رابی پیرزادہ کی انتہائی نجی ویڈیوز کے وائرل ہونے پر قیاس آرائیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر گلوکارہ رابی پیرزادہ کی انتہائی نجی ویڈیوز وائرل ہو گئیں جس پر صارفین نے تبصرے کرنا شروع کر دئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رابی پیرزادہ کی کچھ نجی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس کے بعد رابی پیرزادہ ٹویٹر ٹرینڈ بن گئیں۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستانی اداکارہ نیلم منیر نے پاکستانی فلم ”کاف کنگنا’ میں آئٹم سانگ پر پرفارم کیا تو ان کے مداحوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ مداحوں نے ان کی پرفارمنس کی داد دیتے ہوئے خوب تعریف کی۔

ناقدین کا جواب دیتے ہوئے نیلم منیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر جاری کئے گئے اپنے پیغام میں کہا کہ میں فلم ”کاف کنگنا” میں آئٹم سانگ کرنے کے لیے صرف اس لیے راضی ہوئی کیوں کہ یہ آئی ایس پی آر کا پراجیکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے فلمی کیرئیر کا پہلا اور آخری آئٹم سونگ ہے، میں جو بھی کرتی ہوں اس کا فخریہ اظہار بھی کرتی ہوں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا تھا کہ پاکستان کے لیے میری جان بھی حاضر ہے اور مجھے اُمید ہے شائقین فلم میری یہ فلم دیکھنے سینما گھر ضرور جائیں گے۔

نیلم منیر کی اس پوسٹ کو بنیاد بنا کر مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے اپنے پیغام میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کو مینشن کرتے ہوئے کہا کہ سر اگر یہ سچ ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے یہ ستم ظریفی دیکھ کر۔

صارف نے حمیرا ارشد کے ٹویٹر پیغام کا ایک اسکرین شاٹ بھی شئیر کیا جس میں حمیرا ارشد نے کنسرٹ کی ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو اسلام آباد میں آئی ایس پی آر کے ساتھ اچھا شو رہا۔

جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے جواب دیا اور نیلم منیر کے آئٹم سانگ کا دفاع بھی کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ پہلی تصویر : یہ آئٹم سانگ فلم میں کردار کے مطابق ایک بھارتی لڑکی نے کیا ۔

اس آئٹم سانگ کا سیاق و سباق جاننے کے لیے آپ فلم بھی دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری تصویر میں دکھائی جانے والی جگہ جی ایچ کیو نہیں ہے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہے اسلام آباد میں نہیں ہے۔ اور ایسا کوئی ایونٹ آئی ایس پی آر کے لیے منعقد نہیں کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان پر رابی پیرزادہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں لیکن اس کا اعتراف کرنے سے نہیں گھبراتے یا اس طرح سے ان کی وضاحت نہیں کرتے۔

ساتھ ہی انہوں نے ”چھوٹی سی بات” کا ہیش ٹیگ بھی دیا۔

جس کے بعد ٹویٹر پر ان کی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔ جس پر سوشل میڈیا صارفین نے قیاس آرائیاں اور تبصرے شروع کر دئے۔ ایک صارف نے کہا کہ ویسے کیا شاندار اتفاق ہے، ادھر آپ نے ٹویٹ کر ڈالی، ادھر سےآپ کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

ایک صارف نے کہا کہ (ٹویٹ کے) 140 کیریکٹرز کی بھاری قیمت۔

ایک صارف نے رابی پیرزادہ کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل کرنے والوں سے متعلق پیغام میں قرآنی آیت کا حوالہ دیا اور لکھا کہ ”اور جو شخص کسی مسلم کے عیب پر پردہ ڈالے اللہ تعالی اس پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالیں گے اور اللہ تعالی بندے کی مدد میں رہتے ہیں”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •