مولوی سائنس کی ترغیب کیوں نہیں دیتا؟


شاہد صدیقی


\"shahid-siddiqui\"اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مجھے لگتا ہے کہ مسلمانوں کا تصور کم از کم اس دنیا کی زندگی کے کچھ اہم پہلوؤں کہ بارے میں تھوڑا غلط ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر سائنسی علم کے حصول کی ناکافی کوشش، کائنات کو سمجھنے اور دنیاوی ترقی حاصل کرنے کے لئے۔ اور اس ناکافی کوشش کے پس منظر میں مذہبی ترغیب کی غیر موجودگی۔ اس غیر موجودگی کی ایک مثال مولوی کی سائنس کے بارے میں لاتعلقی ہے۔ اور یہاں مولوی سے اس سے زیادہ توقع نہیں ہے کے وہ اس ہمدرد ماں یا باپ کی مثال سے زیادہ کرے جو خود ان پڑھ ہوتے ہوئے بھی اپنے بچے کو تعلیم حاصل کرنے پر ابھارے۔

مولوی کی لاتعلقی کی براہ راست وجہ مجھے اس کی صرف سائنس سے غیر شناسائی ہی نہیں لگتی بلکہ اس کا اس دنیا کے تصور اور اس زندگی کے بارے میں حقارت آمیز رویہ (کم از کم منبر کی حد تک) لگتا ہے، اور جو پھر نتیجتاً اس کی جماعت کا اس ایک اہم پہلو سے اجتناب کا باعث ہے۔

وہ اہم پہلو میری نظر میں یہ بات ہے کہ انسان کا اس دنیا میں گزرا ہوا وقت اس سے بہتر کوشش میں نہیں گزر سکتا کہ وہ اس کائنات کے رازوں کو سمجھے اور ان وسائل کو صحیح طریقے سے اپنے اور دوسروں کے استعمال میں اس طرح لائے کہ اس دنیا کے انسانی تجربہ کو قابل قبول کر سکے۔ یہی بات اس کائنات کی تخلیق کا اہم جز لگتی ہے کہ انسان اس دنیا میں سر اٹھا کر جی سکیں۔ کیا یہ کائنات کے خالق کا شکریہ ادا کرنے کا اچھا طریقہ نہیں لگتا؟ لیکن بدقسمتی سے مولوی کی توجہ ان رسومات پر ہے جن میں کوئی توانائی نہیں لگتی۔

سائنس واضح کرتی ہے کہ کتنی توانائی کے خرچ سے کتنا فائدہ لیا جا سکتا ہے اور مجھے لگتا ہے اس دنیا میں رہتے ہوئے اسی دنیا کے اصولوں کے مطابق فائدے کا حصول مسلمانوں (اور دوسرے مذاہب کے لوگوں) پر ان کے خالق کی طرف سے قرض و فرض ہے۔ اس دنیا کی کاہلی (یا دوسرے لفظوں میں توانائی کے خرچ کے بغیر فائدہ کی امید و ترغیب) کو آخرت کی کامیابی سے جوڑنا اس کے مترادف ہے کہ اس بات کی توقع رکھی جائے کہ کوئی باپ اپنی اولاد کو محنت کرتے ہوئے نہ دیکھتا ہو لیکن پھر بھی اسے اپنی کی ہوئی محنت کا پھل (بغیر اس بچے کے مستقبل کے خفیہ اندیشہ میں مبتلا ہوئے بغیر) کھلاتا ہو۔

مولوی حضرات مسجدوں میں اپنی جماعتوں کو سائنسی علم اور اس سے حاصل دنیاوی فائدہ کی امید و ترغیب اپنا دینی فریضہ سمجھ کے دیں تو شاید کشمیر و فلسطین و شام کے انسانوں کی زندگی کا تجربہ غیر مسلمانوں کی میسر کردہ خود غرض مداخلت ( یا توانائی) کے علاوہ ہی بدل جائے!

Facebook Comments HS

5 thoughts on “مولوی سائنس کی ترغیب کیوں نہیں دیتا؟

  • 15/10/2016 at 3:47 شام
    Permalink

    sawal to ye bi hy k sainsdan mazhb ki targheb q nhe deta aik doctor engineering ki targheb q nhe deta. Janab jo jis ki field hy us ne usi ki targheb deni hy.

    • 16/10/2016 at 12:55 شام
      Permalink

      آپ نے تو شاید عنوان پڑھنے کے بعد اپنی دلچسپی قایم نہیں رکھ سکے۔ ایک ڈاکٹر ضرور انجینئرنگ کے علم سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیتا ھے، جب وہ ہارٹ بائ پاس یا دل کے والو تبدیل کرنے کا کہتا ھے۔ اسی طرح ہر کوءی علاج یا خاص طور پر سرجری کراتے وقت ڈاکٹر کا سوچتا ھے۔ کیا مولوی سے حقیقت پسندی کی امید ھو سکتی ھے یا وہ تصبیح پھیر پھیر کر ھی دشمن کے سارے جہاز گرا دےگا؟

  • 16/10/2016 at 2:41 شام
    Permalink

    Above comments show that Religion is a "Profession” like the Medicine & Engineering or Law and etc. This is a wrong perception my dear. We should take Profession as Profession. If you say that Religion is a Profession then Islam is Religion for me and other doctors like me, for Engineers and Lawyers and other Professionals, but Islam is mere a Profession and Source of Income for Molvis…..

  • 19/10/2016 at 9:35 شام
    Permalink

    محترم جناب شاہد صدیقی صاحب۔
    ہمارا المیہ یہ ہے کہ اول تو ہم مفروضے کے پیچھے ہی ڈرائیو کرتے ہیں۔ پھر جب ہم لکھتے ہیں تو بلا کسی تخصیص کے سب کو ایک لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ گویا ہم نے معاشرے کی اصلاح کر لی۔ دراصل ہم اندرونی بڑاس جذباتی عالم میں نکالتے ہیں۔ یہ کومنٹس کسی مسجد یہ مدرسہ میں بیٹھ کر نہیں لکھ رہا ! یہ پکا یقین رکھ، ایک بات مگر ضرور پیش خدمت ہے کہ سائنس علوم کی اہمیت ترویج وغیرہ کیلئے سینکڑوں علمائے کرام نے کاوشیں کی ہیں۔ یہ علماء کرام بڑے نامی گرامی حضرات ہیں ۔ لیکن میں آپ کو اپنے آبائی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی وانا کے شہید عالم دین (2010 میں موصوف کو مسجد میں ایک خود کش حملے میں شہید کیا گیا) حضرت مولانا نورمحمد صاحب رح کی کاوشوں کا مثال دے سکتاہوں۔ موصوف نے کی خطبات جمعہ کے اکثر موضوعات زرعات،باغبانی ،تجارت، تعلیم ،صحت کے بنیادی ،اصول، مثلا متوازن غذا، کسب حلال کے علاوہ ایک اچھی کتاب ،”شجر کاری سائنس اور اسلام کے آئینے میں ” اور ایک ضخیم کتاب ”علوم الاانبیاء ” جس میں سائنس ،انجینئرینگ کی ابتداء اور اہمیت ،میڈیکل، جنگلی حیات، جدید جنگی ٹیکنا لوجی وغیرہ پر اسلام اور سائنس کی تعلیمات میں روشنی ڈالی ہے ،موصوف نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک ڈاکٹر بھی عالم ہی ہوتا ہے ایک انجئینر بھی عالم ہی ہوتا ہے ثواب اور شریعت کی رو سے دینی علوم کا حامل اور جدید سائنسی علوم کا حامل ایک ہی برابر ہے بلکہ اُنہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مسلمانوں کے زوال کا سبب یہ ہے کائنات کی تسخیر کی جو ذمہ داری دی گئی تھی وہ پوری نہ کر سکیں یہاں لنک پیش خدمت ہے یہ دونوں کتب آپ دیکھ سکتے ہیں۔http://jamiadarululoomwaziristanwana.com/index.php?option=com_content&view=article&id=80&Itemid=193&lang=en .یہ تو ایک پہاڑی ملا کا نمونہ ہوگیا ، مفتی تقی عثمانی صاحب کی خدمات کی کم ہیں۔ شمس الحق افغانی کیا کم لکھ چکے ہیںاس موضوع پر ؟ شیخ موسیٰ خان صاحب کی فلکیات پر کاؤشیں تو ایک دنیا جہاں تسلیم کرتی ہے ۔ یہ صرف چند نمونے ہیں۔ مطلب کی بات یہ ہے کہ آپ صاحب کم از کم ایک لاٹھی سے سب کو نہ ہانکتے ،”اکثر کا لفظ استعمال کرتے یا بعض کا ،اُمید ہے کہ اُپر دئے گئے لنک پر جاکر ؛؛علوم الانبیاء نامی کتاب کی فہرست سے آپ صاحب کو اندازہ ہو گا کہ عملی اقدامات علمائے کرام کے کتنے ہونگے۔ لیکن ہم چونکہ خُدا واسطے کا بیر رکتھے ہیں تو ہماری مرضی جس لکھ دیا ،بس لکھ دیا ،سوشل میڈیا کے صفحات کم پڑ گئے کیا ؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق اور سچ بیان کرنے کی توفیق عطافرمائیں۔۔ آمین۔

    • 22/10/2016 at 8:35 صبح
      Permalink

      انور صاحب اس مضمون میں لفظ مولوی استعمال ھوا ھے عالم نھی ۔ بہرحال مضمون کے عمومی معنی اور مسلمانوں کو درپیش مسائل کو پیش نظر رکھیے۔ جاوید غامدی ایک قابل ذکر عالم ہیں جنہیں میں نے یہ بات کامران خان کے ایک پروگرام میں کہتے سنا ۔ اسکا لنک یہ ھے ۔
      https://youtu.be/S5TFKL5o4nU
      بہرحال جاوید غامدی کی دلیل (ایک) عالم کی دلیل ھے، لیکن اس سے اختلاف دلیل کی بنیاد پر ھی ھونا چاہیے۔
      مجھے افسوس ھے کے آپ نے اس مضمون اور لکھنے والے کے بارے میں کچھ سطحیassumptions کر لیں ۔

Comments are closed.