آزاد کشمیر میں صحت کارڈ اور کھلواڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے غریبوں کی سہولت کے لئے صحت کارڈ کا اجرا کیا جس کا پہلا تجربہ کے پی کے میں کیا گیا جو بہت حد تک کامیاب رہا۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد کشمیر میں بھی یہ سہولت دینے کے لئے صحت کارڈ کا اجرا کیا گیا۔ آزاد کشمیر میں جاری ہونے والے صحت کارڈ کی کہانی سے پہلے میں اس کارڈ کا ایک روخ آپ کو بتاتاہوں۔ طاہر پنڈی میں مرغیوں کاکاروبار کرتا تھا 2014میں اس کا ایکسیڈنٹ ہوا اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اس نے پاکستان کی بڑی ہسپتالوں میں اعلاج کروایا مگر وہ ٹھیک نہ ہو سکا اور وہ معذرو ہو گیا اس کا جسم گردن سے نیچے بے جان ہو گیا اور وہ تاحال بستر پر ہے اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں بیوی اس کی دیکھ بھال کرتی ہے اب اس کا سارا جسم بے جان ہونے کے ساتھ ساتھ خراب بھی ہوتا جارہا ہے ان کے پاس رہنے کے لئے اپنا گھر تک نہیں وہ مشکل سے زندگی گزار رہے ہیں۔

طاہر کی ٹانگ میں پیپ پڑھ گئی ان کو اس کا اندازہ نہ ہوا جب پتہ چلا کہ ٹانگ تو مکمل طور پر خراب ہو چکی ہے اس میں پیپ پڑھ چکی ہے۔ اس کی بیوی اسے لے کر سی ایم ایچ پنڈی گئی مگر جب ڈاکٹروں نے یہ بتایا کہ اس کی ٹانگ کا گوشت تو خراب ہو چکا ہے وہ کاٹنا پڑھے گا اس کی جگہ پھر سرجری کروانی پڑے گی اس پر لاکھوں میں خرچ آرہا تھا جو کہ ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ اس دوران کاونٹر پر کھڑے ایک بندے نے ان کو کہا کہ سامنے صحت کارڈ کا کاونٹر ہے اس پر جائیں اور وہاں سے کارڈ بنوائیں۔ طاہر کی بیوی۔ سی ایم ایچ۔ میں صحت کارڈ کے کاونٹر پر گئی اپنے فارم دکھائے صحت کارڈ کی ٹیم نے بغیر کوئی دیر کئے ان کو کارڈ جاری کر دیا اور کہا کہ ہم اس کی انوسٹی گیشن بعد میں کریں گے پہلے آپ چیک کروا لیں۔ یہ لمحہ طاہر کی بیوی کے لئے اللہ کی سب سے بڑی نعمت سے کم نہ تھا۔

وہ شخص جس نے صحت کارڈ کاراستہ دکھایا وہ کسی فرشتے سے کم نہ تھا۔ طاہر کی بیوی اسے لے کر پھر پنڈی ریلوے ہسپتال گئی وہاں پر طاہر کی ٹانگ کا جو حصہ خراب تھا اس گوشٹ کو کاٹا گیا اور اس کی سرجری کرنے کا وقت دیا اور ساتھ یہ بتایا کہ جو جو اعلاج کی سہولت ہمارے پاس نہیں وہ آپ فلاں فلاں ہسپتال سے کروا سکتے ہیں۔ لاکھوں کا اعلاج جو ان کے بس میں نہیں تھا وہ اس کارڈ کی بدولت ممکن ہوا۔ یہ ایک کہانی نہیں پاکستان میں ایسے لاکھوں غریب۔ بے بس۔ اور سفید پوش ہیں جو اپنا علاج اس صحت کارڈ سے کرواتے ہیں اور دن رات عمران خان کو دعائیں دیتے ہیں۔ اب اس کا دوسرا رخ آزاد کشمیر کا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کو صحت کارڈ کے اہل لوگوں کا ڈیٹا جمع کرنے کو کہا گیا۔ تاکہ مستحق اور ضرورت مندوں کو جو اپنا اعلاج نہیں کروا سکتے یا جن کے پاس اتنی آمدن نہیں ان کو کم از کم اپنی صحت اور اعلاج کے لئے سہولت دی جائے۔ آزاد کشمیر حکومت نے اس کے لئے نہ کوئی سروے کیا اور نہ کوئی ڈیٹا جمع کیا بلکہ 2010۔ 2011 بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے جو سروے ہوا تھا یا جو ڈیٹا جمع کیا گیا تھا وہی اٹھا کر صحت کارڈ پروگرام والوں کو دے دیا حکومت پاکستان یا وہ ادارہ جو صحت کارڈ کو سپانسر کرتا ہے جو یہ کارڈ ایشو کرتا ہے انہوں نے اسی ڈیٹے کے مطابق آزاد کشمیر ضلع باغ میں صحت کارڈ جاری کئے۔

اب المیہ دیکھیں 2010,11۔ میں جو سروے بینظیر انکمسپورٹ کے لئے ہوا تھا اس میں سے بہت سے لوگ اب اس دنیا میں موجود ہی نہیں۔ اور ان کے کارڈ بھی جاری ہوئے۔ ہزاروں خاندان جو اس وقت غریب تھے یا کسی سفارش کی بنیاد پر انہوں نے اپنا نام لکھوایا تھا ان میں سے بہت سے آج کاروباری ہیں۔ ڈاکٹر ہیں۔ پروفیسر ہیں۔ ستروے گریڈ کے ملازم ہیں۔ بہت سے بیرون ملک چلے گئے اور اب وہ امیروں کی فہرست میں شامل ہیں اور ان کے صحت کارڈ بنے ہیں۔ آج وہ لوگ جو غریب ہیں۔ مستحق ہیں۔ جن کی کوئی آمدن نہیں۔ وہ مشکل سے وقت گزارتے ہیں۔ وہ اپنے پیاروں کا اپنے بیماروں کا حالات نہ ہونے کی وجہ سے اعلاج نہیں کروا سکتے ان کے کارڈ نہیں بنے اور نہ بننے گے کیوں کے ان کا نام 2010,11کی لیسٹ میں نہیں تھا۔ وہ اب پوچھتے پھر رہے ہیں یہ کارڈ کیسے بنے اور کس نے بنائے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بھی 90فیصد کارڈ اس وقت کے جیالوں کے چاہنے والوں۔ ان کے تعلق والوں۔ اور ان کی حمایت کرنے والوں کے بنے تھے بہت کم مستحق اور ضرورت مندوں کے اس وقت کارڈ بنے تھے۔ مگر اس بار صحت کارڈ میں تو نہ صرف بددیانتی ہوئی بلکہ انتہاء درجے کا انسانیت کے ساتھ مذاق کیا گیا۔

بہت کم لوگ جو مستحق تھے۔ جن کے حالات 2010,11سے اب تک ٹھیک نہیں ہوئے ان کے کارڈ بنے اور ان کے ساتھ اب کیا ہو رہا ہے اب اس کا تیسرا روخ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ باغ میں ایک متوسط اور غریب شخص کی فیملی کے ساتھ ایک حادثہ ہوا۔ عزت نفس کی خاطر نام نہیں لکھوں گا۔ وہ شخص گاڑی چلا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ اس نے اپنے بچوں کو تعلیم دلائی۔ ان کو جوان کیا۔ بچے جوان ہوئے مگر ان کی اپنے رشتے داروں کی مسلسل ناچاکیوں کی وجہ سے اس شخص کے بچے تنگ ہو گئے اور انہوں نے خود کشیوں کے لئے ایٹمٹ کی اس کی جوان سالا بچی نے ماحول سے تنگ آکر خود کشی کر لی اس کا صدمہ اس کا بھائی برداشت نہ کر سکا اور اسے ذہنی شوک ہوا وہ مینٹلی ڈسٹرب ہو گیا وہ اپنا جسم اپنے دانتوں سے کاٹنا شروع ہو گیا۔ اس 20سالہ بچے کو ہسپتال لے جایا گیا وہاں پر پہلے اس کو کچھ ٹریٹ کیا گیا مگر اس سے اس کو کوئی فرق نہ پڑا جیسے ہی وہ ہوش میں آتا ہے اپنے بازو کاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کو پھر اعلاج کے لیے اسلام آباد پیمز میں ایڈمنٹ کیا گیا جہاں اسے ایک انجکشن 3000 کا صبح لگتا ہے اور ایک 6000 کا شام کو اس کے باپ نے جو کمایا تھا وہ سب لگ گیا۔ ابھی بھی اسے لاکھوں کے ٹیکے لگیں گے مگر باپ کے پاس اب اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لئے کوئی پیسہ نہیں۔ اس

کوابھی ابھی صحت کارڈ ملا۔ جو شاہد پرانے سروے میں اس کا نام تھا۔ اس نے وہ کارڈ جا کر پیمز میں دیکھا یا اسے یہ جواب ملا کہ اس کارڈ کی ہمارے سامنے کوئی اہمیت نہیں یہ یہاں نہیں چلتا۔ اور وہ کارڈ اس کے لئے ایک ردی کے ٹکرے سے زیادہ کی اہمت نہیں رکھتا۔ یہ وہ تین رخ تھے۔ میں ذاتی طور پر اس بد دیاتی۔ کرپشن۔ اور انسانیت کے ساتھ مذاق کا ذمہ دار پاکستان حکومت کو بالکل نہیں سمجھتا۔ اس میں اگر کوئی قصور وار ہیں تو وہ ہماری حکومت۔ ہمارے لوکل ادارے جن کے ذمے یہ سروے تھا۔ اور اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے یہ سروے نہ کروانے پر رضامندی ظاہر کی۔ میری حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان۔ ذمہ دار اداروں سے یہ گزارش ہے کہ وہ اس پر نظر ثانی کریں جن مستحق لوگوں کے کارڈ نہیں بننے ان کا سروے کروایا جائے ان کے کارڈ بنائے جائیں۔ اور جن کے بن چکے ہیں ان کو علاج کے لئے آسانیاں دی جائیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم انتہائی کرپٹ سوچ کے مالک ہیں۔ ہم انتہائی بد دیانت ہیں۔ ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں پر انسانیت کی خدمت نہیں کی جاتی بلکہ انسایت سے مذاق کیا جاتاہے۔ یہاں پر بے روزگار سکیم ہو۔ بھینس پالنا اسکیم ہو۔ یا بے روزگار ی خاتمہ قرضہ ہو فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو پہلے سے بہت امیر ہوتے ہیں ضرورت مند غریب آج تک کسی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ جہاں ادارے اور حکومتیں ذمہ دار ہیں وہاں پر وہ با اثر لوگ جو غریبوں کا حق کھاتے ہیں وہ بھی اس ظلم کے ذمہ دار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقبال جنجوعہ کی دیگر تحریریں
اقبال جنجوعہ کی دیگر تحریریں