راستہ دیکھنے والی مائیں ۔۔۔ اور خالی بستیوں میں جھلملاتے چراغ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان سے رضا بھائی کا فون تھا!

” آپ کب آ رہی ہیں ، دس ماہ ہو گئے آپ سے ملاقات نہیں ہوئی”

” ابھی تو نہیں سوچا ” ہم نے کہا،

“کیوں ؟ اتنا وقفہ تو کبھی بھی نہیں آیا۔ آئیے نا! ہم اداس ہیں “

ہم سے کچھ کہا ہی نہیں گیا!

کیسے بتاؤں کہ میرے مدار کی کشش کھو گئی ہے۔ وہ جو تڑپ تھی، وہ نہیں رہی۔ محبت کی جو ڈور تھی، کٹ چکی۔ زندگی کے راستے میں جو ایک ہاتھ تھامے یہاں تک آن پہنچے تھے، چھوٹ چکا۔ اب ہم کائنات کے خلا میں بغیر کسی کشش کے معلق ہیں۔

بچپن میں جب بھی سکول سے گھر پہنچتے، داخل ہوتے ہی آواز دیتے، اماں آپ کہاں ہیں ؟ میں آ گئی۔ ایک ٹھنڈے سائے جیسی مہربان آواز جواب دیتی، “جیتی رہو میری بیٹی، ہاتھ منہ دھو کے آؤ فوراً، تمہاری پسند کا کھانا بنایا ہے” یہ معمول سالہا سال رہا، نہ ہماری پکار بدلی اور نہ ہی جوابی پیار بھری آواز۔

زندگی بدلی اور ہمارا ٹھکانہ لاہور میں میڈیکل کالج کا ہوسٹل ٹھہرا۔ ہر ماہ ایک ویک اینڈ پر گھر جاتے۔ پہلے سے بتایا ہوتا کہ فلاں شام کی ریل کار سے پنڈی پہنچوں گی۔ بھائی سٹیشن پہ لینے آتا، گھر قریب آتا جاتا اور دید کی طلب بڑھتی جاتی۔ حسب توقع اماں گیٹ پہ ملتیں۔ میری وہی پکار، اماں! میں آگئی اور وہی جواب، “جیتی رہو، ماں کب سے انتظار کر رہی تھی تمہاری پسند کا کھانا بنایا ہے، چلو نہا دھو کے کپڑے بدل لو” اور یہ کھیل ہم نے پانچ برس مسلسل کھیلا۔

وقت اور گزرا! ڈاکٹر بننے کے بعد شادی ہوگئی اور ہم صاحب کے ساتھ فوجی زندگی گزارنے پاکستان یاترا پہ نکل کھڑے ہوئے۔ دور دراز کے علاقوں سے سال میں دو تین دفعہ پنڈی جانے کا پروگرام بنتا۔ پہلے سے اطلاع دی ہوتی، جیسےجیسے گاڑی گھر کے نزدیک پہنچتی، ہمیں محسوس ہوتا کہ درمیانن وقفے کے ماہ و سال بے معنی ہو چکے اور ایک ننھی سی بچی پھر سکول سے واپس گھر پہنچنے کو ہے۔

گھر میں داخل ہوتے اب ہماری پکار “اماں میں آ گئی” کے ساتھ کچھ ننھی منی آوازیں بھی شامل ہوتیں”نانی ماں، ہم آ گئے”

اماں کا دمکتا چہرہ دکھائی دیتا۔ پہلے ننھے منے چہروں پہ بوسے دیے جاتے، ہماری باری بعد میں آتی۔ “اس دفعہ اتنے مہینوں بعد” دبی آواز میں گلہ ہوتا، اور پھر وہی” میں نے تم سب کی پسند کا کھانا بنایا ہے، آ جاؤ فوراً، ٹھنڈا ہوا تو مزا نہیں رہے گا” اور پھر وہ کچھ دن ننھے منوں کو زندگی کی ایک شاندار یاد دے جاتے جو اب ان کی کتاب زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور اب ہم ملک سے باہر تھے۔ ابا رخصت ہو چکے تھے سو اماں کے ہمارے پاس رہنے میں کوئی قدغن نہیں تھی۔ ہم ہسپتال سے جب گھر آتے، اماں اپنی مخصوص کرسی پہ بیٹھی ملتیں۔ ہم برسوں پرانی گرم جوشی سے لہک کے سلام کرتے اور وہ وہی کرتیں جو کرتی آئیں تھیں۔ نہ اماں بدلیں اور نہ ہی ہم!

لیکن کاتب تقدیر نے کسی اور بدلاؤ کا سوچ رکھا تھا۔ زندگی کا وہ حصہ اختتام کو پہنچنے کو تھا اور اماں ایک نئے سفر پہ روانہ ہو کے بدلنے کا آغاز کر چکی تھیں۔ وہ ایک ایسی کہانی لکھنے جا رہی تھیں جس کے بیشتر ورق خالی تھے، ان کے پاس کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں تھا۔

اماں الزائمر جیسے موذی مرض کا شکار ہوئیں اور سب کچھ بھول گئیں۔ وہ خاطر داریاں اور دلداریاں سب خواب ہوئیں۔ اب وہ اماں کی پرچھائیں تھیں۔

مرض اتنا بڑھا کہ پانچ سال پہلے اماں کا ہمارے پاس آنا ختم ہو گیا۔ ہمیں تو اماں کا چہرہ دیکھنے اور محبت سے سیراب ہونے کی عادت تھی سو یہ کیسے ممکن تھا کہ اس میں خلل آتا۔ اماں کا آنا محال تھا، ہمارا جانا تو نہیں۔ اماں محبت کے درس بھول چکی تھیں ، ہم تو نہیں۔ وہ کسی اور راہ کی بھول بھلیوں میں کھو چکی تھیں، ہم تو وہیں کھڑے تھے اماں کی انگلی تھامے۔

ہمارے ہسپتال کا قاعدہ ہے کہ اگلے برس کی چھٹی کا پروگرام گزرنے والے برس کے دسمبر میں مانگ لیا جاتا ہے تاکہ ہر کسی کی چھٹی جدول میں ڈالی جا سکے۔ ہم نے پانچ برس پہلے یہ سوچا کہ ہم ہر تین ماہ بعد ایک ہفتے کے لیے پاکستان جا کے اماں کے ساتھ چھٹی گزاریں گے، سو ہم نے یہی کیا۔ ہمارے سب ساتھیوں کو علم تھا کہ زندگی میں کیسی ہی اتھل پتھل کیوں نہ ہو، ہم ہر تین ماہ بعد پاکستان ضرور جائیں گے۔

صاحب، بچے، بہن بھائی سب ہمارے پروگرام سے آگاہ ہوتے۔ بعض دفعہ ہم پورے سال کے لئے ایک ہی دفعہ میں چار ٹکٹ خرید لیتے، ہر تین ماہ بعد ایک بار۔

ہم ائرپورٹ اترتے، بھائی موجود ہوتا۔ گھر پہنچنے تک وہی کیفیت ہوتی، جو برسوں پرانی تھی۔ دروازہ کھلتا، وہیل چیئر نظر آتی اور وہیل چیئر پہ وہی مہربان شفقت بھرا چہرا۔ ہم اسی وارفتگی سے ملتے، وہ ماتھا چومتیں، کبھی پہچانتیں، کبھی نہیں۔ لیکن اس وجود کی موجودگی اور آغوش کی گرمی دل کو ہلکورے لینے پہ مجبور کرتی اور محبت کے نرم گرم احساس سے بھر دیتی۔

ہماری موجودگی میں دوست احباب ملنے آتے۔ امی اپنی وہیل چیئر پہ اپنی دنیا میں گم اور ہم ان کا ہاتھ تھامے کزنز سے نوک جھونک میں مصروف۔ سب ہمارے اتنی جلد لاہور آنے پہ جملہ بازی کرتے۔ رضا کہتے “ میں تو باجی کے پچھلی دفعہ کے وزٹ کے بعد سے ابھی تک بھاٹی تک بھی نہیں گیا تھا کہ باجی پھر آ گئیں”۔ شفقت کہتے “سچ سچ بتائیے، آپ پھیری کا کام تو نہیں کرتیں کہ وہی اسی طرح بار بار چکر لگاتے ہیں، اور اگر کرتی ہیں تو کیا لاتی ہیں”

ہم سب کی باتیں سن کے قہقہہ لگاتے اور کہتے اب میں تمہیں اپنے بزنس سیکرٹ تو بتانے سے رہی۔ ایک دفعہ ایسے ہی کسی مذاق کے دوران ہم نے گولڈ کی کچھ چیزیں بیگ سے نکال کے دکھا دیں جو ہماری ایک دوست نے منگوائی تھیں۔ شفقت کے چہرے پہ پھیلتی حیرانی و پریشانی اور باقیوں کے فلک شگاف قہقہے ہم آج تک نہیں بھول سکے۔

اماں اس دوران کھوئی کھوئی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی رہتیں۔ اگر کوئی یاد کا کوئی جگنو کہیں چمک اٹھتا تو وہ ابا کی کوئی بات کرتیں یا اپنی ماں کو یاد کرتیں اور بچپن کی کوئی بات سناتیں۔

پانچ برس بیت گئے ہمیں آتے جاتے، سفر کرتے، پاکستان کے سارے موسم دیکھتے، لیکن اماں سے ملنے کی ہڑک ختم نہ ہوئی۔ ہر دفعہ وہی اشتیاق وہی طلب۔ ذہن میں ایک خیال ضرور رہتا کہ نہ جانے کب یہ چاند چہرہ اوجھل ہو جائے گا؟ نہ جانے کتنی مہلت باقی ہے؟ سو اے دل بے تاب، دیدار کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کر۔

اور پھر بالآخر وہ دن آن پہنچا۔ اماں نے ہم سے منہ پھیر کے رب کائنات کے بلاوے پہ لبیک کہا۔ اماں نے دنیا چھوڑی اور ہم نے اماں کے رخصت ہونے کے ایک ہفتے بعد ملک چھوڑ دیا۔

واپس آئے، چھٹی کا جدول دیکھا۔ 2019 میں جنوری، اپریل، اگست اور نومبر میں چھٹی منظور ہو چکی تھی۔ جنوری کی چھٹی میں اماں سے آخری ملاقات و رخصتی ہو چکی تھی۔ سوچا، اب یہ اپریل، اگست اور نومبر کا کیا کریں؟ کشش کا مدار ٹوٹ چکا تھا، وہ جو ایک قوت کھینچتی تھی، آسمان کی وسعتوں میں گم ہو چکی تھی۔ اب کس کے لئے؟ کس کے لئے؟ ہم نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ کہیں کوئی جواب نہیں تھا، اپنی ہی آواز کی بازگشت تھی!

چھٹی کینسل کروانے کی درخواست دے دی۔ خریدے ہوئے ٹکٹ کینسل کروا دیے۔ وہ سفر، وہ ملاقاتیں، ماضی کا حصہ بننے جا رہی تھیں۔

دس ماہ گزر چکے، تین سہ ماہیاں !

رضا بھائی اور فائزہ بھابھی کا کہنا ہے کہ ان کے گھر سے اماں کی رخصتی کے ساتھ سب رونقیں بھی رخصت ہو چکیں۔ وہ جو اماں کی عیادت کے لئے آتے تھے، نہیں آتے۔ جو چاہت میں آتے تھے ان کا مدار ٹوٹ گیا۔

وہیل چئیر خالی ہے۔ اگر ہم جائیں بھی تو دروازہ کھلنے پہ وہ پرنور محبت بھرا چہرا تو نہیں ہو گا۔ لیکن پھر سوچتے ہیں کہ شاید کہیں اور، گھر سے دور ایک خاموش بستی میں کسی کو انتظار ہو- کسی کا دل چاہتا ہو کوئی آئے، پھولوں کی چادر چڑھائے، موم بتیاں روشن کرے اور اسی طرح لہک کے پکارے

“ اماں ! میں آ گئی “

اور پرسکون سوتی اماں مسکرا اٹھیں اور زیر لب کہیں “ اتنی دیر لگا دی، میں کب سے انتظار کر رہی تھی”

میں ٹریول ایجنٹ کو فون کر رہی ہوں !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •