میں اسٹیبلشمنٹ کا حامی کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر ہم حضرتِ انسان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ انسان نے ہمیشہ قوت کے حصول کے لئے بالعموم سازباز، جبر وظلم ،تشدد وبربریت ہی کے راستے کو ترجیح دی ہے ۔ انسان نے قوت کے حقیقی معنی و مفہوم کو سمجھنے میں ہمیشہ غلطی کی ہے ۔ اور یہ جان لیا کہ ما ل و دولت ، جائداد،عہدہ و منصب ،فوج اورلاؤ لشکر ہی اصل قوت کا سرچشمہ ہیں ۔ حضرتِ انسان کی اسی غلطی کواقبال نے یقین کی خرابی سے تعبیر کیا ہے ۔ اس یقین کے ساتھ میدانِ کارِ زار میں اترے اس انسان کا مقابلہ جن قوتوں سے ہوتا ہے وہ دِکھنے میں بہت ہلکی لیکن درحقیقت بہت وزنی ہوا کرتی ہیں ۔ وہ مال و دولت کی بجائے فقر و بے سروسامانی، عہدہ و منصب کی بجائے ضمیر کی آواز ، حق گوئی و صداقت کا جذبہ اور فوج و لشکر کی بجائے قوتِ ایمانی ہوا کرتی ہے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ مذکورہ ہر دو فریقین روزِ اول سےزیرو زبر چلے آرہے ہیں ۔جاوداں مثال، موسیٰ نے فرعون اور ابراہیم نے نمرود کے طاغوت کو زیر کیا ہے۔
لیکن مجموعی طور پر طاغوت کا غلبہ رہا ہے کیوں کہ وہ جن دو اصولوں پر عمل پیرا رہا ہے وہ بہت دل نشین ہیں ۔
Human nature can dictates better results for those who appear to have Money/Power.
انسانی فطرت جبراً ان لوگوں کے لئے بہتر نتائج دے سکتی ہےجو دولت یا طاقت کے حامل ہوں ۔
Power escalates and an Absolute Power escalates absolutely.
طاقت انتشار /بدامنی/خوف و ہراس/دہشت پیدا کرتی ہے اور ایک قطعی طاقت یہ کام قطعی طور پر کرتی ہے۔
لیجئے عالمی استعمار نے ان ارشادات و فرمودات کی روشنی میں ہی اقوامِ عالم کے وسائل پر غاصبانہ قبضہ کر کے عالمی قوتوں کو محض قوتِ زر کی بنیاد پر اپنا آلہ کا ر بنایا ہوا ہے بلکہ ان وسائل کے حصول کی دوڑ میں معصوم انسانیت کے کلیجوں پر عالمی اور کئی بڑی جنگوں کے اکھاڑے لگائے جا چکے ہیں۔ اور کئی اکھاڑے بڑی دیدہ دلیری سے جاری ہیں ۔ حالاں کہ سننے میں آیا ہے کہ یہ تہذیب (Civilization) کا دور ہے لہٰذا اس میں بدرجہ اتم یہ پش و پیش نہ ہوناچاہیئے تھی ۔ لیکن حضرتِ انسان نےآج اپنے لئے جس نظام کا چناؤ کیا وہ انتہائی بودا ثابت ہواہے ۔ اس فرسودہ نظام کو عالمی استعمار نے اپنے اذہان سےکچھ اس انداز میں تراشا ہےکہ شکار (Victim) کو احساسِ زیاں تک نہیں ہے ۔ جی ہاں ! ہم بات کر رہے ہیں جمہوریت کی ۔ جمہوریت ،نسوانیت ، ڈارونزم، ایتھی ازم ، آزادیءِ رائے ، لبرل ازم ، سیکولرازم وہ دل لبھانے والے نعرے ہیں جو سب کے سب صیہونیت (Zionism) کی کوکھ سے نکلے ہیں ۔ جنہوں نے انسانیت کا نہ صرف استحصال بلکہ انسانیت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ، اور عالمی امن کو سبوتاژ کر کے عالمی امن کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔
ان عالمی غنڈوں نے میرے دیس کو اتنا کھدیڑا ہے کہ کچھ کہنے کو باقی نہیں چھوڑا کہ گویاساری داستان آنکھوں سے بہہ چکی ہے ۔ بس رہی سہی کسر یہاں کے سیاست دانوں کے سیاسی کرتوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی مہربانیوں جیسے حالات کے تھپیڑوں نے پوری کر دی ہے۔سانحہ مارشل لاء جات و دورِ آمریت ، سانحہ تعطل ِ آئین ، سانحہ تخلیقِ نظریہ ضرورت، سانحہ تحریفِ آئین بدستِ آمر ، سانحہ ایبٹ آباد(اسامہ بن لادن) ، سانحہ عافیہ صدیقی ، سانحہ ایمل کانسی ، سانحہ ماڈل ٹاؤن ،سانحہ بلدیہ فیکٹری ، سانحہ دھرنہ ڈی چوک ، سانحہ دھرنہ فیض آباد ، سانحہ براتِ آسیہ مسیح ، سانحہ ردِ عمل برخلاف خادم رضوی درِ معاملہ رہائی آسیہ مسیح ، سانحہ پولیس گردی ساہیوال ، سانحہ دھرنہ مولانا فضل الرحمان اور مزید بے شمار سانحات سے ہم اتنے دل برداشتہ ہوچکے ہیں کہ سکت باقی نہ رہی۔
اب میرا یہ ماننا ہے کہ اقتدار کا حق محض طاقت ور کو حاصل ہونا چاہیے اور باقی سب کو اس دوڑ سے آؤٹ ہو جانا چاہیئے خواہ رضاکارانہ ہو یا کسی بھی طور۔سیاست میں بھی یہی مذکورہ بالا اصول کارفرما ہیں جیسے کہ سیاسی گھڑ سوارجو حکومت سازی کے مہرے ہیں دراصل اپنے مال کی بنیاد پر عوام الناس سے بہتر نتائج حاصل کرلیتے ہیں ۔ ان الیکٹیبلز کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ جدھر جائیں چار چاند لگادیں ۔ لوگ اسے ہارس ٹریڈنگ یا فلورکراسنگ بھی کہتے ہیں لیکن یہ کبھی شطرنج کے مہرے بھی ہوتے ہیں ۔ ان مہروں کو ادھر سے اُدھر کیے جانے کا حق بھی محض طاقت کی بنیاد پر موقوف ہے ۔ بہرکیف میں کامل طمانیتِ نفس کی بنیاد پر اپنے رجوع کا برملا اعلان کرتا ہوں کہ کسی بھی ملک کی باگ دوڑ اس کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ ہونی چاہیے وگرنہ جمہوریت جیسے ناپائدار اور فرسودہ نظام میں اقتدار ایک لونڈی محض بن کہ رہ جاتا ہے ۔ اقتدار کی یہ ایک رات کی دلہن کبھی کسی کی شبِ زفاف کی زینت بنتی ہے اور کبھی کسی کی ۔ دیس بسنے والوں نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی باریاں لگتی دیکھی ہیں ۔یہ حق ازل سے حاصل ہے اور اسے انسان نے ہمیشہ استعمال کیا ہے اور طاقت طاقت کب ہو سکتی ہے اگر اسے ایکسرسائز ہی نہ کیاجائے۔ لہٰذا عالمی صیہونی طاغوت کے نظریہ جمہوریت سے انحراف بھی دانشمندی نہیں اس لئے ایک ایسے جمہوری نظام کی ضرورت ہے جس میں سیاسی بھڑوے محض مداری ہوں جنہیں عوا م تک رسائی حاصل ہو اور ان حلقوں میں انہیں جزوی اقتدار، محدود مقام، بوٹی حرام کی لذاذت کا حق بھی دیا جائے تاکہ جمہوریت کا پژمردہ پہیہ بھی جام شہادت نوش نہ کر پائے۔ اور اس نظام کی اصل اور اس میں اقتدار کا محور محض اسٹیبلشمنٹ ہو جسے دوام حاصل ہو اور اس کی تمام تر پالیسیوں میں تسلسل بھی ممکن ہے۔ اس کا مہذب راستہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صدارتی نظام نافذ کر کے اسٹیبلشمنٹ ، ٹیکنوکریٹس پر مبنی ایک تھنک ٹینک بنا دیا جائے ، جیسا کہ جدید ملکوں میں رواج ہے ، تاکہ تسلسل باقی رہے۔
کیا فائدہ زیرِ زباں کچھ اور فی الصدور کچھ اور ہو ، ایسی منافقت سے بہتر ہے اپنے من کو غلامی پر آمادہ کر کے ہمیشہ کی آزادی کے مزے لو ، نہ عشق باقی نہ غمِ عاشقی نہ وصلِ معشوق ۔ عالمی تناظر میں بھی تو ہم بدترین غلام کی حیثیت کے حامل ہیں ۔ اب جب خیال تک نہیں تو کیسی غلامی ؟ خیال است ، محا ل است۔ مجھے یا د ہے جب فری میسن صیہونی النسل کولن پاول کے وزیرِ خارجہ بننے میں امریکی صدر بش نے رکاوٹ کی تو عالمی وسائل پر آکٹوپس کی طرح قابض صیہونی طاقتوں نے ایک رات میں امریکی معیشت کو ایسے ہچکولے لگائے کہ کولن پاول کو وزیرِ خارجہ بنا ڈالا ۔ تو ہماری کیا حیثیت کہ 11/9 کے ڈرامے کا مقابلے کی سکت رکھ سکیں اور پتھر کے زمانے میں جانے کے خوف کے آگے ڈٹ سکیں ۔
مولانا حمداللہ جان اگر اس حقیقت کو سمجھ جاتے تو شہریت سے نہ جاتے اور مفتی کفایت اللہ کی تو عقل گھاس کھانے گئی ہے ، اس ڈگر پر چلے جارہے ہیں جس پر چلنے کا اب زمانہ نہیں رہا ۔ ملک وملت کی ترقی و استحکام کے لئے خود کو بدلنا پڑے گا۔ نواز شریف ا س نقطے کو سمجھنے سے قاصر رہے اور سیاسی دوڑ میں بازی ہار گئے اور تب سے ملک میں افراتفری کا عالم ہے اور سیاسی عدمِ استحکام بھی انہی کی بے وقفیوں کا خمیازہ ہے جو معصوم عوام بھگت رہے ہیں۔ اور اب مولانا فضل الرحمان کی عقل کے پرزے ڈھیلے ہو رہیں ہیں لگتا ہے شیخ رشید نے جو ٹلی بجائی ہے کہ انہیں عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا ، درست بات کہی ہے۔ پتہ نہیں انہیں کرتارپور کوری ڈور سے مسئلہ ہے یا باجوہ صاحب کی ایکسٹینشن سے یا پھر اس سے کہ عمران خان اسے ڈیزل کے لقب سے پکارتے ہیں ۔ شیخ رشید ایک دانا سیاست دان ہیں جنہوں نے پاکستان میں سیاست کے گوہر کو پالیا ہے اور عمران خان کو بھی آبِ حیات پلا دیا ہے ،دیکھیں اسی آبِ حیات کا کمال ہے کہ وہ زمین سے آسمان بن بیٹھے ہیں ۔ شاید کسی کو یہ شائبہ ہورہا ہوکہ میں طنزاً یہ سب کہہ رہا ہوں ، ہرگز نہیں یہ سب میرے دل کی آواز ہے۔ عمران خان نے سیاسی مراحل پر درست فیصلے کیے ہیں اور آج اسی موڑ پر ڈیزل خریدنے ملاں نکل آئے ہیں لیکن سوچ کے ایک متضاد زاویے کے ساتھ۔ انہیں اپنی بچی کچی عزت سنبھال کے واپس لوٹ جانا چاہیے وگرنہ ادارے ایک منتخب جمہوری حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں۔ جی ہاں! ہم نے تو فیصلہ کر لیا ہے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •