گینگ ریپ کرتی عورتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


حقیقت اور افسانہ: یہ دو الفاظ سنتے ہی آپ کے ذہن میں پیدا ہوتا ہو گا کہ حقیقت اصلیت ہے جب کہ افسانہ وہ چیز جو اصل میں کوئی وقعت نہیں رکھتی یعنی کہانی ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے یہ دونوں ایک دوسرے کا تسلسل ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ ایک دوسرے کا حصہ ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ اگر میرے سامنے کسی زینب نامی لڑکی کا ریپ ہو تو وہ حقیقت ہے اور اس کے بعد میں حالات و واقعات کے مطابق اسی جنسی استحصال کی کہانی کسی رتنا بائی نامی عورت پر لکھوں تو کیا وہ حقیقی واقع نہیں یا وہ اصلیت سے برعکس ہے؟ یقیناََ جواب نفی میں ہو گا۔

اس طرح کسی ڈرامے کا اسکرپٹ لکھنا کوئی رومانی بات نہیں دراصل وہ حقیقت کا اگلا مرحلہ ہے اوریہ لکھاری کی مہارت ہے کہ وہ حقیقت کو کتنے بہتر انداز یں قلم بند کرتا ہے۔ اس کے نزدیک حقیقت ہے کیا؟ لکھنے والے کا ہر لفط نپا تلا ہوتا ہے جس سے اس کے پرھنے والوں کو یہ بات ضرور سمجھ آجاتی ہے کہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے۔ نپے تلے الفاظ کے ساتھ اس کے منہ سے نکلنے والے ہر لفظ کو بھی تولنا چاہیے، کیوں کہ وہ بھی اس کی سوچ کا عکاس ہے۔

خلیل صاحب نے اپنی ایک انٹرویو میں کہا میں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عورتیں کس قسم کی برابری کے حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں؟ سر وہ آٹے کی چکی چلانے، دودھ دہی کی دوکان کھولنے اور ٹانگا دوڑانے کے مساوی حقوق کی علم بردار ہیں۔ خلیل صاحب نے کہا کہ اگر مرد عورت کے برابر ہے تو کسی مرد کا گینگ ریپ کر کے دکھائے۔ سر، چلتی ہوئی آگ پر تیل چھڑکنے سے بہتر ہے مرہم کا کام کیا جائے۔ کہیں یہ نہ ہو کہ کل کو کسی لکھاری کو ایک ڈراما ”مردوں کا جنسی استحصال“ کے نام سے لکھنا پڑ جائے۔ خلیل صاحب نے اپنے حالیہ کامیاب ٹی وی سیریل ”میرے پاس تم ہو“ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی خواتین موجود ہیں جو بے وفائی کرتی ہیں۔ سر، آپ ہمارے نیم پاگل معاشرے کا اندازہ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ اس ڈرامے کے بعد ہر مرد خود کو بے سہارا محسوس کرنے لگا ہے۔ اسے واقعی میں لگتا ہے کہ کہیں سرک پر چلتے ہوئے ایک تیزرفتار موٹر پر دو عورتیں اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کی چھاتی یا کولھوں کو چھوتے ہوئے آوازین کستی نکل جائیں گی۔ کیا ایسا ہو گا؟

آج یہ ڈراما سپر ہٹ ہے جس میں ایک مرد کا حق دوسرے مرد نے سلب کر لیا۔ اس سے بہتر ہوتا ایک عورت دوسرے عورت کا مرد لے اڑتی، کیوں کہ یہ عام ہے۔خلیل صاحب نے یہ بھی کہا کہ میں ایسی عورت کو عورت نہیں مانتا جس میں وفا اور حیا نہ ہو۔ سر، پھر تو آپ رنڈی خانے کو طویلہ اور وہاں کام کرنے والی لڑکیوں اور عورتوں کو گائیں اور بکریاں کہتے ہوں گے، کیوں کہ ان میں وفا اور خصوصی طور پر حیا کا عنصر ملنا مشکل ہے۔

خلیل صاحب نے کہا کہ عورت کو اس کا حق معلوم ہی نہیں لہذا وہ مرد کے حقوق میں سے ایک حصہ چھینا چاہتی ہے۔ سر بات جب لڑنے اور چھیننے پر آ جائے تو چیخیں تو نکلتی ہیں، لہذا اس معاشرے کے لکھنے والے بتا دیں کہ جنسی استصال ہونے والی، غیرت کے نام پر قتل ہونے والی، قحبہ خانوں میں کام کرنے والی، وغیرہ، کے حقوق کیا ہیں؟ بہت آسان ہے کسی بھاری اور کھوکھلے پلڑے والے کی طرف ہو جانا بات تو تب بنتی ہے جب آپ کا پلڑا نیچا لیکن مضبوط ہو۔

پاکستانی ڈراما انڈسٹری کا سب سے بڑا ڈرا بیک اس کا اختتام ہیں، جس میں رائٹر فیصلہ کرنے کا حق، دیکھنے یا پڑھنے والوں پر نہیں چھوڑتا بلکہ خود ہی منصف بن کر ایک کو صیحح اور دوسرے کو غلط قرار دے دیتا ہے اور عوام کو بری خوبصورتی سے پاگل بنا دیتا ہے۔ میں اس بات کو بھی مانتا ہوں کہ ایک عورت کا حق دبانے میں دوسری عورت نے بڑا کردار ادا کیا لیکن اس میں بھی استعمال مرد ہوا۔ ایک شادی شدہ مرد کو بھٹکانے والی دوسری عورت ہی ہے اور قربان جاؤں اس مرد پر جو اتنا معصوم ہے کہ ورغلایا جاتا ہے۔ میں صدقے!

میں فیمنزم کا اتحادی نہیں لیکن یہ با خوبی جانتا ہوں کہ کسی دور میں بھی عورت کو اس کا حق نہیں ملا۔ نبی کریمﷺ کے دور میں حقوق متعین ہوئے اور ملے بھی ہوں گے لیکن گھر کی بات گھر میں ہی رہ گئی۔ کیسے اتنے دینی مفکر ہیں جو عورت کی عظمت پر بات کرتے اور اس کا حوالہ دیتے ہیں؟ فیمنزم کی گونج تو سب کو سنائی دیتی ہے لیکن یہ مسئلہ کہاں سے پیدا ہوا اس کا حل کیا ہے۔ کون بتائے گا؟ جب تک عورت کے لیے پنک سکوٹی کا انتطام نہیں کیا جائے گا، وہ ہنڈا 70 چلانے پر مجبور ہو گی، پھر آپ چاہے اسے فیمنزم کا نام دیں ایسا ہوتا رہے گا۔

آپ مجھے بتائیں رابی پیرزادہ کون ہے؟ قصور کی زینب کون تھی؟ قندیل بلوچ کون تھی؟ وہ لیڈی کانسٹیبل کون تھی جس کو وکیل نے تھپڑ مارا؟ 17 سالہ زوہا کو غیرت کے نام پر کس نے مارا؟ گھریلو تشدد کا شکار کون ہوئی؟وغیرہ۔ اس معاشرے کی گالی بھی ماں، بہن، بیٹی سے شروع ہوتی ہے اور گالی دینے والے کا وجود بھی۔
عورتوں سے ریپ کا مطالبہ کرنے والوں کل کو کہیں ایسا نہ ہو کہ صبح سویرے تمھاری آنکھ کھلے اور تم دیکھو کہ چند عورتوں پر مشتمل گروہ سڑک کے چوراہے پر ہاتھ میں ڈنڈا لیے کسی مرد کے پچھواڑے میں گھسانے کی ناکام کو شش کر رہا ہو اور پھر اسرافیل آ کر صور پھونکیں، یوں قیامت نمودار ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •