مولانا کا آزادی مارچ: کون کس کے ساتھ بلف کارڈ کھیل رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2008ء کے عام انتخابات کے کچھ ہی روز بعد اس وقت کے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو رحمٰن ملک نے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی راولپنڈی رہائشگاہ جا پہنچے۔ یہ صرف چند ہی لوگوں کے علم میں تھا۔ یوں تو دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے مگر آرمی چیف بننے کے بعد یہ جنرل کیانی کی آصف علی زرداری سے پہلی ملاقات تھی۔

اس ملاقات کے بعد باہمی رابطوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ راولپنڈی میں ہی آصف علی زرداری اور کیانی کی ایک ملاقات میں پرویز مشرف کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ میڈیا کی توجہ البتہ اگست 2008میں آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان زرداری ہائوس میں پرویز مشرف کے مواخذے کے اعلان پر ہی مرکوز رہی۔

معاملہ کور کمانڈرز کانفرنس میں آیا تو ادارے کی عزت و بقا کے لیے متفقہ طور پر پرویز مشرف کا اقتدار بچانے کے بجائے خاموشی اختیار کرنے پر اکتفا کیا گیا۔ 18 اگست 2008 کو مشرف یہ کہتے ہوئے اقتدار سے رخصت ہوئے کہ ان کے ساتھ اپنوں نے ہی  Bluff Cardکھیلا۔

اقتدار کا کھیل ہی ایسا ہے، جو جانتے ہیں اکثر وہ بولتے نہیں، ہوتا کچھ ہے، بتایا کچھ جاتا ہے اور دکھتا کچھ اور ہے۔ اصل کھلاڑی البتہ خاموشی سے اپنا کھیل کھیلتے ہیں۔ اس کھیل میں کوئی دوست مستقل ہوتا ہے نہ دشمن۔ سب کردار اپنے اپنے مفادات کے گرد طواف کرتے ہیں۔ مفادات کا ٹکرائو دشمنیاں اور یکساں مفادات دوستیوں کا تعین کرتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں سیاست پر نظریے کے بجائے مفادات کی حکمرانی ہے اس لیےBluff Card  بھی کھیل کا ایک مسلمہ اصول بن چکا ہے۔ مفادات کے لیے طاقت کے کھلاڑی دوسروں کو استعمال کرتے ہیں مگر بعض اوقات دوسروں کو نشانہ بنانے والے خود نشانہ بن جاتے ہیں۔

اگست 2014 میں بھی ایک ایسا ہی  Bluff Cardکھیلا گیا۔ اس بار دوست نے دوست کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب عمران خان، طاہر القادری کے ہمراہ آزادی مارچ لے کر لاہور سے آبپارہ چوک اسلام آباد پہنچے، جہاں پروگرام کے مطابق دھرنا دے دیا گیا۔

واقفانِ حال جانتے ہیں کہ عمران خان، چوہدری نثار اور شہباز شریف کسی زمانے میں گہرے دوست ہوا کرتے تھے۔ دھرنے میں عمران خان مخالف سمت میں تھے تو ان کے دوست چوہدری نثار علی خان وزیرِداخلہ کے طور پر ان کے دھرنے کو روکنے کی ذمہ داری پر مامور۔ دھرنے کے دوران ایک رات عمران خان نے چوہدری نثار کو فون کیا اور کہا کہ وہ اپنا دھرنا آبپارہ سے کشمیر ہائی وے پر ہی چند فرلانگ آگے لے جانا چاہتے ہیں۔

دراصل عمران خان دھرنے میں ساتھ بیٹھے طاہر القادری پر سبقت حاصل کرنا چاہتے تھے۔

دوست نے دوست کی بات مان لی اور یوں عمران خان آبپارہ سے چند فرلانگ آگے چلے گئے مگر کچھ ہی دن بعد 30 اگست 2014 کو مفادات کا باہمی ٹکرائو ایسا ہوا کہ عمران خان نے اپنے دوست چوہدری نثار کے ساتھBluff Card  کھیل دیا۔ یہ موقع تھا 30اگست 2014 کا جب عمران خان نے اپنے دوست چوہدری نثار کو کرائی گئی تمام یقین دہانیوں کے باوجود دھرنے کے شرکا کا رخ پارلیمنٹ ہائوس اور سیکریٹریٹ جانے والے راستوں پر موڑ دیا۔

اس اقدام پر چوہدری نثار ایک عرصہ تک عمران خان سے ناراض رہے۔ اقتدار کا کھیل ہی ایسا، کردار کوئی بھی ہو، اصول وہی پرانے ہوتے ہیں۔ آجکل مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ شیڈول کے باعث فضا تخمینوں اور اندیشوں سے پُر ہے۔ غالباً 21 اکتوبر کی بات ہے۔

اسلام آباد میں مولانا کی رہائشگاہ پر ایک خصوصی گاڑی آئی جس میں سوار ہو کر وہ اسلام آباد کے ہی ایک کونے میں ان کی منتظر ایک اہم شخصیت سے ملے۔

ملاقات میں کیا ہوا کسی کو کچھ معلوم نہیں لیکن دو روز بعد 23اکتوبر کو مولانا سکھر چلے گئے اور اسی روز اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے حکومتی کمیٹی کو ملاقات کا وقت دے دیا۔

23 اکتوبر کو ہی راولپنڈی میں عجیب و غریب اشتہار بازی بھی کی گئی جس میں سابق آرمی چیف راحیل شریف کی بے بنیاد باتوں پر بڑی تعریف کی گئی۔ راحیل شریف کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ توسیع نہیں لینا چاہتے تھے، سراسر جھوٹ اور حقائق کے منافی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اُنہوں نے سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اور ان کے معتمد ِ خاص عرفان صدیقی سمیت متعدد وزرا سے اپنی ملازمت میں توسیع کی سفارشیں کروائیں۔ انہوں نے تو حکومت کو یہ تجویز بھی دی تھی کہ وہ کسی سبکی سے بچنے کے لیے اس وقت کے تینوں سروسز چیفس کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر دے۔ آخری براہ راست ملاقات میں توسیع کے عوض ڈان لیکس اور پاناما کیس کا معاملہ حل کرنے کی پیشکش بھی کی گئی مگر نواز شریف نہ مانے۔

اگر کوئی سمجھتا ہے کہ راولپنڈی میں ہونے والی عجیب و غریب اشتہاربازی اور مولانا فضل الرحمٰن کا مارچ دو الگ واقعات ہیں تو یہ بات درست نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد ہر صورت پہنچ رہے ہیں۔ حکومت نے انہیں اسلام آباد آنے کی اجازت بھی دے دی ہے مگر وہ ابھی تک وزیراعظم کے استعفے سے کم کسی بات پر ماننے کو نہیں آ رہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کے موقع پر وزارتِ داخلہ کی طرف سے انٹیلی جنس معلومات کی روشنی میں جاری مراسلہ اس بات کے اندیشے کا اظہار ہے کہ شرارتی عناصر کہیں کچھ پلان کر رہے ہیں۔ مولانا کی اصل کامیابی اپنے کارکنوں کو بحفاظت اسلام آباد لانا ہے۔

موجودہ نظام تین اہم شخصیات کے گرد گھوم رہا ہے۔ اگر ان تینوں میں سے کسی ایک پر کوئی زد آتی ہے تو باقی دونوں بھی محفوظ نہیں رہتے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے دارالحکومت میں پہنچ کر اس حوالے سے کوئی Bluff Card کھیل دیا تو حالات یکسر بدل جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •