کیا آپ عورت اور مرد کی دوستی کو معیوب سمجھتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ مرد ہیں تو کیا آپ نے کبھی کسی عورت سے،  اوراگر آپ عورت ہیں توکبھی کسی مرد سے دوستی کی ہے؟ عموماً اس سوال کا جواب انکار ہی ہو گا کیونکہ ہمارے مشرقی معاشرے میں عورت اور مرد کا تعلق جنس کی عینک پہن کر دیکھا جاتا ہے۔ ازدواجی اورغیر ازدواجی تعلّق کے علاوہ کسی تیسرے تعلّق کا تصوّرہی محال ہے۔ دو انسانوں کے مابین سیدھی سادھی معصوم اور سادہ دوستی کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بانو قدسیہ نے ایک دفعہ یہ تک لکھ دیا کہ: ”اپنی ماں،  بہن اور بیٹی کے علاوہ عورت اور مرد کے رشتے کے پیچھے ایک ننگا مرد کھڑا ہوتاہے۔“ کیونکہ بانو قدسیہ صاحبہ نے جس معاشرے میں جنم لیا اور زندگی بِتائی وہ صدیوں سے ثقافتی گھٹن کا شکار معاشرہ ہے۔ بقول اسد اللہ خان غالب:۔

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسد

سر گشتئہ خمارِ رسو م و قیود تھا

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے ؟میرے نزدیک دوستی ایک خوبصورت اور حسین رشتہ ہے۔ یہ دنیا کا واحد رشتہ ہے جو آپ اپنی مرضی اور خوشی سے قائم کرتے اور پروان چڑھاتے ہیں۔ آپ کے والدین، بہن بھائی اور دیگر رشتہ دار کون ہیں۔ اس پر آپ کا اختیار نہیں ہے مگر اپنے دوست آپ خود اپنی خوشی اور رضا مندی سے بناتے ہیں۔ ماضی میں دانشوروں نے دوستی جیسے خوبصورت رشتے کو مختلف پیرائے میں بیان کرنے کی سعی کی ہے۔ مثال کے طور پر: ”اگر آپ کسی دوسرے انسان کی حفاظت، عزّت اور خوشی کا خیال اس طرح رکھیں جس طرح آپ اپنی حفاظت، عزّت اور خوشی کا خیال رکھتے ہیں تو اس انسان کے ساتھ آپ کو گہری محبت ہے۔ جو دوستی کی پہلی سیڑھی ہے۔ “پھر کسی نے اس رشتے کو یوں بھی بیان کیا ہے:۔ ”ہمیں اپنی دوستی کو اپنی ہی بُری عادتوں سے بچا کر رکھنا چاہیے۔ “معروف نفسیات دان ڈاکٹر خالد سہیل کے مطابق:”دوستی ایک کیک ہے اور رُومان اس کیک پر آئسنگ (Icing) کا کام کرتا ہے۔ جنس کی ہوَس اور شادی کا بندھن، دوستی جیسے معصوم، سادہ اور پُر خلوص رشتے کو پھیکا اور بے کیف کر سکتے ہیں۔ “ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ : ”اگر ہم دوسرے انسان کی عزت و توقیر کو اپنا شعار بنا لیں تو دوستی جیسا خوبصورت رشتہ صحن میں لگی باگن وِلیا کی طرح پروان چڑھتا ہے۔

مگر اس کے لیے ہوم ورک کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم دوست کو عورت یا مرد کے خانے سے نکال کر انسانیت کے وسیع اور کُشادہ ہال میں بٹھا دیں۔ جلوت ہو یا خلوت، آپ دوسرے عورت یا مرد کو صرف انسان سمجھیں۔ جنس پرستی کا سامان نہ سمجھیں۔ اور یہ کہ مرد یا خاتون دوست کے ساتھ خلوت میں جنس کے بے لگام گھوڑے کو بے مہار نہ ہونے دیں۔ جب تک میں نے یہ ہوم ورک نہیں کیا تھا مجھے خدشہ تھا کہ میں جذبات کی رو میں بہہ کر کسی بھی فرینڈ کو گرل فرینڈ بنا لوں گا۔ اپنا ہوم ورک کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد میں بانو قدسیہ صاحبہ کی بات سے قطعاً اتّفاق نہیں کرتا۔ کیا صرف اپنی ماں، بہن اور بیٹی قابل احترام خواتین ہیں؟ کیا عام مرد اور عام عورت عزّت کے قابل نہیں ہیں؟اور وہ صرف جنسی تعلق قائم کرنے کے لئے ہیں؟

میرے حلقئہ احباب میں ایک کثیر تعداد خواتین کی ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ خواتین دوستی کے معاملے میں زیادہ مخلص، سنجیدہ اور وفادار ہوتی ہیں۔ 1996ء میں جب میں ملازمت کے سلسلے میں ایبٹ آباد میں تعینات تھا تو ایک نوجوان لڑکی سے میری قلمی دوستی کا آغاز ہوا۔ پھر اس کی شادی اور میری پوسٹنگ ہو گئی۔ رابطہ منقطع ہو گیا۔ میں اس کا نام تک بھول گیا تھا۔ حال ہی میں اس خاتون نے مجھ سے 24 سال بعد رابطہ کیا اور دوستی کی تجدید کرنا چاہی۔ اس نے میرے چند محبت بھرے بول اور اپنی بچپن کی شاعرانہ دوستی کو اتنے طویل عرصے تک کیوں اور کیسے یاد رکھا۔ یہ عورت کا ہی وصف ہو سکتا ہے جو حیرت انگیز ہے۔

میں نے اپنا ہوم ورک 35 سال کی عمر میں اس وقت کیا جب میں نے برطانیہ میں اپنی ایک رشتے دار دوست کے گھر تین شب قیام کیا۔ ہم دونوں گھر میں اکیلے رہتے تھے۔ بلکہ ایک شب ایک ہی کمرے میں ہی گزارنی پڑی۔ مجھے رات کو یا صبح اُٹھ کر ایک دفعہ بھی یہ خیال نہیں آیا کہ میں ایک مرد اور وہ ایک بھرپُور عورت ہے۔ میرے اعتماد میں اس وقت اوربھی اضافہ ہوا جب میری ایک نوجوان خوبصورت اور شاعرہ دوست نے میرے گھر خلوت میں پورے دو دن گزارے۔ ہم پُورا دن سیر سپاٹے کرتے، گھر پر آرام کرتے، شام کو ڈنر پر معروف شعراءکی شخصیات اور شاعری پر طویل بحث و مباحثہ جاری رہتا۔ اس کے علاوہ ادب، فلسفہ اور نفسیات جیسے لطیف اور ثقیل موضوعات زیرِبحث رہتے۔ اس کے بعد ہم ایک دوسرے کو شب بخیر کہہ کر اپنے اپنے کمرے میں سو رہتے۔ مگر ہم دونوں میں سے کسی کو بھی جسمانی طور پر قریب ھونے کا خیال نہیں آیا کیونکہ ہم نے اپنی دوستی میں جنس کے اثر کو غالب نہیں ہونے دیا۔  ایک بارجب میں نے اس شاعرہ دوست سے پوچھا کہ ہماری دوستی کے بارے اس کا کیا خیال ہے؟ تو اس نے ہنس کر جواب دیا:”ہماری دوستی دو لکھاریوں کی علمی دوستی ہے۔ ہم گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ نہیں ہیں۔ موجودہ رشتہ بہت خوبصورت ہے۔ “اور وہ رشتہ آج تک اسی طرح پوری ترنگ سے قائم ہے۔

میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی دوستی سے زیادہ سیکھتا ہوں۔ اور ان کے ساتھ دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

دوستی جیسا عظیم اور خوبصورت رشتہ اس وقت مسائل سے دوچار ہو جاتا ہے جب ہم دوست کے ساتھ ضرورت سے زیادہ توقّعات وابستہ کر لیتے ہیں یا پھر ہم اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں اس دوستی کو اچھا سمجھتا ہوں جس میں آپ دوست کو اُڑنا سکھاتے ہیں نہ کہ پَر کاٹتے ہیں۔ آپ اپنے دوست کو زندگی میں آگے بڑھتا اور ترقّی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک زندہ انسان کا دوست مرد بھی ہو سکتا ہے اور عورت بھی۔ پھر مرد اور عورت کی دوستی معیوب کیوں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آج کا مشرقی مرد شرم و حیا، غیرت، مذہب اور رسم و رواج کو ہتھیار بنا کر عورت کو اس جدید اور روشن دور میں بھی محکوم و مجبور رکھنا چاہتا ہے؟

باہمی تعلق کو باہمی رضا مندی سے طے شدہ ضوابط پر استوار کیا جائے۔ باہمی عزّت و احترام اور خواہش کو ملحوظ ِ خاطر رکھّا جائے اور آپ کے پاس ڈائیلاگ کرنے کے لئے مشترک موضوعات بھی ہوں تو عورت اور مرد کی دوستی سے بڑھ کر کوئی خوبصورت رشتہ نہیں ہے۔  معروف شاعرہ پروین شاکر نے کیا خوب کہا تھا:

میں اس کی دسترس میں ہوں، مگر وہ

مجھے میری رضا سے مانگتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نعیم اشرف کی دیگر تحریریں
نعیم اشرف کی دیگر تحریریں