افتاد کی افواہ اور لہو کی ایک بوند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہوائیں سنگ دل ہیں، شاخوں پر کوئی پتہ سبز نہیں رہا، باغ میں زردی کھنڈ گئی ہے۔ ایسی خزاں کہ کھلیانوں میں کھڑی فصلوں کو ٹڈی دل نے آ لیا۔ گلیاں اجڑ گئی ہیں، بازار نخاس میں مندے کی ہولناک خاموشی ہے، گھروں کے چراغ بے نور ہیں، سہاگنوں کے دوپٹے میلے ہو گئے ہیں۔ درد مند بندی خانوں میں ہیں، پاسبانوں نے فصیل شہر سے منہ موڑ لیا۔ طفلاں گلی کوچہ کی ہاؤہو معنی سے خالی ہے۔ ایک ہجوم چوک میں جمع ہے اور سمت نہیں جانتا۔ گرگ گرسنہ کے نتھنوں میں لہو کی باس ہے۔ بلندیوں میں پرواز کرتے پرندوں کی آنکھ بستیوں کے سلامت بام و در شمار کرتی ہے، درویش کی نظر مگر جانتی ہے کہ شہر پناہ کی بنیاد میں بست و در باقی نہیں رہا، صرف دو عورتیں ہیں۔ ایک نوے برس کی ماں ہے اور ایک پختہ سال بیٹی۔ بغداد کی ایک نیم روشن گلی میں نوگرفتار یحییٰ برمکی آسمان کی طرف دیکھتا ہے اور خود کلامی کرتا ہے کہ رات کی آنکھ میں شناسائی ہے اور یہ بہت دیر ٹھہرے گی۔ تاریخ لکھنے والا گوشہ گمنامی میں وہ حکایت لکھتا ہے جو ایک کے بعد دوسری نسل دہراتی چلی جائے گی۔

زبان خلق روایت کرتی ہے کہ نوے سالہ ماں نے بیمار بیٹے کے سامنے سپر ڈالنے کی تجویز رکھی تو اطاعت گزار بیٹے نے شاید پہلی مرتبہ خاموشی کی زبان میں انکار کیا۔ بیٹے نے بھلے تاریخ کا درس بالاستیعاب تحصیل نہیں کیا لیکن ایک عمر تاریخ سازی کی راہ میں بسر کی ہے۔ ماہ و سال کے چار عشروں پر محیط نشیب و فراز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اسے شاید ہجری تقویم کا سنہ 70 یاد ہے جو ایک اور عہد میں اسما بنت ابوبکر صدیقؓ نامی ماں اور سن شفق میں اترتے بیٹے عبداللہ بن زبیرؓ کی داستان ہے۔ تب ماں نے بیٹے کو عزیمت کا درس دیا تھا۔ اور بیٹا تعمیل کرتے ہوئے شام سے آنے والی سپاہ کے ہاتھوں حرم پاک کی حدود میں مارا گیا تھا۔ غنیم کے سالار نے حکم دیا کہ مقتول سردار کو سولی سے لٹکایا جائے۔ اس عالم میں تین روز گزر گئے۔ خلقت نے دیکھا کہ بوڑھی ماں سہمے ہوئے شہر کے سناٹے میں چلتے ہوئے وہاں پہنچی جہاں اس کے بیٹے کا لاشہ سرافراز تھا۔ آنکھ بھر کر دیکھا اور صرف یہ کہا، ’شہسوار ابھی اپنی سواری سے نہیں اترا‘۔ قسم ہے پیدا کرنے والے کی، ہماری تاریخ میں جہاں ظلمت کا باب آیا ہے، وہیں حریت کی ایک روشن بوند بھی ضرور ملتی ہے۔ نہایت اس کی حسین ؓ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ۔

ماں اور بیٹے کی اس حکایت کے دوسرے حصہ کی روایت کسی قدر ضعیف ہے کہ ایک صفحے سے منسوب دور عبور کی مختصر داستان کو جگہ جگہ سے دیمک نے چاٹ لیا ہے۔ داستان گو جو سن سکا اور سمجھ سکا، عرض کرتا ہے۔ اخبار میں لکھا گیا ہے کہ پختہ عمر بہن یا شاید بیٹی نے لندن مراجعت پر اصرار کیا تو گوناگوں عوارض سے دوچار لیکن مزاحمت پر ڈٹے ہوئے بوڑھے سردار نے ایسا جواب دیا کہ تاریخ کے پتھر پر نقش رہے گا ۔’عوام کے حقوق کی جدوجہد میں سندھ سے کتنے تابوت نکلے ہیں؟ بلوچستان اور سرحد سے کتنے جنازے نکلے ہیں؟ اگر اس مقصد کو پانے کے لئے ایک تابوت پنجاب سے بھی نکلے تو مجھے فخر ہو گا۔‘

خدا نہ کرے کہ درماندہ قوم کو ایک اور تابوت اٹھانا پڑے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس ارادے کے اظہار میں پاکستان کا وفاق مکمل ہو گیا۔ شہیدوں کی فہرست طویل ہے اور شہیدوں کو اسم شماری سے غرض نہیں ہوتی۔ لیکن بلوچ لہو کی لکیر نواب نوروز خان زرک زئی سے اسد مینگل اور پھر حمید بلوچ سے ہوتی ہوئی نواب اکبر بگتی تک پہنچتی ہے۔ بابڑا کے شہیدوں کی روایت ہنگو کے کمسن بیٹے اعتزاز حسین سے ہوتی ہوئی میاں افتخار حسین کے بیٹے راشد حسین اور بشیر بلور تک آتی ہے۔ سندھ نے گڑھی خدا بخش بھٹو کا قبرستان ہی آباد نہیں کیا، حسن ناصر اور نذیر عباسی کا نذرانہ بھی دے رکھا ہے۔

جمہوری جدوجہد میں پنجاب کا حصہ وفاق کی کسی اکائی سے گھٹ کے نہیں رہا لیکن جغرافیے اور تاریخ کی کچھ پیچیدگیاں ظرف سے مظروف مراد لیتی آئی ہیں۔ تاریخ کا ستم ہے کہ وقت کی دیوار کے پار ٹہنیاں نظر نہیں آتیں، جنگل گنے جاتے ہیں۔ اور اقتدار کی لڑائی میں پنجاب کا جنگل زور آور کی کچھار قرار پایا۔ جو دھرتی میجر اسحاق اور قسور گردیزی جیسے بیٹے جنم دیتی ہے، اسے ہراول کی صف اول میں بھی نظر آنا چاہیے تھا۔

ٹھیک سے بتانا مشکل ہے کہ میاں نواز شریف نے وہ لکیر کب عبور کی جہاں پہاڑی چشمے دریا کے چوڑے اور پراعتماد پاٹ میں بدل جاتے ہیں۔ جہاں سر کے ایک تان پلٹے میں بلمپت کی لے درت کے خروش سے ہم آغوش ہو جاتی ہے۔ جہاں سولی کے نکتے پر پیمبر بات کرتے ہیں۔ یہ بہرحال طے ہے کہ پنجاب کی زمیں سے یہ مقام اب نواز شریف نے اپنے نام کر لیا ۔ اجازت دیجئے کہ شرف انسانی کے اس ذکر میں پنجاب کے ایک ایسے بیٹے کو یاد کر لیا جائے جس کا نام اب فراموشی کے گھاٹ اتر چکا۔

فیروز الدین منصور کا سیاسی سفر تحریک خلافت کی ہجرت سے شروع ہوا۔ سوویت یونین میں اشتراکی انقلاب کی تعلیم سے بھگت سنگھ کی رفاقت تک پہنچا۔ آزادی کی لڑائی اور طبقاتی جدوجہد میں تال میل ایسا جوکھم تھا کہ ڈاکٹر محمد اشرف اور جواہر لال نہرو میں نہ نبھ سکی۔ دادا ایف ڈی منصور کو تو پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی انور علی سے واسطہ پڑا تھا۔ فرنگی کی قید و بند نے کم عمری ہی میں دمہ اور دوسرے امراض بخش دیے تھے۔ ایوب خان کی آمد کے بعد داروگیر کا سلسلہ شروع ہوا تو قریب المرگ فیروز الدین منصور آخری مرتبہ دھرے گئے۔ جیل کے ڈاکٹروں کی تجویز پر فروری 1959 میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ چند ماہ بعد جون 1959 میں کامریڈ ایف ڈی منصور کا انتقال ہوا تو فیض صاحب جنازے میں شرکت کے لئے شیخوپورہ گئے۔ سبط حسن سے روایت ہے کہ آنکھیں شدت غم اور ضبط گریہ سے سرخ ہو رہی تھیں۔ سیگرٹ سے سیگرٹ جلا رہے تھے اور اس عالم میں وہ مرثیہ نما غزل ہو گئی۔

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی، ترے جانثار چلے گئے

تری رہ میں کرتے تھے سر طلب، سررہگزار چلے گئے

 نہ رہا جنون رخ وفا یہ رسن یہ دار کرو گے کیا

جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •