مجھے جنگ سے ڈر لگتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"azhar

گزشتہ تین ہفتوں سے ٹیلی ویژن پر جاری مباحث، سنسنی خیز خبروں، اخبارات کی شہ سرخیوں اور ریڈیو پر جاری رواں تبصروں سے میں خوفزدہ ہوتا ہوں۔ کسی غیر معمولی  خبر پر میری ضرورت سے زیادہ دلچسپی  سے میں خود چونک جاتا ہوں۔ بعض اوقات  ٹیلی ویژن پر جاری مباحثے کا کوئی میزبان اپنے مقابل کسی مہمان سے کوئی انتہائی اہم سوال کرتا ہے تو کسی سنجیدہ مہمان (کوئی وزیر، سیاسی شخصیت  یا کوئی دفاعی امور کی تجزیہ نگار سابق عسکری شخصیت ) کا غیر سنجیدہ جواب سن کر میں سہم سا جاتا ہوں۔ اخبارات کے اداریے اور شہ سرخیاں مجھے چونکا دیتے ہیں۔  میں تخیل میں سماعتوں اوربصارتوں سے گزرے الفاظ کے نشتر کو  اپنے اندر سمونے کے لیے جب فضا میں گھورتا ہوں تو  ایمرجنسی الارم کی آواز کے ساتھ افق کے اس پار سے جہازوں کے غول آتے دکھائی دیتے ہیں، جو افق کے قریب کی آبادیوں پر فولاد کے گولے برسا رہے ہوتے ہیں۔ فولادی گولے  آبادیوں پر پڑتے ہی آگ کے شعلوں اور دھویں سے فضا آلودہ ہو جاتی ہے۔ جوں جوں جہازوں کا غول قریب آتا ہے، آگ  کے شعلوں کے ساتھ ساتھ چیخوں کی صدا سے میرے کان پھٹنے لگتے ہیں، ایک دلدوز چیخ کی صدا سے میرا خیال ٹوٹ جاتا ہے۔ میں خوفزدہ حالت میں اپنے سر کو زور سے جھٹک کر ان بے معنی خیالات پر اپنے آپ کو کوستا ہوں۔

بے معنی سوچوں اور  بے ہنگم خیالات کو رفع کرنے کے لئے میں سماجی رابطوں کی ویب سا ئٹ پر اپنے آپ کو  مصروف کرنے کی سعی کرتا  ہوں، لیکن میری ٹائم لائن پر کم وبیش الیکٹرانک میڈیا جیسی خبریں گردش کر رہی ہوتی ہیں، سماجی رابطوں کی تمام ویب سائٹس پر میرے اکثر دوست جنگ کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں۔ میں جان بوجھ کر ایسی خبروں پر توجہ نہیں دیتا۔ پھر اچانک سے ایک عبارت پر میں ٹھٹھک جاتا ہوں، کسی دانش مند انسان نے لکھا ہوتا ہے ؛

’’اگر جنگ کرنا ہی مقصود ہے تو آؤ سرحد کے دونوں طرف بھوک اور افلاس سے جنگ کریں، آؤ جہالت سے لڑیں، آؤ  بیماریوں سے سسکتے ہوئے انسانوں کے علاج کیلئے جنگ کریں ، آؤ  جن کے سر پر صرف آسمان کی چھت ہے ان کے لئے لڑیں، آؤ سسکتی  بلکتی انسانیت کے زخموں کا مداوا کرنے کے لئے اُن کو زخم دینے والوں کے ساتھ لڑ پڑیں، آؤ دہشت اورانتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے اُن سے لڑ پڑیں جو دہشت کو پنپنے  کیلئے وسائل مہیا کرتے ہیں، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ سرحد کے اس پار ہوں یا اُس پار۔‘‘

میرے اندر کی مایوسی اور ہیجان تھوڑا سا کم ہوتا ہے اور اچھی بات کرنے والے انسان کو  تعریفی کلمات سے نوازنے کیلئے الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے میری نظر تحریر کے نیچے تبصروں پر پڑتی ہے۔ میں چونک جاتا ہوں کہ ستر فیصد سے زیادہ لوگوں نے تحریر لکھنے  والے کو یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ، بزدل، کافر اور غدار ایسے القابات سے نوازا ہو تا ہے۔

دل بہلانے کے لئے قریبی بازار کے چائے کے اسٹال کا رخ کرتا ہوں۔ میرے سبھی دوست اپنے فارغ اوقات میں  اسی چائے خانے پر ہوتے ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ اُس چھوٹے سے ٹی سٹال پر بھی جنگ کی باتیں ہی چل رہی ہوتی ہیں۔ میں ہمت کر کے گفتگو میں دخل اندازی کرتا ہوں۔ سب  دوست متوجہ ہوتے ہیں اور میں جنگ کی مخالفت میں دلائل دیتے  ہوئے یہ بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ جنگ کے مضمرات بیان کئے جائیں، چھوٹے سے ٹی سٹال پر بیٹھے سب لوگ  میری بات سے اتفاق کرتے ہوئے دلائل کا آغاز ’لیکن‘ سےکرتے ہیں تو میرا دل بیٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔ میں پھر سے ہمت باندھنا شروع کر تا ہوں اور ممکنہ دلائل کے جوابات کے بارےسوچتے  ہوئے  گفتگو کرنے والے کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔

گفتگو میں میرا مد مقابل قرون اولیٰ سے چلتا غزوۂ ہند تک آتا ہے۔ وہ میرے غزوۂ ہند  کے مفہوم سے انکار پر میرے عقیدے اور حب الوطنی پر شاکی ہوتا ہے۔ بات جب آگے بڑھتی ہے تو  گفتگو میں شامل تمام افراد مجھے غیر ملکی ایجنٹ کہنے سے نہیں چوکتے۔ ایک دوست رعونت بھرے لہجے میں جہاد افغانستان کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں میری رائے جاننے کے لئے سوال کرتا ہے۔ اس دوست کے سوال سے  گویا میری کھوئی ہوئی توانائی بحال ہوجا تی ہے۔ میں افغانستان جنگ کی ہولناکیوں اور اُس جنگ سے خطّے کے بنتے بگڑتے مسائل کو واضح کرتا ہوں۔  میں شام، یمن اور ترکی کے جنگ زدہ عوام کی مشکلات کو واضح کرتا ہوں اور داد طلب نظروں سےمدمقابل کی طرف دیکھتا ہوں کہ شاید اب میری باتوں سے مرعوب ہوکر وہ جنگ مخالف ہو جائے مگر وہ پھر پوری قوت سے جوابی حملہ کرتا ہے۔ وہ مقدس حوالہ جات کے ساتھ  پھر جنگ اور شہادت کے فضائل بیان کرتا ہے۔ وہ دشمن کو زیر کرنے کے لئے اپنی فوجی قوّت اور جذبۂ ایمانی کا معترف ہے۔ وہ مخالفین کو نیست و نابود کرنے کے لئے غیبی مدد کا تذکرہ کرتا ہے۔ وہ پچھلی  چاروں جنگوں کے نتیجے کو اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے انہیں جیتی ہوئی جنگیں قرار دیتا ہے۔  ہماری اس بحث کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ میرے سامنے پڑی ہوئی چائے ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ میں چائے کی پیالی ہاتھ میں لیکر اُسے شربت کی طرح پی جاتا ہوں اور ایک سرد آہ بھر کراجازت طلب کرتا ہوں ۔

گھر واپسی پر جنگ کے ممکنہ نقصانات کے اندازے لگاتا ہوں، مجھے میرے اُس دوست کا خیال آتا ہے جس کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے اور اسکا گھر سرحد ک بالکل قریب ہے، اتنا قریب  کہ مخالف فوج کی چوکی پر بیٹھا ایک ماہر نشانے باز اُس کے گھر سے باہر نکلنے والے کسی بھی فرد کی زندگی ایک گولی سے چھین سکتا ہے۔

 مجھے ایک دوست کے ریسٹورنٹ کا خیال آتا ہے جس نے کشمیر سے ہجرت کی تھی۔ وہ مختلف نجی اداروں میں کام کرنے کے بعد اس قابل ہوا کہ اپنا کاروبار کر سکے۔  2005 میں سرحد پر فائر بندی کے بعد جب آزاد کشمیر میں سیاحوں کی آمدورفت شروع ہوئی تو اُس نے   سیاحوں کے لئے ایک گیسٹ ہاؤس اور ریستوران بنایا تھا۔ اس نے خود محنت کر کے اپنے بھائی کو میڈیکل کی تعلیم دلوائی۔ اب اس کے بھائی کی تعلیم مکمل ہونے والی ہے  اگر جنگ ہوئی تو وہ اپنے بھائی کو شائد ڈاکٹر کے سفید گاؤن میں نہیں دیکھ پائے گا۔

مجھے شکر گڑھ  کی سرحد  پر رہنے والی اُن ماؤں کا خیال آتا ہے جن کے بیٹے  بڑی محنت سے جمع کئے ہوئے پیسے خرچ کر کے اپنی گھریلو معیشت کو بہتر بنانے کیلئے پردیس گئے ہیں۔ جنگ ہوئی تو  بیٹوں کا راہ تکنے والی آنکھیں اور ماتھا چومنے والے ہونٹ نہیں رہیں گے۔

مجھے سرحد کے اس پار آزادی کی جدوجہد میں اپنے بیٹے قربان کرنے والے والدین کا خیال آتا ہے کہ کسی بھی طرح کی جنگ کی صورت میں شاید وہ صبحِ آزادی دیکھنے کیلئے زندہ نہ رہیں۔

مجھے امرتسر کا وہ خاندان یاد آتا ہے جس کا بیٹا اپنے باپو کے کندھے سے ہل کا بوجھ اتارنے کے لئے کینیڈا چلا گیا تھا۔ بیلوں کی جگہ ٹریکٹر، رہٹ کی جگہ ٹیوب ویل اور کچے آنگن کی جگہ کوٹھی ڈل چکی مگر وہ بیٹا ایک دفعہ بھی واپس دیس نہ آ سکا۔ شاید اگلی بیساکھی میں ماں نے بیٹے کی شادی طے کر رکھی ہو مگر جنگ ہوئی تو گولی کب ماں کے ارمانوں کی قدر کرے گی۔

میرا دھیان  سرحد کی دونوں طرف کچی بستیوں میں آباد اُن لاکھوں انسانوں کی طرف جاتا ہے جو پینے کے صاف پانی، بیت الخلاء اور چھت جیسی بنیادی ضروریات  سے محروم ہیں ، حکومت نے شاید اس بار اُن کیلئے مستقل چھت کا بندوبست کرنے کیلئے  بجٹ مختص کیا ہو مگر جنگ کی صورت میں اُن کے سر پر تنکوں کی چھت بھی باقی نہیں رہے گی۔

میں چلتے ہو ئے رک جاتا ہوں۔ آنکھیں بند کرکے کھڑا ہوتا ہوں تو بمبئی، گجرات، تامل ناڈو، آندھرا پردیش، کرناٹک، کراچی، گڈانی اور گوادر کے ساحلوں پر نیلی نیکر اور سُرخ قمیض پہنے کئی بچے ریت پر اوندھے منہ پڑے دکھائی دیتے ہیں، آنکھیں کھولتا ہوں  تو پتھرائی ہوئی آنکھوں والے مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اُن کا قصور کیا ہے؟

میں گھر کے دروازے پر پہنچتے ہوئے گھنٹی پر ہاتھ رکھنے سے ڈرتا ہوں جیسے یہ کسی ایٹم بم کا ریمورٹ کنٹرول ہو اور اس کے دبانے سے کئی کروڑ انسان لقمۂ اجل بن جائیں گے۔

مجھے اس بات کی قظعاً کوئی پرواہ نہیں کہ لوگ مجھے بزدل، ایجنٹ ، غدار یا کوئی بھی لقب دیں، مگر میں جنگ کا مخالف ہوں  کیونکہ مجھے جنگ سے ڈر لگتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply