اقتدار اور تکبر

میں نے اپنی صحافتی زندگی میں ایک بات سیکھی ہے کہ جوشخص طاقتورہوکرجھکا، لوگوں کو عزت دی اورانکی آسانیوں کا سبب بنا دلوں میں امر رہا۔ مگرجوشخص اقتدارمیں آکر متکبر ہوا وقت آنے پربے یارومددگاراورذلیل ورسوا ہوا۔ آپ لوگوں کو پیار سے جیت سکتے ہیں تکبر یا اختیارکی لاٹھی سے نہیں۔ کارزارصحافت میں آئے بیس…

Read more

مولانا کا آزادی مارچ: کون کس کے ساتھ بلف کارڈ کھیل رہا ہے؟

2008ء کے عام انتخابات کے کچھ ہی روز بعد اس وقت کے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو رحمٰن ملک نے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی راولپنڈی رہائشگاہ جا پہنچے۔ یہ صرف چند ہی لوگوں کے علم میں تھا۔ یوں تو دونوں پہلے سے ایک دوسرے…

Read more

نئے طوفان کی تیاریاں – مکمل کالم

اقتدار کے کھیل میں ایک دوسرے سے لڑتے بھڑتے نظر آتے پیادے صرف مہرے ہیں اور اکثر ان کا بادشاہ کوئی اور۔ پاکستان میں لکیر کے ادھر اور ادھر تمام مہروں کا بادشاہ صرف ایک ہے جو کسی ایک پیادے کے ساتھ کھڑا ہوجائے تو باقیوں کو شکست ہوجاتی ہے مگر حالات اب تیزی سے…

Read more

عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ انہیں گرفتار کیوں کیا گیا

عرفان صدیقی کو کیسے گرفتار کیا گیا؟ ان کے گھر پولیس کی بھاری نفری کیسے پہنچی؟ انہیں گرفتار کرتے وقت ان کی بیٹی کو دھکا دیا گیا۔ عدالت اور جیل میں ان پر کیا بیتی؟ کون کون سے جرنیل ان کے شاگرد ہیں؟ لوگ شہباز شریف کے بیانیے کے ساتھ ہیں یا مریم کے؟

Read more

عرفان صدیقی سے اعزاز سید کی خصوصی گفتگو

معروف دانشور، صحافی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی نے اپنی ناروا قید سے رہائی کے کچھ دیر بعد سینئر صحافی اعزاز سید کے ساتھ اپنی گرفتاری کے پس منظر اور ممکنہ محرکات کے بارے میں گفتگو کی۔ یہ انٹرویو ذیل کے لنک پر حاضر خدمت ہے

Read more

مکمل کالم: چاچا صفدر ہمدانی اور اس کے شاگرد

وہ 1998 میں برطانیہ میں جلاوطنی کے دوران گمنامی کی موت مرا لیکن ٹھیک 20 سال بعد 20 مارچ 2019 کو اس کی شبہیہ اسلام آباد میں نیب کی عمارت کے سامنے موجود تھی۔ ۔ 60 کی دہائی میں گارڈن کالج کا طالبعلم تھا۔ وہیں سے اس کا نام صفدر ہمدانی سے چاچا صفدر ہمدانی پڑا جو مرتے دم تک اس کی شناخت رہا۔ گارڈن کالج کے بعد اس کا رخ قائد اعظم یونیورسٹی تھا۔ ابتدا میں اس کا زیادہ تعلق سیاست کی بجائے سماج سے تھا رجحان مگر پیپلز پارٹی کی جانب تھا۔ وہ نئے پرانے طالبعلموں کا ”چاچا“ تھا۔ جب بھٹو اقتدار آخری دنوں بحرانوں کے بھنور میں پھنسے تو چاچا صفدر ہمدانی کمر باندھ کر بھٹو کے دفاع میں میدان میں اترا۔

اقتدار کی کشتی بھنور میں ہو تو مسافر کشتی چھوڑ دیتے ہیں۔ روایت یہی ہے مگر یہ روایتوں کا باغی شخص تھا۔ ملک میں جنرل ضیا الحق نے مارشل لا لگا کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تو صفدرہمدانی بھٹو خاندان کے قریب ہوگیا۔ کتابوں اور انقلاب کے نعرے سے مسحور آدرشوں کا پیچھا کرتا یہ نوجوان جلد ہی اپنی متحرک شخصیت کے باعث پیپلز پارٹی کے برے دنوں میں ایک اچھی شناخت بن گیا۔ ضیا الحق سے بدلا لینے کے لیے مرتضیٰ بھٹو نے الذوالفقار نامی تنظیم بنائی جس کا مقصد ہر قانونی و غیر قانونی طریقے سے بھٹو کی رہائی تھا۔

Read more