عورتیں خود کو مردوں کے برابر سمجھتی ہیں تو کسی مرد کو گینگ ریپ کر کے دکھائیں: اسکرپٹ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“پنجاب نہیں جاؤں گی” نامی فلم سے شہرت پانے والے اسکرپٹ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر نے ایک انٹریو میں کہا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عورتیں کس طرح کی برابری کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے خواتین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آپ کسی مرد کو اغوا کر کے اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کریں تاکہ مجھے یقین آ سکے کہ آپ مردوں کے برابر ہیں۔

یوٹیوب پر ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں، خلیل الرحمن قمر نے بتایا کہ کچھ عورتوں نے ان سے صنفی مساوات کی حمایت کرنے کے لئے کہا۔ جواب میں انہوں نے ان عورتوں سے پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی ایسی خبر پڑھی کہ ‘پانچ مردوں نے ایک عورت کو اغوا کر لیا؟” عورتوں کی طرف سے ہاں میں جواب ملنے پر، خلیل الرحمن قمر کے بقول، انہوں نے پوچھا کہ ” کیا آپ نے کبھی ایسی خبر پڑھی کہ ‘پانچ عورتوں نے ایک مرد کو اغوا کر لیا؟” انہوں نے کہا کہ نہیں۔ تو میں نے کہا کہ اگر آپ مساوات چاہتی ہیں تو ایسا کر کے دکھائیں، تب ہی میں جان سکوں گا کہ عورت مرد کے برابر ہے۔

شہرہ آفاق اسکرپٹ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر اپنی گفتگو سے کسی بھی مجلس کو اتھل پتھل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے انٹرویو کرنے والی خاتون کے حیرت سے کھلے منہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ “(عورتیں) کسی بس کو لوٹیں، کسی شخص کو اغوا کریں، اس کے ساتھ گینگ ریپ کریں، تب مجھے معلوم ہو سکے گا کہ مساوات کیا ہے اور یہ کہ  آپ (عورتیں) کس قسم کی مساوات کا مطالبہ کررہی ہیں؟ اس طرح تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔”

خلیل الرحمٰن قمر نے ہمایوں سعید اور شہزاد نصیب کے تعاون سے لکھی گئی اپنی ایک حالیہ ٹی وی سیریز کے بارے میں بتایا کہ اسے لکھتے ہوئے ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ” یہ میرا سب سے مشکل اسکرپٹ ہے کیونکہ یہ یہ لوگوں کے دل کے بہت قریب ہے”۔

“یہ بہت سارے مردوں کی سچی کہانی ہے۔ میں نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں لکھا، ایک ایسے ہی جوڑے کا مشاہدہ کیا ، اور میں نے دیکھا کہ اس طرح کے بہت سے جوڑے تھے۔ ایک شادی شدہ عورت اپنے شوہر کو دھوکہ دیتے ہوئے اپنی نظریں نیچی نہیں کرتی اور اس اعتماد سے بات کرتی ہے کہ اسے کسی دوسرے آدمی کی حمایت حاصل ہے۔

“ایک غیر شادی شدہ عورت کسی کو دھوکہ دے تو اس کی نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ ایک شادی شدہ مرد دغا بازی سے اس کی نگاہوں کو جھکاتا ہے۔ ایک غیر شادی شدہ مرد دھوکہ دہی اور دغا بازی کے دوران اعتماد سے بات کرتا ہے۔ اور یہ میرے مشاہدے کی بات ہے۔”

قمر نے مطالبہ کیا کہ “عورتوں کو میری حالیہ ٹی وی سیریز پر خواتین ناراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان عروتوں نے ایکا کر کے مردوں کی بے عزتی کی ہے اور، دوسری بات یہ ہے کہ میں آپ کے [خواتین] کے حق میں بات کر رہا ہوں۔”

“میں ہر عورت کو عورت نہیں کہتا ، چاہے آپ اسے پسند کریں یا پسند نہ کریں، میرے نزدیک، عورت کا صرف ایک ‘خوبصورتی’ ہے اور وہ اس کی شرم و حیا ہے… اس کی وفاداری۔ اگر کسی عورت میں شرم و حیا اور وفاداری نہیں ہے تو میں است دور سے سلام کرتا ہوں۔ میں ایسی خواتین کو “ناعورت” کہتا ہوں۔

خلیل الرحمٰن قمر نے لوگوں کو چیلنج کیا کہ “آگے بڑھیں اور میرے خلاف مقدمہ درج کریں یا #MeToo  کا کیس بنائیں ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے لیکن میں ہر عورت کو عورت نہیں کہوں گا۔ ایسا کرنا میرے لئے درست نہیں ہو گا۔”

ٹی وی مصنف نے یہ بھی کہا کہ وہ “اچھی عورتوں” کے لئے لڑ رہے ہیں۔  انہوں نے کہا: “ایک مرد کی ساری عزت، وقار، اور اس کی ساری دولت اس کی بیوی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ اس کے لئے روزی کمانے نکلتا ہے۔ میں ان عورتوں پر لعنت بھیجتا ہوں ، جو اپنے مرد کی پیٹھ کے پیچھے اس کی عزت اچھالتی ہیں۔

“یہی تصور تھا اور میں اچھی خواتین کے لئے لڑ رہا ہوں کیونکہ آپ مردوں کی غیرت کی فطرت کو نہین بدل سکتے۔

انہوں نے مزید کہا ، “خدا کی قسم ، پاکستان میں مجھ سے بڑھ کر کوئی اور فیمنسٹ نہیں ہے لیکن میں صحیح قسم کی، اچھی عورتوں کی تلاش میں ہوں۔”

خلیل الرحمٰن قمر نے خواتین کے حقوق کی ہم عصر تحریکوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا “ہم مردوں نے نہایت چالاکی سے آپ کے حقوق چھین لئے ہیں کہ آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کے حقوق کیا ہیں۔ لہذا، یہ جاننے کی بجائے کہ آپ کے اپنے حقوق کیا ہیں ، آپ مردوں کے حقوق کا ایک حصہ لینے کی کوشش کر رہی ہیں، یہ آپ کو نہیں مل سکتے۔

“کچھ لڑکیاں ، کچھ ٹولے، میرے خلاف نعرے بازی اور ٹویٹ کریں گے [لیکن] آپ اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے۔ آپ مردوں کی غیرت کی فطرت کو تبدیل نہیں کرسکتے ، یہ ناممکن ہے، اس سے معاشرہ منہدم ہو جائے گا… تباہی مچ جائے گی۔

“بے حیائی عورتوں کے لئے مناسب نہیں، بے حیائی کا مطلب ہے کہ آپ کا کسی ایک کی ہو کر رہنا نہیں چاہتیں۔”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •