پونم سے میری پہلی ملاقات اسلام آباد میں مصوری کی ایک نمائش میں ہوئی تھی۔ نیشنل آرٹ گیلری میں سجائی گئی اس نمائش میں تجریدی آرٹ کے ذریعے لوک داستانوں کے رومانوی مناظر پر بہت باریک کام تھا۔ ایک کونے میں تجریدی فن کے ذریعے پریمیوں کے مختلف آسنوں کی تصویر کشی کی گئی تھی۔ یہ درجن بھر فن پارے پونم پریت کے تھے۔ مصورہ کی تخلیقی صلاحیت، رنگوں کی زبان اور بے باکی نے مجھے اس کی طرف پہلی دفعہ مائل کیا۔ علیک سلیک کے بعد میں نے اس کو کوہسار مارکیٹ میں کافی پینے کی دعوت دے ڈالی۔
دو چار ملاقاتوں میں پونم کی شخصیت کے مزید پہلو سامنے آئے۔ وہ قریب ستائیس اٹھائیس برس کی ہوگی۔ گندمی رنگ، دراز زلفیں، پانچ فٹ قد سے ذرا اوپر قد، صراحی دار گردن، مست و بیدار آنکھیں اور بھر پور نسوانی حسن کی حامل پونم خوبصورت سے زیادہ پر کشش تھی۔ اپنا لباس خود ڈیزائن کرتی تھی، اکثر کرتہ پائجامہ پہنتی مگر موسم اور موقع کے مطابق شلوار قمیض، پائجامہ یا جینز اور شرٹ بھی پہن لیتی تھی۔ دوپٹہ یا سکارف وغیرہ سے بے نیاز ہونے کے باوجود اس کا پہناوا سادگی، وقار اور جدت کا دلکش امتزاج ہوتا۔ وہ عموماً کول واٹر ’پرفیوم‘ استعمال کرتی جس کی دھیمی، ٹھنڈی اور تازہ خوشبو اس کے قریب رہنے کی ایک امنگ سی بیدار کر دیتی تھی۔ اس کا شمار ان خواتین میں کیا جاسکتا ہے، جو انسان کے اندر سے اس کے بہترین اوصاف باہر نکال لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
Read more