تین ماہ میں مسیحیوں کے خلاف مذہبی عدم رواداری کے 43 واقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی یا مذہبی رواداری کی حوصلہ افزا شکل کبھی نظر نہیں آئی۔ مسیحی پاکستانی تو خصوصی طور پر مذہبی تعصب کا شکار رہے ہیں، دہایئوں سے ان کے وجود کو تسلیم کرنے کی بجائے انہیں قومی دھارے اور مساوی حقوق سے پرے رکھنے کی پالیسی عام رہی ہے۔ مذہبی تعصب کی یہ شکلیں کبھی آئین میں نظر آتی ہیں تو کبھی قوانین میں۔ اداروں کی پالیسیاں ہوں تو وہ بھی مذہبی تعصبات سے بھری پڑی ہیں اور ایسے ماحول میں معاشرتی رویوں کا تو کوئی جواب ہی نہیں۔ مگر افسوس کہ ان سب ناخوشگوار واقعات اورحقوق کے غیرمساوی ماحول میں سیاسی مسیحی نمائندگان نے اپنے آقاوں کی خوشنودی کے لئے ہمیشہ “سب اچھا” کا راگ الاپا ہے۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال مذہبی آزادی کے حوالے سے اس قدر گمبھیرنظر آ رہی ہے کہ بین الاقوامی ادارے بھی ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے وجود اور مستقبل کے حوالے سے نہ صرف تشویش کا اظہار کر چکے ہیں بلکہ یہاں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم رواداری پرحکامِ سے اپنے تحفظات اورتجاویز بھی پیش کی جا چکی ہیں۔

سالِ رواں کے ماہِ مئی میں یورپین پارلیمنٹ نے حکومتِ پاکستان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ مسیحی شہریوں کے خلاف نفرت اور متعصبانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کرے۔

“اوپن ڈور” ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو دنیا بھر میں مسیحیوں پر ظلم و ستم کا جائزہ لیتی اور امدادی سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ رواں سال اسی تنظیم نے مسیحیوں پر ایذا رسانیوں کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کو مذہبی آزادی کے حوالے سے خطرناک ترین ملک قرار دیا ہے۔ اگر ہم خود بھی زمینی حقائق کا جائزہ لیں تواس طرح کی جائزہ رپورٹس میں کوئی مبالغہ نظر نہیں آتا۔

سال 2019 کے جنوری سے جون تک کے چھ ماہ میں مذہبی عدم رواداری کے واقعات جولائی تا ستمبر کے تین ماہ کے مقابلے میں نسباً کم تھے۔ منظرِ عام پر آنے والے واقعات کی روشنی میں سال کی سہ ماہی (جولائی سے ستمبر) کے 90 دن میں مسیحیوں نے مذہبی بنیادوں پر 43 واقعات میں تعصبات کا سامنا کیا اور مذہبی تشدد کا شکار بنائے گئے۔

ماضی کی طرح اس برس بھی مذہبی اقلیتوں کے حقوق و تحفظ، آزادی اور مذہبی روداری کے دعوے اور وعدے زبانِ زد عام رہے، مگر حالات میں خاطر خواہ بہتری نظر نہ آئی۔ 27 ستمبرکو اقوامِ متحدہ میں منعقدہ اجلاس میں وزیرِاعظم عمران خان بھی فرما آئے ہیں کہ ملک میں مذہبی آقلیتوں کو حقوق اور تحفظ کی اعلیٰ مثالیں قائم ہیں، مگر آیئے ہم اس دعوے کے برعکس صرف جولائی تا ستمبرکی زمینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔

سال کی اس سہ ماہی کے 90 دن میں کُل 43 ناخوشگوار واقعات پیش آئے جنہوں نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق و تحفظ پرسوال اُٹھائے ہیں۔ مذہبی عدم رواداری کے اِن 43 واقعات میں 11 بار مسیحی پاکستانی عقیدے کی بنیاد پر تعصب کا شکار بنے۔

سات  مسیحی لڑکیوں کواغوا کر کے جبراً آُن کا مذہب تبدیل کیا گیا جبکہ دیگر سات لڑکیاں جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں اور اُن پر بہیمانہ جسمانی تشدد بھی کیا گیا۔

وطنِ عزیز میں ایسے پانچ واقعات منظر پر آئے جب آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسیحی شہرہوں کو نہ صرف عبادات میں حصہ لینے سے روکا گیا، تشدد کیا گیا بلکہ اُن کی عبادت گاہوں پر حملے بھی ہوئے۔

سات  افراد کو اُن کی مذہبی شناخت کی بنیاد پرجسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، جبکہ دیگر 6 افراد جن میں 2 سگے بھائی بھی شامل تھے قتل کئے گئے۔

حال ہی میں کمیشن برائے انسانی حقوق نے ایک اور ادارے کے اشتراک سے مذہبی عدم رواداری اور بڑھتی ہوئی مذہبی جنوننیت پر مبنی تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے، جس کے مطابق تعلیمی اداروں میں 60 فیصد بچے مذہبی تعصب اور نفرت کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ 70 فیصد اساتذہ ایسی ہی مذہبی جنونیت کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس رپورٹ کے ہولناک انکشافات یہیں پر نہیں رُکتے بلکہ بیان کیا گیا ہے کہ 72 فیصد ایسے والدین ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تعلیمی ادارے مذہبی نفرت کو فروغ دے رہے ہیں اور ملک بھر میں سارے کا سارا تعلیمی نظام نفرت اور تعصب پر مبنی ہے۔

مذہبی جنونیت کے فروغ پاتے ایسے رجحانات نہ صرف مذ ہبی رواداری کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ اقلیتوں کے حقوق و تحفظ کا واویلا کرنے والوں کے لئے بھی سوچنے اور شرمانے کا مقام۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •