آزادی مارچ 2014 کے دھرنے سے یکسر مختلف ہے
آزادی مارچ 2014 کے دھرنے سے یکسر مختلف ہے۔ ایچ 9 سیکٹر میں آزادی مارچ کا جلسہ حالیہ برسوں میں ہونے والے کئی احتجاجی مظاہروں اور 2014 کے دھرنے سے کئی لحاظ سے یکسر مختلف ہے۔ پہلی بات یہ کہ اس جلسے میں انتہائی سرگرم، پر عزم، منظم اور مذہبی افراد موجود ہیں۔ یہ لوگ خوفزدہ ہیں نہ ہی کسی بھی قسم کے خطرے سے ڈرنے والے ہیں۔ اس جلسے میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کی داڑھی نہ ہو یا اس نے ٹوپی نہ پہن رکھی ہو اور اس مارچ میں خواتین کو بھی نہیں دیکھا گیا جیسا کہ روایتی جلسوں میں دیکھا جاتا ہے ۔
دوسری بات یہ ہےکہ یہ ایک بہت بڑا مجمع ہے جو کہ ایک بڑے علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔ جلسے کا مقام بہت ہی لمبا اور اتنا زیادہ کشادہ نہیں۔ اس طرح کے جلسے کے لئے یہ کوئی درست جگہ نہیں اسی لئے مارچ کے شرکا ہر جانب پھیلے ہوئے ہیں۔ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے کیا گیا دھرنا اس مارچ سے کہیں کم تھا جبکہ اس دھرنے میں علامہ طاہر القادری کے کارکنان کی تعداد پہلے دن سے ہی عمران خان کے کارکنان سے زیادہ تھی۔
تیسری بات یہ ہے کہ اس دھرنے کے شرکا 24 گھنٹے اپنی موجودہ جگہ پر قیام کرتے ہیں اس بات کا شاہد یہ نمائندہ خود ہے جس نے اتوارکی دوپہر آزادی مارچ کا دورہ کیا تھا جبکہ 2014 کے دھرنے میں زیادہ تر لوگ دوپہر کے وقت جلسہ گاہ میں موجود نہیں ہوتے تھے جبکہ شام کےاوقات میں وہ اس دھرنے میں آ جاتے تھے جو اس وقت ایک کارنیوال کا منظر پیش کررہا ہوتا تھا۔
پی ٹی آئی کے دھرنے میں صرف شروع کے کچھ روز چھوڑ کر شاہد ہی کبھی دیکھنے میں آیا ہوکہ رات جتنی افراد دن کے اوقات میں دھرنے میں موجود ہو۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ جب عمران خان صرف خالی کرسیوں سے خطاب کر رہے تھے اور ان کی اس تقریر کو ٹی وی چینلز پر بھی دکھایا گیا تھا۔ آزادی مارچ کے شرکا خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں سے یہاں آئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا سے آنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ دن کے اوقات میں بنیادی ضروریات کی خریداری کیلئے کچھ مظاہرین نے قریبی بازاروں بشمول کراچی کمپنی مارکز کا دورہ کیا۔
مظاہرین فٹبال، کرکٹ کھیلتے ہوئے بھی دکھائی دیئے۔ چوتھی بات یہ دیکھنے میں آئی کہ اس وقت شرکا سے خطاب کرنے والے رہنما شکایت کر رہے تھے کہ آزادی مارچ کی میڈیا پر صحیح کوریج نہیں ہورہی ۔ انہوں نے سنسر شپ کی مذمت کی اور اسے فوری ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ پانچویں بات ہےکہ آزادی مارچ میں تقریباً ہر شخص ہی روز مرہ کی اپنی بنیادی ضروریات کا سامان ساتھ لے کر آیا ہے جس کا مقصد یہ ہےکہ وہ ایک آدھ دن کے لئے یہاں نہیں آئے ہیں۔ ایسے ہی کچھ انتظامات 2014 کے دھرنے میں پی اے ٹی کے کارکنان کی جانب سے دیکھنے میں آئے تھے تاہم پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے اس طرح کے کوئی انتظامات دیکھنے میں نہیں آئےتھے۔
چھٹی بات یہ ہے کہ آزادی مارچ کے شرکا کو کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ طویل قیام کے لئے تیار ہیں اور یہ لوگ کھلے آسمان تلے سونے کے عادی بھی ہیں۔ آزادی مارچ کے دورے کےدوران یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جے یو آئی (ف) کے کارکنان جائے مقام کی صفائی کا خاص خیال رکھ رہے تھے۔
(طارق بٹ)


