’سالک‘ کی باتیں

نعیم اشرف کا خالد سہیل کو خط محترم و مکرم ڈاکٹر خالد سہیل تسلیمات! مجھے اُمید ہے کہ میری یہ چٹھی آپ کو ہمیشہ کی طرح ہرا بھرا اور باغ و بہار پائے گی۔ میں نے SEEKER کے نام سے آپ کی سوانح حیات 2018 ء میں پڑھ لی تھی۔ اس کے چھ سال بعد جب یہی کتاب سالک کے نام سے اردو میں شائع ہوئی تو دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا۔ پھر جب اس سال فروری میں کتاب کی

Read more

کارل مارکس کا تخلیقی سفر (تخلیقی اقلیت سے ایک باب)

  حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب: ”تخلیقی اقلیت“ ، ڈاکٹر خالد سہیل کی انگریزی تصنیف: CREATIVE MINORITY کا اُردو ترجمہ ہے۔ ’تخلیقی اقلیت‘ میں منتخب تخلیقی شخصیات، جن میں فلسفی، سائنسدان، ادیب، شاعر، فنکار اور انقلابی رہنما شامل ہیں، جامع مضامین لکھے گئے ہیں۔ ان مضامین میں ان کے نظریات، فکر، اور فلسفے کا گہری نظر سے مطالعہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر خالد سہیل نے بطور نفسیات دان ان معتبر شخصیات کا نفسیاتی تجزیہ بھی

Read more

تخلیقی اقلیت کے بارے میں مکالمہ

16 مئی 2025 ء محترم و مکرم جناب ڈاکٹر خالد سہیل! مجھے اُمید ہے کہ آپ بخیریت اور ہمیشہ کی طرح اپنی گرین زون زندگی کے مزے لے رہے ہوں گے۔ مجھے اکثر اوقات آپ کی زندگی پر رشک بھی آتا ہے۔ اس کی وجہ اگلی سطور میں خود بخود واضح ہو جائے گی۔ پیارے ڈاکٹر صاحب! ہم دونوں کو مبارک ہو کہ ہماری مشترکہ کتاب : ”تخلیقی اقلیت“ گزشتہ ماہ پاکستان میں شائع ہو کر کینیڈا پہنچ چکی ہے۔

Read more

جنگ کا شوق اور طوفاں سے آشنائی

پاک و ہند کے درمیان حالیہ چار روزہ جنگ 10 مئی کو بند ہو گئی۔ یہ جنگ یک دم کیوں ختم ہو گئی؟ اس بارے میں تجزیہ کار حلقوں میں تین آراء گردش کر رہی ہیں : پہلی رائے یہ ہے کہ امریکہ بہادر اس وقت تک جنگ میں نہیں کُودا تھا جب تک ہندوستان، پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگا کر دھمکیاں دے رہا تھا۔ پھر ہندوستان نے پاکستان پر میزائلوں سے حملہ کر دیا۔

Read more

تخلیقی اقلیت (حصہ دوئم)

” تخلیقی اقلیت“ انگریزی کتاب : CREATIVE MINORITY کا اردو ترجمہ ہے۔ ماہِ رواں میں پاکستان سے شائع ہونے والی ڈاکٹر خالد سہیل کی 488 صفحات پر مشتمل تصنیف کا ترجمہ میں نے گزشتہ دو برس میں مکمل کیا۔ ان سالوں کے دوران مجھے ایک جذباتی بحران کا بھی سامنا تھا مگر اس قدر ذہنی دباؤ کے عالم میں ترجمے کا عمل میرے لیے اعصابی آسودگی کا باعث بنا۔ گویا اس کتاب نے نہ صرف میرا ذہنی کیتھارسس CATHARSIS کیا

Read more

پاک و ہند تناؤ: جوش میں ہوش کی ضرورت

  22 اپریل 2025 کو نامعلوم دہشت گردوں نے ایک ظالمانہ حملہ کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع انت ناگ کی بستی پہلگام سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر بیسراں کے پر فضا سبزہ زاروں میں 25 سیاحوں اور ایک مقامی باشندے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جس دن یہ سانحہ پیش آیا اس وقت وہاں پر 2000 سے زائد سیاح موجود تھے۔ مستند میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وحشیانہ حملے میں 20 افراد شدید زخمی بھی

Read more

خالد سہیل اور حامد یزدانی کی مشترکہ محبوبہ

کتاب کے سرورق پر ”مشترکہ محبوبہ“ کا عنوان سامنے آتے ہی دل میں ایک شرارتی سی جنبش ہوتی ہے اور پہلا خیال یہی آتا ہے کہ یہ کسی سانجھی معشوقہ کی داستانِ دلفریب کا بیانیہ ہو گا۔ یا کوئی جادوگر حسینہ کی کتھا جو دو افراد پر عاشق ہو گئی ہے۔ اور اب اپنی کتھا سنا رہی ہے۔ مگر اس دلفریب عنوان کے نیچے اس مخمصے کو ایک بریکٹ کے اندر یہ تحریر لکھ کر دور کر دیا گیا کہ

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی خود گزشت : سالک

میں ڈاکٹر خالد سہیل کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی خود گزشت : ’سالک‘ بڑے رسان سے مجھے مطالعے کے لیے ٹورانٹو سے کیلگری بھجوائی۔ جب میں ’سالک‘ کا مطالعہ کر رہا تھا تو مجھے اپنا آغازِ کتب بینی کا وہ زمانہ یاد آ رہا تھا جس کا آغاز میں نے سوانح عمریوں سے کیا تھا۔ مجھے وہ دن یاد آرہے تھے جب میں امیر تیمور کی آپ بیتی : ”میں ہوں

Read more

روزمرہ کی نفسیات

تخلیق: صادقہ نصیر تبصرہ: نعیم اشرف بدین (سندھ ) کا باشندہ اور میرا سابق رفیقِ کار ابو بکر لغاری (فرضی نام) آج کل لاس ویگس (امریکہ) میں رہتا ہے۔ اس نے مجھے چند ماہ پہلے خبر دی کہ وہ سخت پریشان ہے اور اس کو خدشہ ہے کہ اس کے اور اس کی بیوی میں طلاق ہونے جا رہی ہے۔ میاں بیوی کے تین بچے ہیں۔ میں نے اس کو فی الحال رُک جانے اور دماغ ٹھنڈا رکھنے کا مشورہ

Read more

افسانوں کا مجموعہ : خاموش دستک

حبیب شیخ کے 46 افسانوں پر مبنی کتاب ”خاموش دستک“ رواں سال پاکستان سے شائع ہوئی ہے۔ میں حبیب شیخ صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے گزشتہ ماہ یہ کتاب مجھے بطور خاص اپنے آٹو گراف کے ساتھ ٹورانٹو سے کیلگری بھجوائی۔ کتاب کا تعارف ’پیش در پیش‘ کے عنوان سے مصنف نے خود تحریر کیا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے اپنے تخلیقی سفر کی کہانی بہت دلچسپ اور خوبصورت پیرائے میں بیان کی ہے۔ یہ کہانی

Read more

مرنے کے بعد کیا ہوگا؟

خرم غضنفر میرے نوجوان ادبی، علمی و فکری دوست ہیں۔فلسفیانہ سوچ کے حامل خرم ایک با عمل نوجوان ہیں ۔ کچھ باتوں پر نظریاتی اختلاف کے باوجود ہمارے درمیان ایک گہری دوستی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے سامنے اپنا اپنا موقف بیان کرتے ہیں مسلط نہیں کرتے اور نہ اس کے درست ہونے پر زور دیتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں میرا خرم کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمہ ہوا۔ جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

Read more

مکمل ضابطہِ حیات اور مذہب کا مقدمہ

ضابطۂ کا ماخذ ”ضبط“ ہے۔ جس سے مراد قابو میں رکھنا یا کنٹرول کرنا ہے۔ مگر ضابطہِ حیات کا عمومی مطلب رہن سہن اور زندگی کرنے کا قاعدہ مستعمل ہے۔ چند افراد جہاں اکٹھے رہتے ہیں وہ آپس میں امن اور آشتی سے رہنے کے لیے کچھ قواعد و ضوابط مقرر کر لیتے ہیں۔ یہ عمل ایک گھر سے لے کر ایک محلے، شہر اور پورے ملک و معاشرے کے امن اور آشتی کے لیے لازمی قرار پاتا ہے۔ معاشرہ

Read more

پُرسکون زندگی کا راز : گرین زون فلسفہ

”ان تمام مردوں اور عورتوں کے نام جو ایک پر سکون زندگی گزارنا اور ایک پر امن معاشرہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔“ یہ فقرہ کتاب کا دلکش انتساب ہی نہیں بلکہ خوُبصورت خواب بھی ہے۔ زیرِ نظر کتاب کا نام ”پرُ سکون زندگی کی طرف سات قدم“ ہے جو ڈاکٹر خالد سہیل اور محترمہ ثمر اشتیاق کی مشترکہ تصنیف ہے۔ حال ہی میں کراچی (پاکستان ) سے شائع ہونے والی یہ کتاب انسانی نفسیات کا تجزیہ اور خود تشخیصی کے

Read more

فیصل عظیم کی شاعری: میری آنکھوں سے دیکھو

کوئی کرتب ہے گویا زندگی بھی کہ رسی پر چلیں اور ڈگمگائیں! سال رواں کے جون میں جب یہ مسافر ٹورنٹو کے دورے میں وہاں کی ادبی تنظیم فیملی آف دی ہارٹ کی ادبی فضا سے لُطف اندوز ہو رہا تھا ، احباب کی محبتیں سمیٹ رہا تھا اور وہاں کی تخلیقی فضا کے تازہ جھونکوں میں سانس لے رہا تھا تو اس کو بڑی چاہت سے چند ادبی تحائف بھی پیش کیے گئے ۔ان ادبی تحائف میں سے ایک

Read more

کیا آپ موت کا انتظار کر رہے ہیں؟

میں یہ مضمون اپنے ایک بچپن کے دوست کے والد کی زندگی کی کہانی سے شروع کر رہا ہوں۔ میرے دوست ارشد محمود کے والد چوہدری سلیم احمد 1950 میں میرپور آزاد کشمیر کے ایک مضافاتی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے میاں محمد بخش کالج میرپور سے گریجویشن کرنے کے بعد واپڈا میں ملازمت اختیار کر لی جہاں وہ انسپکٹر آف ورکس تعینات ہو گئے۔ اگلی ایک دہائی کے دوران ان کے ہاں تین بیٹیاں اور ایک بیٹے نے

Read more

دُعا عظیمی کے افسانوں کا مجموعہ : فریم سے باہر

فطرت نے ہر بچے کے اندر ایک جوہرِ خاص رکھا ہوتا ہے۔اور وہ جوہرِخاص’ تخلیقی جوہر‘ ہوتا ہے۔جس کی آبیاری اگر ایک محبت انگیز اور حوصلہ افزائی کرنے والے ماحول میں ہو تو اس کی تخلیقی صلاحیت اجاگر ہوتی ہے اور وہ ایک سائنسدان، مفکر ، فلاسفر ، سیاسی لیڈر ، انقلابی رہنما، موسیقار، فنکار ، لکھاری یا شاعر بن کر اپنے معاشرے میں بسنے والے افراد کی زندگی میں محبت ، راحت اور مسرت کے رنگ بھر دیتا ہے۔

Read more

پاکستان میں شدت پسندی کا بڑھتا ہوا رجحان

گزشتہ دنوں بین الاقوامی میڈیا پر ایک اندوہ ناک واقعہ رپورٹ ہوا۔ خبر کے مطابق صوبہ ’خیبر پختون خواہ‘ کے ضلع سوات کی تحصیل مدین میں سیر کے لیے آئے ہوئے ایک 36 سالہ نوجوان کو پولیس اسٹیشن کے اندر قتل کرنے کے بعد لاش کو آگ لگا دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق بد نصیب سیاح سیالکوٹ سے چھٹیاں گزارنے کے لیے وادیِ سوات میں آیا ہوا تھا۔ وہ وہاں کے ایک پر فضا پہاڑی مقام مدین کے مقامی ہوٹل

Read more

دُنیا داری سے دلداری تک: سفرنامہِ ٹورانٹو (2)

اتوار 9 جون 2024 ء کی شام کو تھارن کلف میں ہمارا استقبال طحہٰ مسعود لودھی نے کیا۔ تھارن کلف ٹورانٹو کے مضافات میں ایک ٹاؤن ہے جس کی آبادی کم و بیش 20 ہزار نفوس پر مشتمل ہوگی۔ اس آبادی کا پچاس فی صد پاکستانی، بنگالی اور افغانی باشندوں پر مشتمل ہے۔ جب کہ دیگر نصف سفید فام، سیاہ فام فلپائن اور کورین تارکین وطن پر مشتمل ہے۔ وہاں جا کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جگہ پر پاکستانی،

Read more

دُنیا داری سے دلداری کا سفر- سفرنامہِ ٹورانٹو ( 1 )

کینیڈا میں رہتے ہوئے مجھے اب ایک سال ہونے کو ہے۔ میں صوبہ ’البرٹا‘ کے شہر کیلگری میں رہتا ہوں۔ ایک مترجم، کتاب دوست اور لکھاری ہونے کے ناتے تخلیقی اور ہم خیال شخصیات کے ساتھ میری نسبت و قربت رہتی ہے۔ کیلگری میں ادبی تنظیمیں تو موجود ہیں مگر ابھی تک ان میں شمولیت نہیں ہو سکی۔ البتہ چار گھنٹے کے ہوائی فاصلے پر موجود ٹورانٹو کی ادبی تنظیم : ’فیملی آف دی ہارٹ‘ کے ساتھ منسلک ضرور ہوں۔

Read more

محمد حفیظ خان کا ناول : ہر ایک جنم کی جانما

حال ہی میں شائع ہونے والا محمد حفیظ خان کا ناول ”ہر ایک جنم کی جانما“ ایک تاریخی ناول ہے۔ اردو میں تاریخی ناول نگاری کی تاریخ اگرچہ پرانی ہے مگر ماضی قریب میں اس کا چلن ہمیں نسیم حجازی، ڈاکٹر وحید احمد (زینو) ، خوشونت سنگھ (ٹرین ٹو پاکستان) اور امرتا پریتم (پنجر) کے ہاں نظر آتا ہے۔ موجودہ دور میں اس روایت کو حفیظ خان نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل ان کا ناول ”انواسی“ تاریخی

Read more

کیا آپ تخلیقی اقلیت سے واقف ہیں؟

دنیا کے ہر معاشرے میں افراد کے دو گروہ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ روایتی اکثریت اور تخلیقی اقلیت۔ روایتی اکثریت پر مشتمل افراد مروجہ معاشرتی رسم و رواج اور اصول و ضوابط کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی سوچ اور ترجیحات معاشرے اور خاندان کے بنائے گئے سانچوں میں ڈھلی ہوتی ہیں۔ جن سے انحراف گناہ اور جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ روایتی اکثریت میں تخلیقی اذہان نہ ہونے کے برابر ہوتے

Read more

پونم پریت افسانہ (آخری قسط)

میں نے یادوں کے جھروکوں سے باہر دیکھا تو ایک ایک سروس ایریا کا سائن بورڈ نظر آیا۔ میں نے توقف کیا۔ گاڑی کو ری فیول کیا اور ریسٹورنٹ کے باہر کھلے برآمدے میں بیٹھ کر میک ڈانلڈ کا میک عریبیہ کھانے لگا۔ تازہ دم ہو کر جب دوبارہ موٹر وے پر آیا تو دماغ میں لاہور کے گیسٹ روم کا منظر ابھی تک قائم تھا : ’صبح جب میری آنکھ کھلی تو کمرے کا عجیب منظر تھا۔ کھڑکی کے

Read more

پونم پریت افسانہ (4)

ہم موٹروے پر شیخوپورہ پہنچے تو پونم نے کسی ریسٹ ایریا میں رک کر ہوا خوری کرنے کی خواہش کی۔ ہم گاڑی پارک کر کے تھوڑی دیر ٹہلتے رہے۔ پونم نے اگلے روز لاہور سے کچھ شاپنگ کرنی تھی اور اس سے اگلے روز علی الصبح برطانیہ کے لئے پرواز بھرنی تھی۔ اس لئے پونم کی خواہش پر ہم نے اگلی دو راتیں لاہور میں ہی گزارنی تھیں۔ اس کے کہنے پر میں نے ملک الطاف حسین کے توسط سے

Read more

پونم پریت ( افسانہ) (قسط نمبر 3 )

میرے اسلام آباد منتقل ہو جانے کے بعد بڑی ماں کو میری شادی کی تشویش ستانے لگی۔ میں ہر سال گرمیوں میں گاؤں جاتی ہوں۔ تین سال قبل گئی تو انھوں نے تین رشتے میرے سامنے رکھ دیے۔ میں ایسے موقعوں پر خاموشی سے موضوع بدل جایا کرتی تھی۔ مگر اب کی بار وہ اصرار کرنے لگ گئیں۔ میں چونکہ شادی کا ارادہ ہی ترک کر چکی تھی لہٰذا انکار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ محبت، دوستی یا کم

Read more

پونم پریت (2)

ہم کلر کہار کے سروس ایریا پہنچنے والے تھے۔ دونوں کو چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ میں نے پارکنگ کے کونے میں گاڑی روک دی اور پونم کو چائے وغیرہ پیش کی، ہم دونوں چند منٹ تک گاڑی سے باہر نکل کر ماحول سے محظوظ ہوتے رہے اور جب دوبارہ موٹر وے پر آئے تو چند منٹ کی خاموشی کے بعد پونم دوبارہ بولی: ”بابا کے جانے کے بعد میری طبیعت میں یاسیت اور افسردگی رہنے لگی تھی۔ کچھ

Read more

پونم پریت ( افسانہ)   (قسط نمبر۔ 1 )

پونم سے میری پہلی ملاقات اسلام آباد میں مصوری کی ایک نمائش میں ہوئی تھی۔ نیشنل آرٹ گیلری میں سجائی گئی اس نمائش میں تجریدی آرٹ کے ذریعے لوک داستانوں کے رومانوی مناظر پر بہت باریک کام تھا۔ ایک کونے میں تجریدی فن کے ذریعے پریمیوں کے مختلف آسنوں کی تصویر کشی کی گئی تھی۔ یہ درجن بھر فن پارے پونم پریت کے تھے۔ مصورہ کی تخلیقی صلاحیت، رنگوں کی زبان اور بے باکی نے مجھے اس کی طرف پہلی دفعہ مائل کیا۔ علیک سلیک کے بعد میں نے اس کو کوہسار مارکیٹ میں کافی پینے کی دعوت دے ڈالی۔

دو چار ملاقاتوں میں پونم کی شخصیت کے مزید پہلو سامنے آئے۔ وہ قریب ستائیس اٹھائیس برس کی ہوگی۔ گندمی رنگ، دراز زلفیں، پانچ فٹ قد سے ذرا اوپر قد، صراحی دار گردن، مست و بیدار آنکھیں اور بھر پور نسوانی حسن کی حامل پونم خوبصورت سے زیادہ پر کشش تھی۔ اپنا لباس خود ڈیزائن کرتی تھی، اکثر کرتہ پائجامہ پہنتی مگر موسم اور موقع کے مطابق شلوار قمیض، پائجامہ یا جینز اور شرٹ بھی پہن لیتی تھی۔ دوپٹہ یا سکارف وغیرہ سے بے نیاز ہونے کے باوجود اس کا پہناوا سادگی، وقار اور جدت کا دلکش امتزاج ہوتا۔ وہ عموماً کول واٹر ’پرفیوم‘ استعمال کرتی جس کی دھیمی، ٹھنڈی اور تازہ خوشبو اس کے قریب رہنے کی ایک امنگ سی بیدار کر دیتی تھی۔ اس کا شمار ان خواتین میں کیا جاسکتا ہے، جو انسان کے اندر سے اس کے بہترین اوصاف باہر نکال لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

Read more

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

اگر آپ کسی ایسے ہوائی جہاز میں سوار ہوں جس کا پائلٹ مے نوشی میں مبتلا ہو تو آپ کی کیفیت کیا ہوگی؟ ظاہر ہے آپ سمیت جہاز میں سوار عملے اور مسافروں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو گا۔ اسی طرح آپ کی ہارٹ سرجری ایک خمار آلود ’ہارٹ سرجن‘ کر رہا ہو تو اس صورت میں بھی آپ کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہو گا۔ یہی مثال شراب کے خمار میں مبتلا ہو کر خود اپنی

Read more

اپنوں کے ہاتھوں بے توقیر سائنسداں ڈاکٹر عبدالسلام (حصہ دوم)

ڈاکٹر عبدالسلام کی دوسری محبت مسلمان تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ مشرق کے مسلمان معاشرے بہترین تعلیم سے بہرہ مند ہو کر مغرب کے مقابلے میں آجائیں۔ ان کا ماننا تھا مسلمان سائنسی ترقی کی دوڑ سے صدیوں قبل دست بردار ہو چکے ہیں اور وہ اس بات پر دُکھی تھے کہ بہت سے دیگر مسلمان ممالک کی طرح پاکستان بھی شرح خواندگی کے اعتبار سے بہت کم درجے پر ہے۔ سلام مسلمانوں کے شاندار تعلیمی ورثے پر فخر

Read more

اپنوں کے ہاتھوں بے توقیر سائنسداں نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام

ترجمہ و تخلیص : نعیم اشرف (کینیڈا) پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ شخص عبد السلام کا دماغ ایک سائنسدان کا، دل ایک شاعر کا اور شخصیت ایک صوفی کی تھی۔ ان کے رفیق کار اور ہم عصر نوبل انعام یافتہ شیلڈن گلیشو نے عبدالسلام کے لیے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا : ”وہ ایک مہربان، شفیق اور معتبر انسان تھے۔“ عبدالسلام جہاں ہمہ گیر، کثیر جہتی اور کثیر صلاحیتی شخصیت کے مالک تھے وہاں ان کے کردار کے

Read more

عبدالغفار خان ایک امن پسند پٹھان

ترجمہ تخلیص : نعیم اشرف 1972 ء کی وہ سہ پہر یاد رکھنے کے لائق ہے جس دن عبدالغفار خان افغانستان میں اپنی طویل جلا وطنی کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔ جب وہ پشاور کے مشہور جناح پارک میں جلسہ گاہ پہنچے تو مجمعے نے پر جوش نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ دور سے وہ لاغر، ضعیف اور نازک لگتے تھے۔ مگر جب انھوں نے خطاب کیا تو ان کی آواز چاروں طرف سے اس طرح گونجی جیسے

Read more

بنوں میں عورت، علم اور استاد کی تذلیل

گزشتہ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک شرمناک ویڈیو گردش کر رہی ہے۔ اس ویڈیو میں ملاؤں کا ایک گروہ ایک ڈپٹی کمشنر کے روبرو ایک معلم سے زبردستی سرعام معافی منگوا رہا ہے۔ ملاؤں کے بیچ سہما ہوا استاد، اس بات کو حرف آخر تسلیم کر رہا ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں کم عقل ہے۔ اور وہ ان تمام افکار و خیالات اور جدید سائنسی تحقیق کو باطل سمجھتا ہے جو شریعت کی رو سے درست نہیں

Read more

الجھن (افسانہ)

انٹرنیشنل گرامر اسکول میں او لیول کی طالبہ علیزے نے یوں تو ’ٹو نیشن تھیوری‘ کے نام سے ایک نظریے کے بارے میں سرسری سا پڑھ رکھا تھا مگر آج جس سلیس زبان سے میم صائمہ بتول نے ہسٹری کی کلاس میں اس کی وضاحت کی۔ یہ نظریہ اس کی سمجھ میں کافی حد تک آ گیا تھا۔ ٹیچر نے بتایا تھا کہ : ” نو دہائی قبل جنم لینے والا دو قومی نظریہ مذہبی قومیت کے اصول پر بنایا

Read more

گلگت بلتستان: کیا پاکستان فرقہ وارانہ فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے؟

گزشتہ ہفتے کے دوران گلگت بلتستان میں ایک شیعہ عالم و سماجی کارکن پر توہین مذہب کے الزام میں گرفتاری کے بعد پورا خطہ فرقہ وارانہ فسادات کے دہانے پر جا کھڑا ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں شیعہ برادری سے متعلق افراد بلا خیز سرد موسم کے باوجود سکردو میں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے گزشتہ مضمون : ’بلاسفیمی کی سیاست اور انسانی حقوق‘ میں اس خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔

Read more

بلاسفیمی کی سیاست اور انسانی حقوق

16 اگست 2023ء کو فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالا میں مسیحی آبادی پرایک کالعدم مذہبی جماعت کے شدت پسندوں کی یلغار کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقلیتیں ایک تواتر سے مسلم اکثریت کے ہاتھوں ظلم و ستم سہتی آ رہی ہیں۔ پاکستان میں مذہب کی آڑ میں غیر مسلم آبادیوں پر مظالم کی داستان نہایت خونچکاں ہے۔ انسانی حقوق تو رہ گئے ایک طرف، اقلیتوں کا پاکستان میں زندہ رہنا ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

Read more

محبت کی پرواز اور شادی کا پھندا

محبت ایسا جذبہ ہے جس کو رنگ، نسل، دین دھرم، جغرافیائی سرحدوں، مالی حیثیت اور شادی جیسے پنجروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ محبت کسی اصول اور ضابطے کو نہیں مانتی۔ بلاشبہ انسانی شعور کے ساتھ رومانوی سائنس کا بھی ارتقا ہوا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے جہاں دیگر شعبوں میں اپنی رفتار تیز کی ہے وہاں رومانوی جد و جہد کے لمحات بھی سکڑ گئے ہیں۔ ماضی بعید میں محبت کو پروان چڑھتے چڑھتے کئی برس لگ جاتے

Read more

ہیگل ایک فلسفیانہ معما ( 4 )

ترجمہ و تخلیص : نعیم اشرف نرمبرگ میں ہیگل اس قدر معروف ہو گئے کہ وہ شہر کے معززین میں شمار ہونے لگے۔ ان کو مختلف گروپ اور کنبے اپنی تقریبات میں مدعو کرتے اور وہ ان میں خوشی خوشی شامل ہوتے۔ اس طرح وہ شرفاء کے کلب کے ممبر بھی بن گئے اسی شہر میں ان کی ملاقات ’میری واں ٹوشر‘ سے ہوئی اور وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ بالآخر ہیگل اپنی جذباتی بدرُوح سے نجات

Read more

ہیگل ایک فلسفیانہ معما (3)

آسکر وائلڈ نے کہا تھا: ”زندگی میں دو قسم کے المیے ہوتے ہیں، ایک المیہ یہ ہے کہ آپ کو زندگی میں وہ نہ مل سکے جس کی آپ خواہش کرتے ہیں اور دوسرا المیہ یہ ہے کہ آپ کو وہ سب کچھ مل جائے جس کو حاصل کرنے کی آپ کو شدید خواہش رہی ہو۔“ ہیگل کو دوسری قسم کا المیہ درپیش تھا۔ اپنا خواب پورا ہونے کے بعد ان پر دو قسم کے جذباتی دباؤ تھے۔ ایک اپنی

Read more

ہیگل ایک فلسفیانہ معما (2)

1870ء کی دہائی کے اوائل میں ہیگل، ہولڈرن اور شیلنگ، فریڈرک ہائینرک جیکوبی کی تحاریر اور ”نظریۂ وحدت الوجود کا تنازعہ“ جیسے موضوعات پر مباحث میں پوری طرح شامل ہو چکے تھے۔ جیکوبی نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں اس نے انکشاف کیا تھا کہ لیسنگ ’وحدت الوجود‘ کا قائل ہے۔ لہٰذا سپینوسٹ ہے۔ ’ یہ خبر جرمنی کے فکری حلقوں پر ایک بم بن کر گری۔ کیونکہ لیسنگ ایک قابل احترام شخصیت کا مالک تھا۔ مگر سپینوزا کا

Read more

ہیگل ایک فلسفیاتی معمہ ( 1 )

جرمن فلسفی، جارج ول ہیلم فریڈرک ہیگل، گزشتہ تین صدیوں کے دوران سب سے زیادہ جانے مانے اور سب سے کم سمجھ میں آنے والے فلسفی ہیں۔ ایک طرف جہاں وہ جرمنی میں وطن پرستی کی حمایت کرنے پر مورد الزام ٹھہرائے جاتے تھے وہاں نوجوان کارل مارکس کو جذبہ محرکہ فراہم کرنے پر قدر کی نگاہ سے بھی دیکھے جاتے تھے۔ اکیسویں صدی کے جدید فلسفے کے طلباء اور اساتذہ ہیگل سے محبت کریں یا نفرت، مگر ان کو

Read more

جنرل مشرف : پلے بوائے ڈکٹیٹر

یہ 1990 کا ذکر ہے جب میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کے لیے ایک درجن سے زائد آرمی کے برگیڈیئرز کی سمری جی ایچ کیو سے وزارت دفاع کے ذریعے اس وقت کی وزیراعظم (محترمہ بے نظیر بھٹو مرحوم) کو منظوری کے لیے بھجوائی گئی۔ وزیر اعظم نے برگیڈیئر پرویز مشرف کے سوا تمام برگیڈیئرز کی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کی منظوری دے دی۔ کچھ دنوں بعد وزیراعظم نے جی ایچ کیو کا رسمی دورہ کیا۔ بریفنگ

Read more

کتاب کا نام : عہد میرا مجھے پہچان نہ پایا عاؔرف

کسی تخلیق کار کی کامیابی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کی تخلیق سبک رفتار سمے کی دھول میں اپنا وجود قائم رکھ سکے۔ مقصدیت، معنویت اور افادیت وہ اوصاف ہیں جو اس وجود کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہیں۔ تفریحی اور رومانوی ادب کی اپنی اہمیت ہے مگر تفریحی یا رومانوی ادب میں وہ پائیداری نہیں جو ادب عالیہ میں پائی جاتی ہے۔ مثلاً رومانوی شاعری میں محبوب کی گیسوئے تابدار، نسوانی حسن، غزالاں سو

Read more

عمران خان کی فاشسٹ تحریک اور جوانوں کا مستقبل!

اطالوی تاریخ داں، فلسفی، نقاد، ناول نگار اور سیاسی و سماجی مبصر ”امبرٹو۔ ایکو“ نے ”ار۔ فاشزم“ کے نام سے فاشزم پر ایک طویل مضمون لکھا۔ مضمون کا ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ ہر فاشسٹ تحریک کے مرکز میں ایک کلٹش پرسنیلٹی (جتھہ ساز شخصیت) لازمی طور پر موجود ہوتی ہے۔ ان کے مضمون کے اہم نقاط کچھ یوں ہیں : ”فاشسٹ لیڈر ہمیشہ کلٹ بناتا ہے، جدیدیت کی مخالفت کرتا اور ماضی کی مثالیں دیتا ہے۔ اس کی

Read more

آغا گل کا ناول: دشت وفا

گزشتہ دنوں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف ناول نگار اور افسانہ نگار آغا گل کا ناول ”دشت وفا“ پڑھنے کو ملا۔ پڑھ کر یوں محسوس ہوا جیسے میں کہانی کے کرداروں کے ساتھ ساتھ گھوم پھر رہا ہوں۔ 160 صفحات پر مشتمل، یہ ناول فکشن ہاؤس لاہور نے 2017 ء میں شائع کیا تھا۔ کہانی کے آغاز میں ہماری ملاقات چند ایسے ہم جماعت و ہم خیال نوجوانوں سے ہوتی ہے، جن کے روشن مستقبل کے خواب صوبہ بلوچستان

Read more

کیا آپ انائس نن سے واقف ہیں؟ (2)

فرانسیسی نژاد امریکی شہری انائس نن، ڈائری نگار، ناول نگار، افسانہ نگار اور شہوت انگیز مضمون نویس تھیں۔ نائس نن 21 فروری 1903 ء کو فرانس کے شہر ’نیولی‘ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا پورا نام : ”انجیلہ انائس ژانہ انطولینہ روزا ایڈل میرا نن کومل“ تھا۔ ان کے آبا و اجداد کیوبا سے ہجرت کر کے فرانس جا بسے تھے۔ ان کی وجہ شہرت ڈائری نویسی، تخلیقی ذات کا تصور، خواتین کی مکمل آزادی اور ایک پر امن انسانی

Read more

کیا آپ انائس نن سے واقف ہیں؟ (1)

شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ فرانسیسی نژاد امریکی شہری انائس نن (Anaïs Nin)، ڈائری نگار، ناول نگار، افسانہ نگار اور شہوت انگیز مضمون نویس تھیں۔ انائس نن 21 فروری 1903ء کو فرانس کے شہر ’نیولی‘ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی وجہ شہرت ڈائری نویسی، تخلیقی ذات کا تصور، خواتین کی مکمل آزادی اور ایک پرامن انسانی معاشرے کی جستجو ہے۔ انھوں نے ڈائری تحریر کرنے جیسی اہم صنف کو ادب کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا

Read more

نارمل انسان اور خوابوں کی حقیقت

” ہم سب“ فیملی کی خدمت میں ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی آخری قسط حاضر خدمت ہے۔ یہ کتاب دو سائنسدانوں کے درمیان مذہب، سائنس اور نفسیات جیسے موضوعات پر ایک پر مغز اور دلچسپ مکالمے پر مبنی ہے۔ راقم نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ گزشتہ برس کیا جو کینیڈا میں چھپ چکا ہے۔ دوسرا (اردو ) ایڈیشن پاکستان میں اس ماہ شائع ہوا ہے۔ چھٹی قسط کا موضوع جہاں عام انسان کی زندگی میں ہمیشہ سے گونجتا

Read more

بنی نوع انسان میں کیا خاص بات ہے؟

” ہم سب“ فیملی کی خدمت میں اردو کتاب : ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی پانچویں قسط حاضر خدمت ہے۔ یہ کتاب دو سائنسدانوں کے درمیان مذہب، سائنس اور نفسیات جیسے موضوعات پر ایک مر مغز اور دلچسپ مکالمے پر مبنی ہے۔ انگریزی کتاب گزشتہ برس شمالی امریکہ میں چھپی تھی اور ایمازان پر موجود ہے۔ راقم نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ گزشتہ برس کیا جو کینیڈا میں چھپ چکا ہے۔ دوسرا (اردو ) ایڈیشن پاکستان میں اس

Read more

کامیابی کیا ہوتی ہے؟ ( مذہب، سائنس اور سائیکالوجی) قسط : 4

” ہم سب“ فیملی ممبرز کی خدمت میں اردو کتاب : ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی چوتھی قسط حاضر ہے۔ یہ مضامین دو سائنسدانوں نے ایک دوسرے کو خطوط کی صورت میں لکھے ہیں۔ مکمل کتاب پاکستان میں طباعت کے مراحل میں ہے اور قوی امید ہے کہ کتاب رواں ماہ (مارچ) میں مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ اس مضمون میں ”کامیابی ’‘ کیا ہوتی ہے؟ اور ایک کامیاب انسان کون ہوتا ہے؟ کے موضوع پر ایک دلچسپ مکالمہ کیا گیا

Read more

طبیعات اور مابعدالطبیعات میں کیا فرق ہے؟ ( 3 )

” ہم سب“ فیملی کی خدمت میں اردو کتاب : ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی تیسری قسط حاضر ہے۔ یہ مضامین دو سائنسدانوں نے ایک دوسرے کو خطوط کی صورت میں لکھے تھے۔ مکمل کتاب پاکستان میں طباعت کے مراحل میں ہے اور قوی امید ہے کہ کتاب امسال مارچ کے نصف تک دستیاب ہوگی۔ دوسری قسط کا موضوع جہاں دلچسپ ہے وہاں کسی قدر سنجیدہ بھی ہے جو انسانی سوچ کا زاویہ بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مضمون

Read more

نیوٹن، آئن سٹائن اور سٹیفن ہاکنگ کی سائنسی خدمات – 2

معزز قارئین! اردو کتاب : ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی دوسری قسط، اقتباس کی صورت حا ضر ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ مضامین دو سائنسدانوں نے ایک دوسرے کو خطوط کی صورت میں لکھے تھے۔ مکمل اردو کتاب پاکستان میں طباعت کے مراحل میں ہے اور قوی امید ہے کہ کتاب امسال مارچ کے نصف تک دستیاب ہوگی۔ دوسری قسط کا آغاز خالد سہیل کے ایک سوال سے ہوتا ہے : خالد سہیل : اب بطور طبیعیات

Read more

مذہب سائنس اور نفسیات (1)

آوارگی ایک خوبصورت تجربہ ہے۔ بلکہ بقول نامور شاعر حسن عباس رضا : آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے اس نعمت کی سعادت سے ناچیز 10 سے اوپر دیس گھوم چکا ہے۔ مگر آوارگی کی طویل مسافتوں کے دوران بھی اپنی تخلیقی ورکشاپ برابر کام کرتی ہے اور تجربات و مشاہدات قلمبند ہوتے رہتے ہیں۔ میرے گزشتہ برس کا زیادہ حصہ شمالی امریکہ میں گزرا۔ اس دفعہ اپنے پرانے دوستوں سے ملاقاتیں کیں، کچھ نئے دوست بنے، چند نئی

Read more

کشمیر کے نام پر ڈرامے بازی بند ہونی چاہیے

ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتیٔ کشمیر منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر کے اہم مقامات پر جلوس نکلتے ہیں۔ جلسے منعقد کیے جاتے ہیں۔ تقریریں ہوتی ہیں۔ بینر لگائے جاتے ہیں جن پر اس طرح کے نعرے درج ہوتے ہیں :پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ کشمیر کے مسئلے

Read more

عمران خان اور ”پیچھے پھر! دوڑے چل!“ کے فوجی کاشن

پاکستان ملٹری اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہوئے تین دہائیوں سے اوپر کا عرصہ بیت چکا مگر پی ایم اے میں عرصہ تربیت کی یادیں ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں آج بھی زندہ ہیں۔ یہ یادیں زیادہ تر روز مرہ جسمانی تربیت (پی ٹی پیریڈ) ، ڈرل (رائفل کے ساتھ پریڈ) اور ویپن ٹریننگ (ہتھیار سکھلائی) وغیرہ کی تربیت سے منسوب ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ یادیں بھی قابل ذکر ہیں جن میں زیر تربیت کیڈٹس کو اکیڈمی سے باہر

Read more

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کی تصنیف: وہ سب جو آپ کو ذیابیطس کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے

زندگی فطرت کا سب سے قیمتی عطیہ ہے اور صحت مند زندگی قدرت کا ایک ایک عظیم تحفہ۔ مگر جیسے جیسے سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، زندگی کی سہولتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور رہن سہن کے طریقے آسان سے آسان تر ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد، تن آساں اور سہل پسند بنتی جا رہی ہے۔ اکثر لوگ پیدل چلنے، جسمانی کام کرنے اور باقاعدہ ورزش جیسی عادات اپنانے سے پہلو تہی کرتے

Read more

انسانی نفسیات کے راز : ایک ماہر نفسیات کی ڈائری

کتاب: انسانی نفسیات کے راز : ایک ماہر نفسیات کی ڈائری مصنف : ڈاکٹر خالد سہیل تبصرہ : نعیم اشرف انسان تین عناصر کا مرکب ہے : دماغ، جسم اور ذات یا ہستی۔ اس ذات یا ہستی کو سائنس کی ترویج سے قبل روح بھی کہا جاتا تھا اور اب جدید طبی سائنس اس کو انسانی شعور کہتی ہے۔ ان تینوں عناصر میں سے انسانی دماغ ایک پیچیدہ مشین ہے۔ ہمارے رویے، رجحانات، جذبات اور دوسرے افراد کے ساتھ رشتوں

Read more

محمد حفیظ خان کا ناول : حیدر گوٹھ کا بخشن

تبصرہ : نعیم اشرف محمد حفیظ خان کا ناول : حیدر گوٹھ کا بخشن، گزشتہ ماہ بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے۔ یہ ناول اتنا دلچسپ ہے کہ 359 صفحے کا ناول میں نے چند دنوں میں پڑھ لیا۔ ناول کے بارے میں چند تاثرات ’ہم سب‘ فیملی کے لیے پیش خدمت ہیں : کتاب کا سر ورق بہت دلکش ہے۔ اس میں ہمارے دیس بالخصوص پنجاب میں رائج ٹرک کلچر اور ٹرک ہوٹل نظر آتے ہیں۔ سرورق پر

Read more

سٹیفن ہاکنگ اور فلکیات کے راز

ترجمہ و تخلیص : نعیم اشرف سٹیفن ہاکنگ کا شمار اکیسویں صدی کے سب سے زیادہ ذی وقار اور سراہے جانے والے سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ بطور ایک فلکیات داں اور نظریہ ساز طبیعات داں ان کو اکیسویں صدی میں سب سے زیادہ شہرت نصیب ہوئی۔ ان کا یہ نظریہ کہ بلیک ہول شعاعیں خارج کرتے ہیں، ’ہاکنگ ریڈیئیشن‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ ہاکنگ کیمبرج یونیورسٹی میں کئی دہائیوں تک ریاضی کے پروفیسر اور شعبۂ تحقیق کے ڈائریکٹر کے

Read more

مسی ساگا کی گلیوں میں مرزا یار پھرے سفر نامہ کینیڈا ( 2 )

دورہ آنتاریو کے آخری دو دن مسی ساگا میں مرزا یاسین بیگ کے ساتھ گزرے۔ ہم ان کی سدا بہار، ہنستی کھلکھلاتی اور شگفتہ شخصیت سے دو دن تک خوب محظوظ ہوئے۔ ان کا گھر مسی ساگا میں اس گلی کی بغل میں ہے جس کا نام مسی ساگا کے پہلے مئیر رابرٹ اسپیک کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں بتایا : ”اس بات کا انکشاف مجھ پر اس وقت ہوا جب میں مسی ساگا کے مئیر کے بارے میں کوئی تحقیق کر رہے تھا۔ وہ دن اور آج کا دن میں کبھی اس گلی میں ننگے پاؤں نہیں گیا، کیلا کھا کر پھینکنے کی جسارت کی اور نہ کبھی تھوکنے کی۔“

Read more

کتابیں، کچھوے اور دوستیاں سفرنامہ کینیڈا (1)

ڈاکٹر سہیل زبیری اور ڈاکٹر خالد سہیل کی مشترکہ کتابی کاوش ”مذہب سائنس اور نفسیات“ کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں، 6 اگست سے 14 اگست تک ہم کینیڈا کے صوبے آنتاریو میں تھے۔ مجوزہ تقریب 7 اگست کو بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی تو کینیڈا کی معروف ادبی تنظیم ’فیملی آف دی ہارٹ‘ کے روح رواں ڈاکٹر خالد سہیل کے توسط سے سیر و تفریح اور تنظیم کے احباب کے ساتھ ادبی نشستوں کا سلسلہ چل نکلا، جو

Read more

ادب میں تراجم کی تاریخ اور اہمیت

زبانوں کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ زبانوں کے تراجم اپنی اہمیت کے اعتبار سے تین ادوار میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا دور، دور قدیم ہے۔ یہ وہ دور تھا جب انسانوں نے غاروں سے نکل کر دریاؤں کے کنارے بستیاں بسانی شروع کیں تھیں۔ اس دور میں ایسی ہی دیگر بستیوں کے مکینوں سے رابطے کے لیے ان کو ایک دوسرے کی بولی سمجھنے کی ضرورت تھی۔ دنیا کی سب سے پہلی تہذیب، سمیری،

Read more

ایک سائنسدان کے ساتھ چار دن

کینیڈا میں آج کل راتوں کو پورا چاند نظر آتا ہے۔ اور فضا چونکہ صاف ہے اس لیے اگر آپ شہر اور شاہراہوں کی روشنیوں سے دور نکل جائیں تو تارے بھی نظر آتے ہیں۔ مگر یہ وہ تارے نہیں جو دن کو نظر آتے ہیں۔ یہ تو ایک بات تھی اور دوسری بات ذرا سنجیدہ دلچسپ اور قدرے حیران کن ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ چاند اس وقت موجود ہوتا ہے جب آپ اس کو دیکھ رہے

Read more

ٹورانٹو میں، مذہب سائنس اور نفسیات، کی تقریب رونمائی

ڈاکٹر سہیل زبیری اور ڈاکٹر خالد سہیل کی مشترکہ تصنیف، مذہب سائنس اور نفسیات، کی تقریب رونمائی کے لیے 6 اگست کو ہم جنگلی گلابوں کے دیس، کیلگری سے عظیم جھیل اونتاریو کے ساحل پر آباد ٹورانٹو پہنچے تو درجہ حرارت 30 ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔ ٹورانٹو میں ان دنوں خوب گرمی پڑ رہی ہے۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ جس دن زیادہ گرمی پڑے اس سے اگلے روز بارش یا بادل آ کر موسمی توازن بحال کر دیتے

Read more

کینیڈا کے قدیم باشندے اور قدامت پسندی کا مرض

کینیڈا کے شہر کیلگری میں آج کل کہنے کو تو موسم گرما ہے۔ مگر پاکستان کے اعتبار سے موسم بہار ہی ہے کیونکہ درجہ حرارت شاذ ہی 20۔ 25 ڈگری سے اوپر جاتا ہے۔ ایسے موسم کا ایک خوبصورت دن کیلگری کی پبلک لائبریری میں گزارنے کے لیے آج صبح جب میں لوکل ٹرین میں داخل ہوا تووہ کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ جس کمپارٹمنٹ میں میں داخل ہوا اس میں میرے ساتھ ایک سفید فام دوشیزہ بھی داخل ہوئی۔

Read more

کیا سائنس نے تخلیق کائنات کا راز پا لیا ہے؟

12 جولائی 2022 ء کو ناسا (National Aeronautics and Space Administration) کے ماہرین فلکیات نے آج سے 13 ارب سال قبل، ہماری کائنات کی پیدائش کے وقت کی کچھ تصاویر دنیا کے سامنے رکھی ہیں۔ یہ بات بہت حیران کن اور دل چسپ ہے کہ قدیم کہکشائیں کس قدر مہیب، پراسرار اور خوبصورت تھیں۔ کہکشاؤں کی یہ تصاویر ”جیمز ویب“ نامی خلائی دوربین سے لی گئی ہیں۔ جیمز ویب James Webb ابھی تک تعمیر کی جانے والی خلائی دور بینوں

Read more

میری محبوباؤں کی کہانیاں

  میں جب اپنی پہلی محبوبہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا تو وہ لڑکپن کا زمانہ تھا۔ ہم کشمیر کے دور دراز پہاڑی علاقے میں واقع ایک گورنمنٹ کے اردو میڈیم اسکول میں پہلی دفعہ ملے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اس اسکول کی عمارت پتھروں سے بنی تھی۔ پہلی جماعت سے لے کر چھٹی جماعت تک بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتے تھے اور سرکنڈے کی قلم سے لکڑی کی تختی پر لکھتے تھے۔ چھٹی جماعت

Read more

کتاب: مذہب سائنس اور نفسیات

مصنفین : ڈاکٹر سہیل زبیری، ڈاکٹر خالد سہیل تبصرہ : نعیم اشرف انگریزی کتاب: ”ریلیجن، سائنس اینڈ سائیکالوجی“ کو اردو میں ترجمہ کرنے کا موقع راقم کو فراہم کیا گیا۔ یہ ترجمہ قریب 4 ماہ میں مکمل ہوا۔ اور کتاب کا نام ”مذہب سائنس اور نفسیات“ رکھا گیا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں جب ڈاکٹر خالد سہیل نے مجھے پاکستان فون کر کے ترجمہ کرنے کے لیے میری رضامندی مانگی تو میں نے حسب عادت کتاب پڑھنے کے لیے

Read more

دولت کے انبار، ذاتی انا یا وطن؟

یوں تو پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ اول روز سے ہی ایک تواتر کے ساتھ سانحات سے بھری پڑی ہے۔ مگر آج ہم سیاسی حادثوں کی بات کریں گے۔ پہلا حادثہ جنرل محمد ایوب خان کا مارشل لاء تھا جو 10 سال چلا اور جانے کے تین سال کے اندر اندر اپنے اثرات دکھاتے ہوئے ملک کو ایک بڑے سانحے سے دوچار کر گیا۔ پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ قوم پر سناٹا طاری ہو گیا۔ اس کے چند برس بعد

Read more

کیا آپ ڈاکٹر خالد سہیل کے گرین زون طریقہِ علاج سے واقف ہیں؟

اپنے آپ کو ہر وقت پر سکون و پر مسرت رکھنے کی ضرورت انسانوں کو جتنی آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ آج کی پر شور، تیز رفتار اور مشینی زندگی میں قدم قدم پر انسانوں کے ساتھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو ان کے جذبات بر انگیختہ کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ سیاسی کشمکش، معاشی مسائل اور لوگوں کے نامعقول روئیے ایسے ماحول میں غصے پر قابو اور مزاج دھیما رکھنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ انسانوں

Read more

ٹیکساس میں بچوں کا بہیمانہ قتل اور امریکہ میں ‘گن راج’

ٹیکساس، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی دوسری بڑی ریاست ہے۔ وسط جنوب میں واقع اور خیلجِ میکسکو سے ملحق 268596 مربع میل پر محیط ریاست ٹیکساس 3کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ آبادی کی تقسیم میں 21 فیصد ہسپانوی، 20 فیصد سیاہ فام، 19 فیصد بحرالکاحل کے جزائر کے باشندے، 17 فیصد مقامی، 10 فیصد ایشیائی، 9 فیصد سفید فام باشندے اور 4 فیصد متعدد شہریت کے حامل افراد بستے ہیں۔ ریاست کے مشہور شہر آسٹن (دارلخلافہ)، ساحلی شہر ہیوسٹن، اوکلو

Read more

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کا ذمہ دار کون ہے؟

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کا ذمے دار ہے کون؟ عالمی طاقتیں، سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ، یا خود ارباب سیاست؟ اس سوال کا جواب پاکستان کی مختصر تاریخ میں ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ آج سے 75 سال قبل پاکستان دنیا کے نقشے پر نمو دار ہوا۔ اس سے قبل بر صغیر پر مسلمانوں نے مختلف ادوار میں کل پانچ سو سال سے زائد عرصہ تک حکومت کی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی سامراج کی گرفت مقبوضہ علاقوں پر کمزور ہونا

Read more

تحلیل نفسی کا بابائے آدم : سگمنڈ فرائیڈ

انتخاب و ترجمہ : نعیم اشرف بابائے تحلیل نفسی سگمنڈ فرائیڈ ایک طبیب اور ماہر علم الاعصاب تھے۔ وہ 1856 ء میں آسٹریا کے شہر فری برگ میں ایک یہودی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ انھوں 1881 ء میں ویانا یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف میڈیسن کی ڈگری حاصل کی۔ تین سالہ ہاؤس جاب کرنے کے بعد فرائیڈ اسی یونیورسٹی میں پڑھانے لگے اور 1902 ء میں نیوروپتھالوجی کے پروفیسر بن گئے۔ 1896 ء میں اپنے والد کی وفات کے بعد انھوں

Read more

باپسی سدھوا کی کتاب : دیئر لینگوئج آف لو (Their Language of Love)

”دیئر لینگوئج آف لو“ ، باپسی سدھوا کی طویل کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ سدھوا کی پہلی زبان گجراتی ہے، دوسری زبان اردو اور تیسری زبان انگریزی ہے۔ مگر ان کا جملہ ادبی کام انگریزی میں ہے۔ جزیات نگاری، منظر کشی اور احساسات کو الفاظ دینے میں سدھوا ید طولٰی رکھتی ہیں۔ ”دیئر لینگوئج آف لو“ میں آٹھ طویل کہانیاں ہیں۔ جو طوالت کے باوجود اپنے اندر ریڈبیلیٹی کی صفت رکھتی ہیں۔ سدھوا بنیادی طور پر ناول نگار ہیں۔ اس لئے

Read more

سُرخ گلاب

محمد الیاس کی کتاب : سرخ گلاب ”سرخ گلاب“ گیارہ افسانوں، کہانیوں اور دو ناولٹ پر مشتمل محمد الیاس کی تازہ ترین کتاب ہے، جس کا سرورق خوبصورت مصوری کے ذریعے عارف علی ٹیپو نے ڈیزائن کیا ہے۔ 224 صفحات پر مشتمل کتاب کھولیں تو ابتدائیہ کچھ یوں آپ کا استقبال کرتا ہے : ”ابتدا میرے اللہ کے نام سے جو بجا طور پر متکبر ہے۔ مگر اس کی زمین پر ان کا کیڑا بھی گردن اکڑائے پھرتا ہے۔ “

Read more

کیا ہم نے وبا کے ساتھ زندہ رہنا سیکھ لیا ہے؟

کرونا ایسی وباء دنیا میں پہلی دفعہ نہیں پھیلی۔ایسی ہی ایک وباء سو سال قبل بھی دنیا بھر میں پھیلی تھی۔ جس نے کووڈ 19 سے کہیں بڑی تباہی پھیلائی تھی۔  وباؤں کی تاریخ میں 1918ء کا انفلوئنزہ شدید ترین تھا۔ اس کو سپینش فُلو کا نام بھی دیا گیا ۔ وباء  کا آغاز تو سپین سے ہوا ۔ مگر اس کی پہلی بڑی تباہی امریکہ میں دیکھی گئی جہاں دوسری جنگ عظیم میں مصروف فوجی اس کی زد میں آگئے اور چند

Read more

آمرانہ شریعت اور قومی تربیت

ہر قوم تین ادوار سے گزر کر ایک اخلاق یافتہ قوم بنتی ہے :۔ پہلا دور غربت کا ہوتا ہے۔ اس دور میں جرائم عام ہوتے ہیں۔ نفسا نفسی کا عالم ہوتا ہے اور ہر شے قابل فروخت ہوتی ہے۔ غربت کے دور میں اخلاقیات نافذ کرنے کی کوشش کرنا ایسے ہی جیسے ایک لاغر گھوڑے کو گھڑ دوڑ میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔ دوسرا دور۔ نوسربازی، چار سو بیسی اور بدعنوانی کا دور ہوتا ہے۔ اس میں

Read more

خدا کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمہ

خوشونت سنگھ انگریزی لکھاریوں میں ایک اہم اور اچھوتا مقام رکھتے تھے۔ نواسی کتب کے مصنف خوشونت دلچسپ لہجے میں برہنہ سچ بولنے اور اپنی بر جستہ ظرافت کی وجہ دنیا بھر میں جانے جاتے تھے۔ وہ اپنے اوپر ہنسنے کا فن جاتے تھے۔ یہ افسانچہ ان کی کتاب: ”گاڈ اینڈ گاڈ مین آف انڈیا“ سے لیا گیا ہے، جو ”ہیلو گاڈ“ کے عنوان سے کتاب میں موجود ہے۔ راقم نے اس سٹوری کو دلچسپ جان کر اردو میں ترجمہ

Read more

عمران خان کو کرکٹ کے بعد سیاست نہیں، روحانیت اختیار کرنا چاہیے تھی

ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ کرہ ارض کے پچانوے فیصد لوگ ساری عمر یہ نہیں جان پاتے کہ وہ اپنے اندر کون سا ”جوہر خاص“ یا ”کمپیٹنس“ رکھتے ہیں۔ ایک نفسیاتی سائنسدان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپنا ”جوہر خاص“ جانے بغیر نوے فیصد لوگ خواہشات پال لیتے ہیں۔ اور ساری زندگی ان خواہشات کے حصول پر صرف کر دیتے ہیں۔ اور شدید محنت کرتے ہیں۔ مگر ایسی زندگی ایک تناؤ آور زندگی ہوتی ہے۔ کیونکہ ”کمپیٹنس“ کی

Read more

وحید احمد کی شاعری : ”پریاں اترتی ہیں“

وحید احمد کی شاعری متنوع خیالات و موضوعات کی شاعری ہے۔ وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں۔ ”پریاں اترتی ہیں“ تیس نظموں پر مشتمل ان کی چوتھی کتاب ہے۔ اس سے قبل ان کی منظوم شاعری کی جو شاہکار کتب منظر عام پر آئیں ان میں : ”شفافایاں“ ”ہم آگ چراتے ہیں“ اور ”نظم نامہ“ شامل ہیں پریاں اترتی ہیں ”پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کے اندر ایک متجسس اور بے قرار روح بستی ہے جو

Read more

کیا آپ درویش صفت اور عظیم سائنسدان نیکولا ٹیزلا کے کارناموں سے واقف ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر مقناطیس، لوہے، اور اس سے بنی اشیا اپنی طرف کھینچنا چھوڑ دے تو دنیا کا اسی فیصد نظام ساکت و جامد جائے گا، بحری جہاز ڈوب جائیں گے، ہوائی جہاز گر پڑیں گے، کمپیوٹر، ٹیلی فون، ریڈیو اور ٹیلی وژن بند ہو جائیں گے اور دنیا اندھیروں میں گم ہو جائیں گی کیونکہ مقناطیس کے ناراض ہونے سے بجلی یا برقی رو بند ہو چکی ہوگی۔ بجلی گھر سے تاروں کے ذریعے ہمارے گھروں

Read more

دانائی کا سفر

یہ امر لائق تحسین ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر بلند اقبال نے قریب ایک سو کتابوں کا مطالعہ کر کے کینیڈا کے ایک ٹی وی چینل پر چھتیس اقساط پر مشتمل ایک میراتھن علمی مکالمہ کیا۔ اس مکالمے میں، گزشتہ تین ہزار برس میں علم و دانش کے ارتقاء پر سیر حاصل بات کی گئی۔ عبدالستار صاحب نے اس مکالمے کو سنا، سمجھا اور اس کی تدوین و ترتیب کر ڈالی۔ اس کتاب کو سانجھ پبلشرز لاہور نے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کے افسانوں کا مجموعہ: دیوتا

کرونا میں مبتلا ہو کر، میں گزشتہ ایک ہفتے سے قرنطینہ میں ہوں۔ یہ یقیناً ویکسین یافتہ ہونے کی افادیت ہی تھی کہ موذی وائرس کا حملہ زیادہ کار گر ثابت نہ ہوا۔ محسوس ہوتا ہے کہ وائرس ابھی تک ہمارے ناک، کان اور گلے کے شعبے میں گھوم پھر رہا ہے۔ شعبہ ہائے سینہ و سانس تا حال محفوظ ہیں۔ ہماری ہم سب کے توسط سے قارئین سے محبت بھری گزارش ہے کہ کسی نے اگر ابھی تک ویکسین

Read more

ٹوکیو اولمپکس اور سپورٹس مین وزیراعظم

ٹوکیو میں امسال کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلے موسم گرما اولمپکس 2020 کے نام سے، ایک سال تاخیر سے 23 جولائی سے 8 اگست 2021 منعقد ہوئے۔ اس دفعہ جن کھیلوں نے شہرت حاصل کی ان میں جمناسٹک، ٹریک اینڈ فیلڈ یعنی جیولن تھرو، تیراکی، فٹبال، ہینڈ بال، ویٹ لفٹنگ، ٹینس اور مختلف فاصلوں کی دوڑیں شامل تھیں۔ ، اولمپکس کھیلوں کے مقابلوں کے نتائج کے مطابق سونے، چاندی اور کانسی کے حاصل شدہ کل تمغوں کی تعداد کے اعتبار

Read more

جینیٹک لاٹری اور پاکستانی سیاست

ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں عوامی رہنماؤں کی جو خوبیاں بتائی جاتی ہیں، یا دنیا کے عظیم رہنماؤں میں جو خوبیاں پائی جاتی ہیں، ان میں قد کا اونچا ہونا، تقریر کرنے کا فن ہونا، اپنے آپ پر بلا کا اعتماد ہونا، دیانتدار ہونا اور اپنے وژن کا مالک ہونا اور ہر حالت میں اپنے نظریے پر قائم رہنا شامل ہیں۔ دنیا کے تمام مہذب معاشروں میں یہ چلن ہے کہ عوامی لیڈر بننے کرنے کے لئے ضروری

Read more

مذہبی پیشوائوں کے ہاتھوں بچوں کا استحصال

حال ہی میں لاہور میں ایک با اثر مذہبی شخصیت جن کی سیاسی وابستگی جمیعت علمائے اسلام سے ہے، کی ایک معصوم بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ مدرسہ کے طالب علم صابر شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ دینی مدرسہ کے مفتی عزیزالرحمان صاحب نے اس کو ایک سال تک اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اس کی تھوڑی دیر بعد ایک شیعہ عالم کی ایسی ہی حرکت وائرل ہوئی۔ پاکستان میں یہ واقعات نئے

Read more

محسن خان کا ناول : اللہ میاں کا کارخانہ  

حال ہی میں بھارت اور پاکستان میں شائع ہونے والا محسن خان کا ناول ”اللہ میاں کا کارخانہ“ دل کو چھو لینے والی کتاب ہے۔ یہ ناول ایک بچے کی آپ بیتی ہے۔ جو اپنے ہوش سنبھالنے سے لے کر بلوغت کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اپنے اردگرد کے ماحول کا جو اثر لیتا ہے اس کو قلم بند کرتا رہتا ہے۔ یوں یہ ڈائری ایک معصوم کی مختصر سی سوانح بن جاتی ہے۔ جبران نامی بچہ ایک مذہبی گھرانے

Read more

کیا آپ ٹیکسلا کی علمی تاریخ سے واقف ہیں؟

پاکستان کے دارالخلافہ، اسلام آباد کے شمال مغرب میں 30 کلومیٹر پر مارگلہ کے پہاڑی سلسلے کی ایک شاخ کے پہلو میں واقع ٹیکسلا نامی بستی سے کون واقف نہیں۔ سات لاکھ نفوس پر مشتمل، بیس کلومیٹر لمبی اور دس کلومیٹر چوڑا خطہ زمین، ٹیکسلا پنجاب کے ضلع راولپنڈی کی ایک تحصیل ہے۔ 1980 ء میں ٹیکسلا کو یونیسکو نے بین الاقوامی قدیم ورثہ کا درجہ دیا کیونکہ یہاں سے اٹھارہ ”سٹوپا“ ۔ دریافت ہوئے تھے۔ جن سے وادی سندھ

Read more

منتارہ (ناول)۔

ناول کا مرکزی کردار مخدوم ناظر حیات، سینیٹ آف پاکستان کا ممبر ہے۔ جو عمر کی قریب ساٹھ، ستر دہایاں اس تعداد سے اوپر حسینوں کے جلو میں گزار آیا ہے۔ زندگی کے اس موڑ پر ”گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے“ کے مصداق جوانی کی یادیں تازہ کرنے بحرہند کے ساحلوں کا رخ اکثر کرتا رہتا ہے۔ وہ ایک حسن پرست کردار ہے جو پاکستان کی سیاست میں معزز اور کولمبو اور پھوکٹ کے ساحلوں پر ایستادہ عیاشی کی پناہ گاہوں میں رذیل ترین عاشق آوارہ ہے۔ مخدوم سیاسی وجاہت کے مقابلے میں حسیناؤں کی نرم گرم آغوش میں رہنا پسند کرتا ہے۔ ہماری ملاقات مخدوم سے اسی ماحول میں ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی آخری دوست نائلہ کے ساتھ کولمبو کے ساحلی ہوٹل میں موجود ہے۔

Read more

ہمارے بچے کتب بین کیوں نہیں؟

گزشتہ دنوں، ہمارے چست، تندرست اور توانا وزیراعظم بھی کورونا میں مبتلا ہو گئے۔ قرنطینہ نشین ہونے کے بعد ان کی جو پہلی تصویر منظر عام پر آئی وہ ہمیں بہت خوش کر گئی۔ کیونکہ ان کے ہاتھ میں کتاب تھی۔ ان کی تقریروں سے لگتا ہے کہ وہ ایک صاحب مطالعہ شخص ہیں۔ عمران خان اقوام عالم کی ترقی و تنزلی کے راز ہائے سربستہ پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں اور تقابلی جائزہ بھی لیتے رہتے ہیں۔ ریاست

Read more

اوشو رجنیشں: روحانی شخصیت یا سیکس گرو؟

دنیا میں ہمیشہ سے ذہین لوگ پیدا ہوتے رہے۔ ان افراد نے شعوری اور سماجی ارتقا میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ فلسفہ، سائنس، ادب، فنون لطیفہ اور سیاست کے میدانوں میں ترقی انہی ذہین افراد کی مرہون منت ہے۔ دیگر شعبہ ہائے زندگی کے مقابلے میں مذہب اور روحانیت پیچھے نہ رہے۔ مذہبی شخصیات نے مذاہب اور روحانی شخصیات نے روحانی کرتب دکھائے۔ روحانیت کی بنیاد بھی اعلیٰ درجے کی وہ ذہانت اور بے مثل شعوری صلاحیت ہے جس کے

Read more

مولانا طارق جمیل ’حقیقت پسند‘ کیسے بنے؟

ایک خبر کے مطابق مولانا طارق جمیل نے ملبوسات کی اپنی برانڈ: ’ایم۔ ٹی۔ جے۔‘ کے نام سے شروع کی ہے۔ برانڈ کے افتتاح پر جب ہم نے ان کو بغور دیکھا تو موصوف ایک عقیدت پسند مولوی کی بجائے حقیقت پسند بزنس مین نظر آئے۔ ان کے تبلیغی مقلدین کو امید ہے کہ مولانا کا برانڈ بھی، ان کے مرحوم و مغفور شاگرد جنید جمشید کی برانڈ ’جے ڈاٹ‘ کی طرح دن دگنی رات تگنی ترقی کرے گا۔ جہاں

Read more

خاقان ساجد کا افسانوی مجموعہ ’آدم زاد‘

میں ساجد کو ایک مصور اورکارٹون آرٹسٹ کے طور پر تو جانتا تھا۔ مگر ساجد افسانے بھی لکھتا ہے؟ اس کی خبر تین سال قبل اس وقت ہوئی جب اس کی کتاب ”آدم زاد“ میرے سامنے آئی۔ میں ان دنوں اردو افسانوں کا انگریزی ترجمہ کر کے ان کو شارٹ سٹوری بک بنانے کی اپنی دوسری کتاب پر کام کر رہا تھا۔ مجھے ایسے ابھرتے ہوئے افسانہ نگاروں کی تخلیقات درکار تھیں۔ جو زمانۂ حال کے جینوئن اور ٹیلنٹیڈ ادیب

Read more

کشمیر۔ ایک اور امن معاہدے کی ضرورت!

گزشتہ تیس برس سے ہر سال فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں عام تعطیل ہوتی ہے، جلسے، جلوس اور احتجاجی ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر میں سلامتی کونسل کی کشمیر پر قرارداد کی یاداشت پیش کی جاتی ہے۔ مری۔ مظفر آباد، روڈ پر کوہالہ کے مقام پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے۔ کبھی کبھار پاکستان کے وزیراعظم بھی آزاد کشمیر کی قانون

Read more

ریاست مدینہ: عقیدت کی بجائے حقیقت پسند بننے کی ضرورت

حقیقت اور عقیدت میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا خالص دھات سے بنے ظروف اور ملمع کاری سے چمکائے گئے برتنوں میں ہوتا ہے۔ عقیدت کے دلفریب سپنوں میں رہنے والے لوگ شعوری طور پر ایک سہل انگیز زندگی بسر کرتے ہیں۔ ایسے افراد اور اقوام ماضی کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کو ”حال“ مایوس کن اور مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ ایسی قوم کے لیڈر اپنی تہذیب کے گزشتہ کارنامے اور قصے فخر

Read more

ٹرمپ کی شکست پرہیمنگ وے کا ناول کیوں یاد آیا؟

ملک پاکستان میں بھی ہم نے کوئی ایسا سیاسی لیڈر نہیں دیکھا جس نے الیکشن میں خندہ پیشانی سے اپنی شکست کر لی ہو۔ جیت جاؤ تو تاریخ کے شفاف ترین الیکشن، اگر ہار جاو تو دھاندلی کا رونا ، اور جی بھر کر رو کر ہی قرار آتا ہے۔ ماہرین نفسیات ایسی علت کو دیگر وجوہات کے علاوہ Grandiose Narcissism (پر شکوہ نرگسیت) کا نام دیتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی محبت اور عظمت کے فریب میں مبتلا ہوتے ہیں اور فطرتاً بزدل ہوتے ہیں۔

Read more

شاہد اختر اور خالد سہیل کی”نگر نگر کی کہانیاں“

ہر زبان اپنے اندر جغرافیائی، ثقافتی اور معاشرتی مزاج رکھتی ہے۔ ترجمہ ابلاغ کی وہ کارآمد ’تار‘ ہے جو مختلف زبانوں میں لکھی گئی کہانیوں کو قاری کی زبان سے جوڑ کر اس تک پہنچا دیتا ہے۔ ترجمے کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اگر الہامی کتابوں کے ترجمے نہ ہوتے تو مذاہب سکڑ کر مقامی ہی رہ جاتے وہ بین الاقوامی شہرت کبھی حاصل نہ کر پاتے۔ اساطیرالاولین کے تراجم نہ کیے جاتے تو آج ہم، بدھا، مہاویرہ، کنفیوشس، افلاطون، سقراط، بقراط، ارسطو اور زرتشت جیسے فلاسفروں اور سماجی سائنسدانوں کے ناموں سے شاید واقف بھی نہ ہوتے۔

Read more

مکتوبی ادب اور ایپس ٹولری ناول ”پاپی“

کون جانتا تھا کہ ای میل کے توسط سے مکتوبی ادب ’کا جو سلسلہ، دو سال قبل ”درویشوں کا ڈیرہ“ سے شروع ہوا تھا۔ ایک دن سات کتابوں کی شکل میں انگریزی و اردو ادب کے افق پر ایک درخشاں قوس قزح بن کر نمو دار ہوگا اور عالمی ادب میں خطوط نویسی کو بطور ادبی صنف کہ دوبارہ زندہ و تابندہ کر دے گا۔ اس اہم صنف کے احیا ء کا خواب خالد سہیل نے 2018 ء میں دیکھا

Read more

غیر پیداواری ہجوم کے ساتھ تبدیلی کا خواب!

اگر ہم  نے من حیث القوم باقی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے، اپنے ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانی ہے اور ایک خوشحال قوم بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرنا ہے تو ہمیں خواتین کی 75 فی صد مفلوج، جامد اور غیر پیداواری آبادی کو مرکزی قومی دھارے میں لانے کے لیے ان کو تعلیم کی دولت سے آراستہ کر کے معاشی عمل میں شامل کرنا ہو گا۔ بوسیدہ، غیر حقیقت پسندانہ اور منافقانہ طرز زندگی کا خاتمہ کر کے ہمیں مخلوط تعلیمی نظام کو نمو دینی ہو گی۔

Read more

رحیم گل کا ناول : تن تارا را

نام بڑا اچھوتا ہے۔ کتاب کے سرورق پر ”تن تارا را“ اور ایک حسینہ پر شباب کی تصویر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ کوئی موسیقی، رقص یا شاعری کی کتاب ہو۔ مگر یہ ایک رومانوی ناول ہے اور ”تن تارارا“ اس ناول کی ہیروئن کا نام ہے۔ اگر آپ نے رحیم گل کی آپ بیتی ”داستاں چھوڑ آئے“ پڑھی ہے تو شاید میری طرح آپ بھی محسوس کر رہے ہوں گے کہ یہ ناول ایک حقیقی کہانی

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل: دریائے محبت اور آدرش

کینیڈا میں مقیم ڈاکٹر خالد سہیل اور لاہور (پاکستان) کی نامور ادیبہ رابعہ الرباء کے مابین لکھے گئے پچاس خطوط پر مشتمل ’علمی و ادبی مکالمہ پر محیط ”درویشوں کا ڈیرہ“ نامی کتاب دو سال قبل کینیڈا سے شائع ہوئی تھی۔ یہ خطوط‘ ہم سب ’پر کالموں کی صورت میں بھی شائع ہوئے۔ کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی کینیڈا ہی سے گزشتہ برس شائع ہو چکا ہے۔ یہ ترجمہ، راقم الحروف نے کیا تھا ا اور انگریزی کتاب کا نام

Read more

علی اکبر ناطق کا ناول: نو لکھی کوٹھی

گزشتہ دنوں علی اکبر ناطق کا تحریر کردہ ناول ”نو لکھی کوٹھی“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک تاریخی ناول ہے۔ ناول میں کچھ ایسی باتیں پڑھنے کو ملیں جو تاریخی اعتبار سے غیر حقیقی محسوس ہوتی ہیں۔ جن کو پڑھ کر اس پر تبصرہ کرنے کا سوچا۔ آج میں ”نو لکھی کوٹھی“ کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر اپنے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ ناول متحدہ ہندوستان کے وسطی پنجاب میں 1930 ء کی دہائی سے لے

Read more