رابی پیرزادہ نے اپنی نازیبا ویڈیوز کیوں بنائیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلوکارہ رابی پیرزادہ کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد گلوکارہ نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو کارروائی کے لیے درخواست دی جس میں کہا گیا تھا کہ تحقیقات کی جائیں کہ سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز کس نے اپ لوڈ کیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ رابی پیرزادہ خود کشی کے بارے میں سوچ رہی ہیں اور یہ کہ گلوکارہ نے شوبز چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

صورتِ حال یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے صارفین اور عام لوگ ہاتھ دھو کر رابی پیرزادہ کے پیچھے پڑے ہیں کہ گلوکارہ نے ایسی ویڈیوز کیوں بنائیں۔ اگر بنائی تھیں تو اب ان ویڈیوز کے وائرل ہونے پر رونا کیسا؟ لعنت ملامت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دشنام طرازی کا سلسلہ عروج پر ہے۔ رابی پیرزادہ نے کسی کمزور لمحے میں اگر یہ قدم اٹھا ہی لیا تھا تو شاید اس نے یہ نہیں سوچا ہو گا کہ یہ ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہو کر وائرل ہو جائیں گی۔

کوئی شخص اسے معاف کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہے۔ سب لٹھ لے کر اس کے پیچھے پڑے ہیں۔ یہ ایک ایسا ماحول ہے جس میں مایوسی اور ڈپریشن کی حالت میں کوئی بھی شخص اپنی جان لینے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ برا بھلا کہنے والے پہلے ان ویڈیوز کو دیکھنا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اگر ویڈیوز انتہائی بے ہودہ ہیں تو ایسی بے ہودگی کو بنظرِ غائر دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اسے بہت زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ امر بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اعتراض کرنے والے یوں گالیاں دے رہے ہیں جیسے خود انہوں نے اپنی زندگی انتہائی پرہیزگاری، پاکبازی اوربد عنوانی سے بچ کر گزاری ہو۔ رابی پیرزادہ کی حرکت غیرمحتاط ہے مگر نا پسندیدگی کا اظہار مہذب طریقے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

کسی بھی دن کا اخبار اٹھا کر دیکھ لیں۔ معاشرے کا بد نما چہرہ اپنی تمام تر بد صورتیوں کے ساتھ آپ کے سامنے ہو گا۔ چوریوں،ڈاکوں اور سٹریٹ کرائمز سے کر اغوا اور قتل کی خبریں عام ملیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ناجائز قبضے، تیزاب پھینکنے اور ریپ کرنے کے واقعات بھی ایک تسلسل سے جاری ہیں۔ قوم کی اخلاقی حالت کیسی ہے اس کا اندازہ آپ راہ چلتے اوباش نوجوانوں کو لڑکیوں کو گھورنے، آوازہ کسنے، جان بوجھ کر ٹکرانے، چائلڈ ابیوز کے واقعات اور ملک کے کسی بھی پبلک واش روم کی دیواروں پر لکھے جملوں اور مصوری کے نادر نمونوں سے لگا سکتے ہیں۔

فریب، دھوکا اور نوسربازی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ لوگ ہوٹل میں قیمہ کھانے سے گریز کرتے ہیں کہ کسی حرام جانور کا نہ ہو۔ مٹن کہہ کر گدھے کھلا دیے جاتے ہیں اور چڑے کہہ کر لالیاں۔ دودھ خریدتے وقت لوگ دعا کرتے ہیں کہ گوالے نے دودھ میں صاف پانی ملایا ہو کیوں کہ ملاوٹ کا اندیشہ تو سو فی صد ہے۔ جہاں لائف سیونگ ڈرگز میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہو وہاں ایمان داری کی توقع فضول ہے۔

ہر شخص اپنے حصے کی کرپشن دھڑلے سے کرتا ہے۔ ریڑھی لگانے والے فٹ پاتھ پر ناجائز قبضہ کر لیتے ہیں۔ پھل فروش گاہک سے نظر بچا کر گلے سڑے پھل تول دیتے ہیں۔ کلرک بغیر رشوت کے فائل آگے نہیں بڑھاتے، وکیل اپنے ہنر سے طاقت ور مجرم کو چھڑا لیتے ہیں اور ججز بے گناہوں کو پھانسی کی سزا سنا دیتے ہیں۔ اور کچھ نہ ہو تو لوگ جعلی نوٹ چلا دیتے ہیں مگر کسی دوسرے کی خطا معاف کرنے پر کبھی تیار نہیں ہوتے۔

براہِ کرم ان باتوں کا یہ مطلب مت لیجیے کہ چوں کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے لہٰذا رابی پیرزادہ کے نازیبا ویڈیوز بنانے کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اگر لوٹ مار اور کرپشن کرنے والوں کو معاف کیا جا سکتا ہے، اگر ملاوٹ کرنے والوں، جعلی دوائیں بنانے والوں، حرام گوشت کھلانے والوں، تاریخ کا چہرہ مسخ کرنے والوں، بچوں کی غذا دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں، غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں اور ریپ کرنے والوں کو معاف کیا جا سکتا ہے تو ایک گلوکارہ کو اتنی شدت سے ملامت کا مرکز کیوں بنایا جا رہا ہے۔

مندرجہ بالا برائیوں کے خلاف بھی وقتاً فوقتاً کوئی نہ کوئی آواز اٹھتی ہے مگر سرسری سی جو کہ انہیں معاف کرنے کے ہی مترادف ہے اور رابی پیرزادہ کے پیچھے لوگ یوں پڑے ہیں جیسے اس کے جرم سے اس سماج کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندییشہ ہو۔ اگر اس واقعے پر مہذب انداز میں افسوس کا اظہار کیا جاتا تو شاید سماج کی دیگر لڑکیاں ایسی حرکت کا خیال تک نہ دل میں لاتیں مگر شاید یہ اس شدت پسندی کا نتیجہ یہ ہے کہ لڑکیوں نے ‘آئی ایم رابی پیرزادہ’ نامی تحریک کے تحت انٹر نیٹ پر اپنی برہنہ تصویریں اپ لوڈ کرنا شروع کر دی ہیں۔ چناں چہ رابی پیرزادہ کو بھی معاف کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بار بار ایک دوسرے سے یہ سوال پوچھنے سے کچھ نہیں ملے گا کہ رابی پیرزادہ نے اپنی نازیبا ویڈیوز کیوں بنائیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •