جو کھڑے ہیں وہ کالا پانی جھیلنے کو بھی تیار ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پہلے تذکرہ جنگ کی یاد داشتوں میں اپنی اولین یاد داشت امتیاز علی راشد مرحوم کا کہ جنہوں نے مجھے جنگ کی سیڑھیاں چڑھنا سکھائیں، جو مجھ پر بس ایک قرض ہی رہا کہ دعائے مغفرت کے سوا انسان کے بس میں اب کیا ہے۔ صرف زبانی کلامی نہیں حقیقت میں حق مغفرت کرے۔ عجب آزاد مرد تھا۔ مولانا حسرت موہانی ؒ تحریک آزادی کے نامور رہنما تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے اردو معلی کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا اور انگریزی حکومت پر تنقید کے نشتر چلانا شروع کر دیے۔ ذرائع ابلاغ پر پابندیاں وہیں پر نافذ کی جاتی ہیں جہاں پر عوام کو اندھا، بہرہ، گونگا رکھنا مقصود ہو تا کہ جو چاہے گل کھلائے جا سکیں۔ لہٰذا جب مولانا حسرت موہانی نے عوام کی زبان، آنکھیں اور کان بننے کا فریضہ سر انجام دینا شروع کر دیا تو اس وقت کے حکمرانوں کو یہ گوارہ کیسے ہو سکتا تھا۔

ایک مضمون کی پاداش میں 2 جون 1908 کو مقدمہ بغاوت قائم کر دیا گیا۔ مضمون علی گڑھ کالج کا تحریر کردہ تھا مگر مولانا موہانی نے اس کا نام تک نہ لیا۔ اور ساری ذمہ داری خود قبول کر لی۔ حالانکہ ستم بالائے ستم یہ بھی ہوا کہ علی گڑھ کالج کے کچھ لوگوں نے ان کے خلاف شہادتیں بھی دیں۔ مولانا کو دو سال قید بامشقت کی سزا ہوئی جو بعد میں ہائی کورٹ نے ایک برس کی کر دی۔ پریس اور ذاتی کتب خانہ ضبط کر لیا گیا اور کتب خانہ جو نایاب کتب سے مزین تھا صرف 60 روپے میں نیلام کر دیا گیا کہ جس کا اس کو تا عمر افسوس رہا۔ ایک سال بعد جب قید سے رہا ہوئے تو ان کے دوستوں نے ان کو سیاست سے علیٰحدگی یا نرم رویے کا مشورہ دیا۔ ان کے جواب میں نومبر 1909 کے اردو معلی کے شمارے میں مولانا نے تحریر کیا کہ “مشکل یہ ہے کہ ہمارے خیال میں یقین یا عقیدہ عام اس کے کہ وہ مذہبی ہو یا سیاسی ایک ایسی چیز ہے کہ جس کو محض کسی خوف یا مصلحت کے خیال سے ترک یا تبدیل کرنا اخلاقی گناہوں میں سے ایک بدترین گناہ ہے۔ جس کے ارتکاب کا کسی حریت پسند یا آزاد خیال اخبار نویس کے دل میں ارادہ بھی پیدا نہیں ہو سکتا”۔

مولانا محمد علی جوہر ؒ اور ان کے رفقاء کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا اور یکم نومبر 1921 کو سب کو دو، دو سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ صرف سوامی شنکر اچاریہ کو مقدمہ سے بری کر دیا گیا۔ تضحیک کرنے کی غرض سے ان تمام کو جیل کا لباس پہنایا گیا۔ سر پر ایک چھوٹی سی ٹوپی آدھی آستینوں والی ایک چھوٹی سی جیکٹ اور نیکر جو گھٹنوں سے اوپر جب کہ پاؤں میں جوتا تک نہیں۔ اسی حالت میں مولانا محمد علی جوہر کی ملاقات ان کی والدہ بی اماں اور صاحب زادیوں سے بھی کروائی گئی۔ ذہنی تشدد کا حربہ اپنے عروج پر تھا۔ ان سب حالات کے باوجود کہ جیل میں بدترین سلوک روا رکھا گیا جب مولانا محمد علی جوہر رہا ہوئے تو ان کی رہائی کے بعد ان کی شخصیت کا احاطہ کرتے ہوئے مولانا عبدالماجد دریا آبادی نے تحریر کیا کہ “مولانا محمد علی جیل سے نکلے تو کندن بن کر نکلے”۔

انگریزی دور تک تو یہ ممکن تھا کہ سیاسی لیڈروں یا اخبار نویسوں کو بغاوت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے مگر جب آزادی نصیب ہو گئی تو اب بغاوت کے لفظ سے عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ لہٰذا جب ایوبی آمریت کو مادر ملت ؒ نے للکارا تو ان پر ملک دشمنی بلکہ قائد اعظم ؒ کی بہن پر بھارتی ایجنٹ ہونے تک کا الزام لگایا گیا۔ سابق مشرقی پاکستان میں حسین شہید سہروردی ایک طاقتور توانا آواز تھی۔ ایوب خان نے ان کو ایبڈو کے ذریعے سیاست سے نا اہل قرار دے دیا۔ جب اس پر بھی گزارا نہ ہوا تو ان کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ مگر اسی دوران نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ کا قیام عمل میں آ چکا تھا۔ نواب زادہ نصر اللہ، سہروردی کی جماعت عوامی لیگ کے مغربی پاکستان میں سرگرم رہنما تھے۔ انہوں نے 1962 کے ایوبی آئین کے خلاف فضا قائم کرنے کے لئے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا۔

سہروردی جیل سے چھوٹے تو این ڈی ایف کی میٹنگ کے لئے کراچی آئے جہاں اس سے قبل ان پر دل کا دورہ پڑا۔ جناح ہسپتال میں داخل ہو گئے۔ ایوب خان نے ایبڈو زدہ سیاستدانوں کے خطاب اور بیانات پر پابندی کا آرڈیننس جاری کر دیا۔ سہروردی نے ہسپتال سے بیان دیا کہ ایوب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ابھی اس ملک میں ایسے باہمت افراد ہیں جو اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنے کے لئے ایسی پابندیوں کو کبھی خاطر میں نہیں لائیں گے۔ اس بیان کے بعد ایوب کھوڑو، نواب زادہ نصر اللہ اور کرنل عابد حسین ہسپتال میں ان سے ملے۔ کھوڑو نے سہروردی کو کہا کہ ہمیں آپ کی صحت بے حد عزیز ہے۔ آپ کم از کم اس حالت میں تو ایسے بیانات نہ دیں۔ ہوسکتا ہے یہیں سے سٹریچر پر ڈال کر آپ کو جیل پہنچا دیا جائے۔ سہروردی نے جواب دیا اس آمرانہ ماحول میں باہر رہنے کی بجائے میں جیل میں مرنا پسند کروں گا۔

ہم انگریز دور سے لیکر آزادی کے بعد تک کے عوامی رہنماؤں سے نپٹنے کے طریقے میں ایک یک رنگی دیکھتے ہیں کہ جو عوامی پذیرائی والا رہنما عوام کی بات کرتا ہے تو اس پر غداری، ملک دشمنی، بھارتی ایجنٹ اور پھر جب ان سب سے بھی گزارا ہونا مشکل ہو گیا تو کرپٹ کا شور مچانا شروع کر دیا۔ گویا پاکستان کے تمام مسائل کی وجہ یہی سیاستدان ہیں اور وہ عامر زبانیں گنگ ہے اور جو زبانیں بولنے کے لئے تیار ہے وہ پھر کٹنے کے لئے بھی نشان پر دھڑی رکھی ہے۔

نوازشریف کے معاملے میں پاکستانی پریس حمایت یا مخالفت کے جذبات رکھ سکتا ہے اس لئے اس کو ایک طرف رکھتے ہوئے عالمی پریس کی ایک رپورٹ بھی ان کی وزارت عظمیٰ سے معزولی سے لے کر جیل سے گرفتاری تک کی انوکھی واردات میں یہ تحریر کرتی نہیں ملے گی کہ یہ سب قانون کے مطابق ہوا بلکہ صراحتاً کہا گیا کہ ان کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بات صرف نوازشریف ہی کی نہیں شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، کیپٹن صفدر، شاہد خاقان عباسی، خواجہ برادران، رانا ثناء اللہ، کامران مائیکل، اسحق ڈار ، سیاسی زرداری تک ان سب مقدمات پر عالمی پریس کی خبریں تجزیے پڑھ لیں ان مقدمات پر اسی پولیٹیکل انجینئرنگ کا تذکرہ نظر آئے گا، جس کا ذکر منصف اعلیٰ نے بھی کیا کہ تاثر ختم ہونا چاہیے۔

حسرت موہانی سے لے کر ان تمام افراد تک آپکو ایک ہی کہانی اور ایک ہی قسم کے کردار نظر آئیں گے۔ ایک رائے عامہ کے نمایندے اور دوسرے ان کو مٹانے کے در پے۔ جیل کا لباس پہنانے سے جیل میں لگے پلگ اتارنے تک ایک ہی طرح کے الزامات ایک ہی طرح کی کہانیاں۔ اور پھر کچھ درباری جو جب چاہے وعدہ معاف گواہ بنتے اپنے کو کوستے نظر آتے ہیں اور جب چاہے سب سے بڑے انقلابی۔ لیکن تاریخ ان کو بھی بے نقاب کر ڈالے گی کیوں کہ مقابلے میں کھڑے ہونے والے اب گوانتا ناموبے یا کالا پانی بھی جھیلنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ اور یہ تاریخ عشروں کے بعد نہیں بلکہ بس آیا ہی چاہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •