گائیڈ کا راجو اور پاکستان کا نواز شریف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

نواز شریف کی صحت اور اس کو لے کر ڈیل، ڈھیل، این آر اووغیرہ کا تمام غُل مجھے رہ رہ کر گائیڈ فلم کی کہانی کی یاد دلا رہا ہے۔

1965 میں بھارت میں ریلیز ہونے والی مشہور زمانہ فلم”گائیڈ” آر کے نارائن کے اسی نام کے ایک ناول کی فلمی تشکیل تھی۔ اپنےمقبولِ عام گانوں اور وحیدہ رحمان کی ڈانس پرفارمنس کی وجہ سے مقبولیت پانے والی اس فلم کی کہانی ایک ٹورسٹ گائیڈ راجو کے حالاتِ زندگی کے گرد گھومتی ہے۔

اپنی نیک نیتی کے باوجود، قانونی طور پر ایک درست مقدمے  میں سزا یافتہ یہ گائیڈ جیل سے رہا ہونے کے بعدایک انجان منزل کی طرف چل نکلتا ہے اور حالات کی ستم ظریفی اسے دور افتادہ ایک گاؤں انجان نگر کے ایک مندر میں پنڈت کا بھیس اختیار کر لینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ فلم کے اختتام تک راجو  اس جھوٹے بھیس سےبھاگ نکلنے کی تگ و دو میں رہتا ہے، مگر گاؤں والوں کی اندھی عقیدت اسے مہاتما اوراوتار کا درجہ دے دیتی ہے۔ آخرکار گاؤں کو خشک سالی سے بچانے کے لیئے اسے زبردستی بارہ دن کا “بھرت” رکھنا پڑتا ہے۔ یہاں سے فلم کا کلائمیکس شروع ہوتاہے۔ راجو اپنی داخلی نیکی اور بدی کی جنگ میں مبتلا ہوجاتا ہے اور فلم اور فکشن کےتقاضوں کے عین مطابق آخر کار نیکی جیت جاتی ہے۔

میرے نزدیک فلم کا حاصلِ کلام وہ ڈائیلاگ ہے جہاں ایک صحافی راجو سے پوچھتی ہے کہ کیا اسے یقین ہے کہ اس کے بھرت رکھنے سے بارش ہو جائے گی، توجواب میں راجو کہتا ہے “ان لوگوں کو مجھ پر یقین ہے اور اب مجھے ان کے یقین پر یقین ہونے لگا ہے”

تاریخی طور پر مسلم لیگ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی لونڈی رہی ہے۔ایوب سے مشرف تک ہر آمر کو اسی کی آغوش میں پناہ ملتی رہی۔ ضیاالحق کے مارشل لا کےبطن سے جنم لینے والے نواز شریف گو جلد ہی اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھانے کے جرم میں راندہِ درگاہ قرار پائے، لیکن ان کی سیاست ہمیشہ پراگمیٹک ہی رہی اور وہ بڑی کامیابی سے ٹکراؤ اور صلح جوئی کے بین بین اپنا راستہ بناتے رہے۔ 2000 میں مشرف کی جلا وطنی کتنی بالجبر تھی اور کتنی بالرضا، اس بارے رائے ہمیشہ رائے دہندہ کے حسنِ ظن یا سوئے ظن کی مرہونِ منت ہی رہے گی۔

اس تاریخی اور تاثراتی پس منظر میں 2017 کے بعد سے میاں نواز شریف صاحب کا ہر قدم ان کے سپورٹرز، ناقدین اور عمومی تجزیہ کاروں کے لیئے ہی نہیں، خود ڈرامے کے مصنفین کے لیئے بھی سرپرائز در سرپرائز کے زمرے میں آتا ہے۔عوام اور ان کے پرستاروں میں سے بھی کثیر تعداد ہر ہر مرحلے پر ان کے کمپرومائز کی خبر سننے کے لیئے ذہنی طور پر آمادہ ہی رہی ہے، اسی لیے ان کا اسٹیبلشمنٹ سےٹکراؤ کا ہر ہر فیصلہ ان کی مقبولیت اور ان کی شخصیت کی قدآوری میں  بے تحاشہ اضافے کا باعث ہی بنتا رہا ہے۔ ذاتی طور پر تو میں سمجھتا ہوں کہ 2018 میں سزا ہو جانے کے بعد لندن سے واپسی کا فیصلہ کر کے وہ 2000 کی جلا وطنی کا قرض (اگر کوئی تھا تو) سود سمیت ادا کر چکے ہیں، اس کے بعد سے ایک ایک دن، ایک ایک مرحلہ اور ایک ایک موقع ان کی شخصیت اور ان کے گُڈ وِل بینک میں بونس کے طور پر جمع ہو رہا ہے۔

فلم چونکہ فکشن ہوتی ہے جس میں انجامِ کار سب درست ہوجاتا ہے اور آخری جیت سچ اور نیکی کی ہونی ہوتی ہے اس لیئے راجو کی اندرونی جنگ میں نیکی جیت جاتی ہے۔ نواز شریف البتہ حقیقی زندگی کا ایک جیتا جاگتا کردار ہیں۔ ان کے اس سفر میں راجو کی کہانی کی طرح وہ کون سا مرحلہ ہے جب وہ انسان سے مہاتما کےدرجے پر جا براجمان ہوئے یہ کوئی نہیں جان سکتا۔ حتیٰ کہ یہ مرحلہ ابھی آیا بھی ہے یا نہیں، اس بارے میں بھی کچھ تیقن سے نہیں کہا جا سکتا۔ یہاں تک کہ یہ بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے معتقدین کو بھی ان پر یقین آیا ہے یا نہیں۔

البتہ ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ اگر پاکستان کولاقانونیت کی خشک سالی سے مکتی درکار ہے تو گائیڈ کے انجان نگر کے باسیوں کی طرح پاکستانیوں کو بھی راجو گائیڈ کو مہاتما تسلیم کرنا ہوگا، اور پاکستان کے راجو کوبھی، اپنے اوپر یقین ہو نہ ہو، اپنے عوام کے یقین پر یقین کرنا ہی ہوگا۔

یقین کا یہی “بھرت” پاکستان کے انجان نگر میں سولبالا دستی کی میگھ برسا سکتا ہے۔ 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •