میں الزام ان کو دیتا تھا، قصور اپنا نکل آیا

مکان بنانے کے لیے جگہ خریدنے جائیں تو وسیع اور کشادہ گلی کا مطالبہ کرنے والے ہم ہیں مگر گھروں کے آگے تھڑے بناکر اورمین گیٹ کوآگے سرکا کر اسی گلی کو تنگ کرنے والا کون ہے؟ اپنے ووٹ کی ” طاقت “ سے اپنے ”حکمران “ چننے والے ہم ہیں مگراپنے ہی” انتخاب“ کو…

Read more

عمران خان کا لیڈر بھی نوازشریف ہی نکلا

میں ایک ان پڑھ انسان ہوں۔ مجھے بھی اس فلسفے پر یقین تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے باریاں لگا رکھی ہیں۔ میں بھی باقی پاکستانیوں کی طرح مایوس تھا لیکن پھر قدرت کو اس ملک پر رحم آیا۔ ایک مسیحا نمودار ہوا جس کا نام دنیا نے مجھے عمران خان بتایا۔ لیکن…

Read more

انگلش “What”بمقابلہ پنجابی “وٹ”

ایک انگریز کو پنجابی سیکھنے کا شوق چرایا۔ پتا چلا کہ فلاں گاؤں میں ایک مولوی صاحب پنجابی سکھانے کے بڑے ماہر ہیں۔ منت سماجت کے بعد وہ سکھانے پر راضی ہوئے۔ اب انگریز نے بس پکڑی اورمولوی صاحب کے گاؤں روانہ ہو گیا۔ مولوی صاحب کا گاؤں بس سٹاپ سے تین میل پیدل مسافت…

Read more

لالچی کتا

تین دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تھا کتا، کئی دن سے بھوکا، بھوک اسے ایسے ہی ستا رہی تھی جیسے ہمارے لیڈروں کو اقتدار کی بھوک ستاتی ہے، پہلے تو اس نے پاکستانی عوام کی طرح بہت صبر کیا لیکن آخر کب تک؟ جب بھوک حد سے زیادہ بڑھی تو خوراک کی تلاش میں…

Read more

نادرہ گئی نادرا، الٹا پڑگیا ماجرا

”یہ لوگ تصویر کے بہانے ہمیں بے پردہ کیوں کر رہے ہیں؟“ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ میں نے ٹشو پیپر کا ڈبا اس کی طرف بڑھایا۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنے آنسو صاف کرتی، اس کی آنکھیں مزید برس پڑیں۔ میں نے پانی کی بوتل اس…

Read more

نواز شریف بمقابلہ عمران خان

2013 ء کی انتخابی مہم عروج پر تھی۔ راولپنڈی جیسا مرکزی شہر تھا۔ لیاقت باغ میں مسلم لیگ نون کا جلسہ تھا اور نواز شریف کا خطاب تھا۔ اس کے مقابلے میں تحریک انصاف کا جلسہ لاہور میں تھا۔ اس میں عمران خان نے خطاب کرنا تھا۔ وہ سٹیج پر جانے کے لیے لفٹ پر سوار ہوئے اور گر گئے۔ یہ خبر نواز شریف تک پہنچی تو انہوں نے عمران خان اور تحریک انصاف سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے پنڈی والا جلسہ منسوخ کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر نواز شریف نے اس بات کو عملاً جھٹلایا۔

Read more

بھکر کی عدالت سے کتے کو سزائے موت

بھکر میں ایک کتے نے بچے کو کاٹ لیا۔ بچے کے وارث کیس لے کر عدالت چلے گئے۔ بچے کو کاٹنے کے جرم میں، عدالت نے کتے کو سزائے موت سنا دی۔ یہ حکم اسسٹنٹ کمشنر کی عدالت نے سنایا۔ اسسٹنٹ کمشنر کا کہناہے کہ سزائے موت کا فیصلہ انسانی ہمدردی کے تحت سنایاگیا۔ کتے کے مالک کانام جمیل ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بچے کے ورثاء نے عدالت میں مقدمہ درج کرایا تھا جس میں وہ ایک ہفتہ جیل کی سزابھی کاٹ چکا ہے۔ جب مالک نے سزا کاٹ لی ہے تو اب کتے کو سزادینا انصاف کے خلاف ہے۔ اسی لیے کتے کے مالک نے اس فیصلے کے خلاف ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی عدالت سے رجوع کرلیا۔

Read more

مسئلہ کشمیر، قومی غیرت اور علامہ اقبال

یہ 1930 ء کے اوائل کی بات ہے۔ کشمیرکے خارجی اور سیاسی امور کے وزیر سرایلبین بنر جی نے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے استعفیٰ کی بنیادی وجہ ”مسلمانوں پر ظلم وستم“ کو قراردیا۔ یہ مہاراجا ہری سنگھ کے لیے بڑی شرمندگی کی بات تھی۔ اس نے اعلان کیا کہ مستعفی وزیر کی جگہ کسی…

Read more

اف یہ شادیاں!

شادی ایک ایسا لڈو ہے جس نے کھایا وہ بھی پچھتایاجس نے نہ کھایا وہ بھی پچھتایا۔ (دیسی مقولہ )

ایک وقت ہوتا ہے جب انسان بہت خوش ہوتاہے، بلکہ خوشی میں ڈنٹر پیلا کرتا ہے، صبح صبح گھر سے بن سنور کر نکلنا، آنکھوں میں مستی ہوتی ہے اور لبوں پر گیت، سارادن گھومناپھرنا اور جب شام کو گراؤنڈ میں آنا تو خوشی اس طرح وارے ہورہی ہوتی ہے جیسے مٹھائی پر مکھیاں آتی ہیں۔ یہ صورتحال دیکھ کر کچھ بابے نما نوجوان جنہیں انگلش میں شوگر ڈیڈی کہتے ہیں پاس آجاتے اوربڑے ہی بامعنی انداز میں پوچھتے ہیں ”تمہاری شادی کب ہورہی ہے؟ “۔ میں نے ایک دفعہ طیفے فلسفی سے پوچھا ”بابے یہ سوال اتنی بیتابی سے کیوں پوچھتے ہیں؟ “۔ اس نے جواب دیا ”بیٹا! یہ تمہاری خوشیوں کے دشمن ہیں“۔ میں نے پوچھا ”وہ کیسے؟ “۔ طیفے نے جواب دیا ”سمجھ جاؤگے“۔ مگرمجھے کیا پتا تھا کہ سمجھنے میں چالیس سال لگیں گے۔

Read more

معصوم تبدیلی کا خط تھانیدار کے نام!

محترم تھانیدار صاحب! میرا نام تبدیلی ہے۔ کچھ لوگ مجھے ”تب (then/when) ، دی (gave) ، لی (took) “ بھی کہتے ہیں۔  لیکن میں ”تب، دی، لی“ والی تبدیلی نہیں ہوں بلکہ تبدیلی والی تبدیلی ہی ہوں اورآپ کی ”بارگاہ جرم پناہ“ میں ایک ایف آئی آر درج کرانا چاہتی ہوں۔ آپ مقدمہ درج کریں۔…

Read more