میں الزام ان کو دیتا تھا، قصور اپنا نکل آیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مکان بنانے کے لیے جگہ خریدنے جائیں تو وسیع اور کشادہ گلی کا مطالبہ کرنے والے ہم ہیں مگر گھروں کے آگے تھڑے بناکر اورمین گیٹ کوآگے سرکا کر اسی گلی کو تنگ کرنے والا کون ہے؟ اپنے ووٹ کی ” طاقت “ سے اپنے ”حکمران “ چننے والے ہم ہیں مگراپنے ہی” انتخاب“ کو مطعون کرنے والا کون ہے؟ آزادی کے نام پربچوں کو حدود و قیود سے نا آشنا کرنے والے ہم ہیں مگر پھرجب عمررسیدہ ہوکر ان کی حرکتوں پر کڑھنے والا کون ہے؟ پہلے دن سے محمکہ پولیس کو گالیاں دینے والے ہم ہیں مگر اسی محکمے سے اچھی کارگردگی کی امید لگانے والا کون ہے؟

دودھ میں پانی ملانے والے ہم ہیں مگر ”مکھن ملائی“ نہ آنے کا شکوہ کرنے والا کون ہے؟ منافع خوری کرنے والے ہم ہیں مگراسی پیسے سے لوگوں کو زکوة دینے میں فخر محسوس کرنے والا کون ہے؟ ذخیرہ اندوزی کرنے والے ہم ہیں تو پھر مہنگائی کا رونا بھی رونے والا کون ہے؟ اینٹیں پیس کر مرچوں میں، لوہے کا برادہ پتی میں اور باجرا پیس کر دھنیے میں ملانے والے ہم ہیں توپھر پاکستان میں جگر، معدے اور گردے کی بیماریوں کا ماتم کرنے والا کون ہے؟ آپریشن کا بہانہ کرکے لوگوں کے گردے نکال کر بیچنے والے ہم ہیں تو پھر یہ کہنے والا کون ہے کہ قوم ناکارہ ہو گئی ہے؟ میٹرک میں اعلیٰ نمبر آتے ہیں تو ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمت کا عہد کرنے والے ہم ہیں مگر وقت آنے پر ڈاکٹر سے ڈاکو بننے والا کون ہے؟ ڈاکٹر بن ملک و قوم کے آرام و سکون کی بات کرنے والے ہم ہیں مگر اپنی تنخواہ بڑھانے کی خاطر ناجائز ہڑتالیں کرکے لوگوں کو موت میں جاتا دیکھنے والا کون ہے؟

ہم وہ قوم ہیں جو ”حکمرانوں“ سے اپنے ”مطالبات“ منوانے کی سزا ”عوام“ کو دیتے ہیں۔ وہ کون ہے جو سڑک پر روٹ لگواتا ہے، لوگوں کے راستے بند کرتا ہے، یوں طلبہ کو سکول اور مریضوں کو ہسپتال پہنچنے میں رکاوٹ بنتا ہے اور پھر قوم کا ہمدرد بن کر لیکچر بھی جھاڑ رہا ہوتا ہے؟ آپ نے کبھی غور کیا کہ وہ کون سی قوم ہے جو ٹائی، سوٹ، نیکر پہن کراور انگلش بول کردنیا میں اپنی پہچان بنانے کی خواہش آنکھوں سجائے پھرتی ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو بولتے انگریزی ہیں مگر لیڈر ان کے کہلاتے ہیں جن کویہ زبان سمجھ ہی نہیں آتی ؟ ہاں! امتحان، Annual Charges ، کلاس مینٹینینس، سیر تفریح اور کوالٹی کے نام پر تعلیم کو مہنگا کرنے والے بھی ہم ہیں اور پھر پاکستان کی شرح تعلیم پر ”سینہ“ بھی ہمی کوٹتے ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو دین سے دور کرتے ہیں، یہ خیال کرتے ہیں کہ کہیں انہیں کوئی مولوی نہ کہہ دے اور ان کی بولڈ حرکات کو ”کلیورنیس“ کا نام دے کر انہیں ویلکم بھی کرتے ہیں مگر ان بچوں کو ناخلف کہنے والے بھی ہمی ہوتے ہیں اگر وہ والدین یا اقربا کی تیمارداری نہ کریں ، مرنے کے بعد ان کی قبروں پر فاتحہ خوانی نہ کریں اوراپنی ہی ٹیچر سے عشق میں ناکامی پر خود کو گولی مار دیں۔ ہم اپنی بچیوں کو ”حقوق“ کے نام پر خود سر بناتے ہیں اور پھر ان کا گھر نہ بسنے کا واویلا کرتے ہیں، طلاق کے اسباب پر بحث کرتے ہیں، مردوں کو ظالم کہتے ہیں اور خواتین کی مجبوری پر ٹسوے بھی بہاتے ہیں۔ حقوق کے نام بچوں کو منہ زور بنانے والے بھی ہم ہیں اور پھر نئی نسل کے بدتمییز ہونے پر شاکی بھی ہمی ہیں۔

ہم ایک طرف عورتوں کو خوبصورتی اور حقوق کے نام بے لباس کرتے ہیں، انہیں مردوں سے بھرے آفس میں ”ملازم“ بنا کر بھیج دیتے ہیں اور پھر چینلز پر بیٹھ کر پیدہ شدہ مسائل کا تجزیہ بھی کرتے ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو یہ چاہتی ہے کہ مائیں آفسز میں جاب کریں اور آیا ان کے بچے سنبھالا کریں لیکن اس کے باوجود ہم یہ توقع بھی کرتے ہیں کہ آج کے بچے جب کل کے نوجوان بنیں تو ان میں کسی قسم کی بیماری نہ ہو۔ چلیں ! آپ ہی بتائیں کہ دنیا میں وہ کون سی قوم ہے جو وی آئی پی کلچرکی اصطلاح ایجاد کرتی ہے اور پھر اس کلچر کو پروموٹ بھی کرتی ہے لیکن اس کے باوجود” مساوات اور برابری“ کا درس دیتی بھی ہے اور سنتی بھی ہے؟

یہ ہمی تو ہیں جو رشوت کا بازار گرم کرتے ہیں ، سفارش کا ”دھندا“ کرتے ہیں اور میرٹ کی دھجیاں بھی اڑاتے ہیں اور پھر اداروں کی تباہی اور ان کی بری کارگردگی پر دل گرفتہ بھی ہوتے ہیں۔ یہ ہمی ہیں جوہر معاملے میں دین کو ذمہ دار سمجھتے ہیں، دین کا تمسخر اڑاتے ہیں اور لوگوں کو دین سے دور کرتے ہیں اور پھر حواس باختہ ہو کر یہ کہتے پھرتےہیں کہ ہائے لوگوں کو دین کی سمجھ نہیں ہے۔

کھلے روڈ کا مطالبہ کرنے والے بھی ہم ہیں مگر فٹ پاتھوں پر ٹھیلے لگانے والے ، روڈ کے دائیں بائیں ریڑھیاں لگانے والے اور غلط پارکنگ کر کے روڈکی تنگی اور ٹریفک جام کی شکایت کرنے والے بھی ہمی ہیں۔ مادری زبان نہ سمجھنے والے بچے کے منہ میں انگریزی ٹھونس کر خراب نتائج پر اساتذہ کو سزادینے والے بھی ہمی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •