھر کی استراحت گاہ میں آنے والی باری کا انتظار کرنے لگے۔ ضلع ہزارہ کی استثنیٰ کے ساتھ، صرف پنجاب کو پاکستان سمجھنے والے نوازشریف کے گرد شکنجہ کسا گیا، تو ”ضدی“ بھائی نے، ووٹ کو عزت دو، کے خوبصورت ریپر میں لپیٹ کر اپنی نا اہلی اور اقربا پروری کو چھپانے کی کوشش شروع کردی۔

تاہم ساتھ ساتھ کہیں نہ کہیں پر، ”مصالحتی“ بھائی نے ناراض قوتوں کے منت ترلے بھی خفیہ طور پر جاری رکھے۔ کیونکہ مسلم لیگ کا تاسیسی منشور ہو، معاہدہ لکھنؤ ہو، یا پاکستان بننے کے بعد کا سفر، مورخ کو بہت کوشش اور تحقیق کے باوجود مسلم لیگ کے جسم میں کی ریڑھ میں ہڈی نہیں ملتی۔ مسلم لیگ کی تاریخ لکھنے کے لئے، مورخ کو، اصولوں پر سمجھوتے، مقتدرہ کی برخورداری، طاقت وروں کی کاسہ لیسی، پس پردہ سازشوں میں شراکت داری، استبدادی موسیقاروں کی دھن پر سیاسی مجرے، برادران یوسف کا طرز عمل، محسن کشی اور اقتدار پرستی جیسے عنوانات لگانے پڑتے ہیں۔

نوازشریف بیمار ہیں۔ اللہ تعالیٰ صحت دے، مزاحمت کی علامت سمجھے جانے لگے ہیں۔ ”اصولوں کی سیاست اور جمہوریت“ کی خاطر بستر مرگ پر پڑی اپنی شریک حیات کو جان کنی میں چھوڑا اور بڑی بہادری کے ساتھ، یقینی قید وبند کاٹنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔ لیکن کوئی نہیں سوچتا کہ بادشاہت سمیت سب کچھ داؤ پر لگا ہو تو اس سے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہے۔ مغل تاریخ ہمارے سامنے ییں۔ اقتدار کے علاوہ بادشاہ کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا۔

پاکستان میں اقتدار کی تاریخ کو دو ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، یعنی عسکری دور حکومت اور سول دور حکومت۔ کسی بھی جرنیل کی حکومت رہی ہو پنجاب نے اس کو نہ صرف یہ کہ خوش آمدید کہا، بلکہ اپنی عددی قوت کے زور پر اس کو قبول نہ کرنے والوں کو راندہ درگاہ بھی ٹھہرایا۔ یہی حالت سول حکومت کی بھی ہے۔ ابتدائی بادشاہ گردی کو چھوڑ کر، ضیائی مارشل لاء سے لے کر عمران خان کے ”حمایت یافتہ“ دھرنوں تک، سول اقتدار کا زیادہ عرصہ، پنجاب کے شریف برادران کی مختلف حیثیتوں میں حکومت پر مشتمل رہا۔

 لیکن مخصوص مزاحمت گریز ذہنی حالت اور طاقت پرستی کی عادت کی بنا پر، پنجاب سول یا عسکری حکومتوں کے دوران کبھی ڈیلیور نہیں کر سکا۔ اگر پاکستان ترقی نہ کر سکا، اگر دہشت گردی کا شکار اور جنگی اقتصاد کے ہتھے چڑھا، تو واضح وجہ پنجاب کی عددی اکثریت اس کی ڈائریکٹ حکومت اور ان ڈائریکٹ حمایت کی وجہ سے۔ یہاں سے ایوب خان کو نواب آف کالاباغ مل جاتا ہے، ضیاء الحق کو نوازشریف اور پرویز مشرف کو پرویز الٰہی۔ چند استثنائی پنجابی آوازوں کے علاوہ پنجاب کا سریلا نغمہ ہمیشہ عسکری بینڈ کی معیت میں گایا گیا ہے۔

اپنے لئے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار پسند کرنے سے پہلے، نوازشریف کو جونیجو سے دغا کرنے، بے نظیر کو غیر جمہوری قوتوں کے کہنے پر عوام میں رسوا کرنے، اے این پی کے ساتھ پختونخوا کے نام پر معاہدہ کرنے اور مکر جانے جیسے معاملات میں یاد کیا جاتا تھا۔ پھر گڈ کاپ اور بیڈ کاپ کی طرز پر سیاست کرنے کا فیصلہ کر کے ایک بھائی نے تڑیاں دینے کا دبنگ کردار ادا کرنا شروع کیا اور دوسرے نے ترلوں پر مبنی، مصالحت آمیز کردار اپنے لئے پسند کیا۔

 کل عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے پختونخوا کے وسائل اور عوام اور پنجاب کے مولانا طاہر القادری کام آئے تو آج پھر پختونخوا کے عوام اور مولانا فضل الرحمان اسے اقتدار سے محروم کرنے کے لئے متحرک ہیں۔ مولانا صاحب نے الیکشن کے فوراً بعد تحریک چلانے کے لئے مختلف لیڈروں سمیت زرداری اور نوازشریف سے رابطےکیے ۔ زرداری صاحب سندھ کی حکومت اور نوازشریف صاحب اپنے بھائی کی برخوردارانہ مصالحتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت کی بنا پر تحریک چلانے پر تیار نہیں ہوئے۔

 لیکن نہ زرداری اپنے بڑھاپے کی راحت کو اور نہ نوازشریف اپنی سلطنت کو جیل کی صعوبتوں سے بچانے میں کامیاب ہوئے۔ دوسری طرف سیلیکشن کمیٹی بھی اپنی ٹیم کی کارکردگی سے نالاں رہی۔ مولانا صاحب نے نوازشریف، زرداری اور دوسرے سیاسی لیڈروں سے طویل مذاکرات کے بعد احتجاج کے لئے نکلنے کا فیصلہ کیا تو مہنگائی سے تنگ عوام، مایوس سیاسی کارکن اور ناپید ہوتے ہوئے باضمیر پریس نے ان کو پذیرائی بخشی۔ حکومت نے پہلی دفعہ حزب اختلاف (مولانا) سے مذاکرات کی کوششیں کیں۔

 آزادی مارچ کا دباؤ بڑھا تو جیلوں میں بند سیاسی رہنماؤں کو مختلف قسم کی آزادیاں ملیں۔ مولانا کا آزادی  مارچ سندھ سے ہوتا ہوا پنجاب میں داخل ہوا تو پنجاب کے ”مالکوں“ نے شریف مکہ کی طرح مزاحمت کی بجائے مصالحت کا راستہ چنا۔ استقبال اور ساتھ دینا تو درکنار، مولانا صاحب کا فون سننا بھی گوارا نہیں کیا۔ مولانا کا ساتھ دینے اور عوامی ریلے میں شامل ہونے کی بجائے اقتدار کے سرچشموں سے اپنے لئے مراعات اور مفادات پر بات چیت شروع کی۔

سچ ہے اقتدار کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اس لیے اسے دل کی بیماری نہیں لگتی، ذہنی فتور ہوجاتا ہے۔ جو لوگ نوازشریف کو مزاحمت کی علامت سمجھنے لگے تھے میری طرح انہیں بھی پہلے غلط فہمی اور آج مایوسی ہوئی ہے۔ جو لوگ شہباز شریف کو نوازشریف سے الگ، باغی، بھائی سے ناراض اور کمزور سیاستدان سمجھتے ہیں۔ وہ یا تو خود فریب خوردہ ہیں یا فریب دہندہ۔ نوازشریف اور شہباز شریف گڈ کاپ بیڈ کاپ کا گیم کھیل رہے ہیں۔ مقتدرہ قوتیں بہت سارے وسائل، علم، معلومات اور تجزیوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔

 وہ دونوں کو خوب جانتے ہیں۔ کیونکہ اقتدار کے دوران دونوں اپنی اپنی اقلیم میں بڑی یکسوئی کے ساتھ باہمی عدم مداخلت کے اصولوں کے تحت لگے رہتے ہیں اور اقتدار چھین لی جائے تو پھر گڈ کاپ بیڈ کاپ والی صورتحال ہوجاتی ہے۔ بڑے بھائی ناراض، ضدی اور چھوٹے بھائی مصالحت پسند اور مذاکرات کار، پہلا تڑیاں دیتا ہے اور دوسرا ترلے کرتا ہے۔ کیونکہ اقتدار بچانی ہوتی ہے۔ اس کے لئے ولی خان، جونیجو یا مولانا فضل الرحمان کو استعمال کریں یا مایوس، کوئی بات نہیں۔ مولانا صاحب جیسی ہمہ جہت اور کثیر المقاصد ہستی کے لئے ایک شعر ہے

اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے

اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •