بحریہ ٹاؤن نے غریب اور امیر کی تفریق واضح کردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یکم نومبر کو بحریہ ٹاؤن کے مالک اور کھرب پتی ملک ریاض نے ملک کے پہلے جدید ترین تھیم پارک کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب میں ملک صاحب نے فرمایا کہ انہوں ملک میں تفریحی سہولیات میں بھی جدت کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی معیار کا تھیم پارک متعارف کروایا ہے جہاں ہر امیر غریب پاکستانی اپنے بچوں کو عالمی معیار کی تفریح کے مواقعوں سے لطف اندوز کروا سکتا ہے۔ میں بھی اپنے بچوں کے ساتھ ان سے وعدے کے مطابق وہاں گیا ہوا تھا۔

اپنی فیملی کے چھ افراد کے ساتھ جب میں تھیم پارک میں انٹری ٹکٹ لینے کے لئے ٹکٹ گھر پہنچا تو یہ دیکھ کر ہی ہوش اڑ گئے کہ بالغان کے لئے پارک میں داخلہ ٹکٹ چار ہزار روپے کا تھا جبکہ دس سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے تین ہزار، یعنی مجھے کل 23 ہزار روپے کے صرف اندر داخلا کی فیس بھرنی تھی۔ مزید معلوم کرنے پہ پتا چلا کہ انٹری ٹکٹ کے علاؤہ اندر کھانے پینے کے لئے علیحدہ رقم کی ضرورت ہوگی۔ میں ٹکٹ لئے بغیر ہی واپس آگیا اور بچوں سے انتہائی ندامت اور تکلیف کے ساتھ سارا ماجرا شیئر کیا، میرے بچے بڑے اور اپنی عمروں سے زیادہ سمجھدار تھے باہر سے ہی پارک دیکھ کر دل خوش کیا چند تصاویر بنائیں اور واپسی کے لئے پر تولنے لگے۔

میں اتنی دیر میں وہاں گھوم پھر کے پارک میں داخلے کے خواہشمند افراد کا جائزہ لینے لگا تو معلوم ہوا کہ ایک بہت بڑی اکثریت انتہائی بھاری انٹری فیس دیکھ کر دنگ کھڑی اپنی ناکام حسرتوں پہ دل ہی دل میں آنسو بہا رہی تھی۔ اکثر خاندان چار سے آٹھ دس افراد پہ مشتمل تھے اور بچوں کی ضد تھی کہ اندر جانا ہے، مگر وہ والدین جو ملک ریاض کے اس دھوکے میں آ کر بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنے معصوم بچوں کو بحریہ ٹاؤن کے تھیم پارک میں لے آئے، کہ ہر خاص و عام کے لئے بین الاقوامی معیار کی تفریح فراہم کر دی ہے مگر انتہائی بھاری قیمت کے عیوض، وہ اب مایوس اور انتہائی دکھی اور دل شکستہ سے نظر آئے۔

میں نے بہت سے اپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کے لوگوں سے اندر نہ جانے پہ استفسار کیا تو اکثریت نے ملک ریاض کو صلواتیں سنائیں اور عوام کو دھوکا دینے کا الزام بھی لگایا جبکہ بہت سے لوگ اپنے بچوں کے معصوم دل ٹوٹنے پہ رنجیدہ اور نم آنکھوں سے نظر آئے۔ ملک ریاض نے بلاشبہ ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں رہائش کے عالمی معیار متعارف کروائے ہیں، وہ اکثر اپنی اس کامیابی کو اللہ کے ساتھ کاروبار کا نتیجہ قرار دیتے ہیں لیکن کیا ہوتا اگر افتتاح والے روز ہر خاص و عام کے لئے مفت انٹری رکھ کر ایک دن اور اللہ کے ساتھ ہی کاروبار کرلیتے تو نجانے کتنے معصوم و بے پہنچ لوگ اپنے بچوں کی ناکام حسرتوں پہ آنسو بہانے کے بجائے خوشی خوشی گھروں کو جاتے اور ملک ریاض کو کوسنوں کے بجائے دعاؤں کے تحائف دیتے۔

تھیم پارک پہ ٹکٹ گھر کے منتظمین کے ساتھ اکثر داخلے کے خواہشمند انٹری ٹکٹ کی انتہائی زیادہ قمیت پہ بحث کرتے بھی نظر آئے مگر ٹکٹ گھر کے ملازم کیا کر سکتے تھے ماسوائے یہ کہنے کے کہ ڈزنی لینڈ امریکہ اور دبئی معیار کی تفریح ہے اس لئے ٹکٹ بھی اتنی ہی رکھی گئی ہے۔ ملک ریاض صاحب کو ڈزنی لینڈ کی تفریحی سہولیات پاکستان میں متعارف کرانے کے ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ وہ یہ سہولیات اپنے غریب ملک میں عوام کو دے رہے ہیں جہاں ایک عام سرکاری ملازم کی اوسط ماہانہ تنخواہ تیس ہزار سے بھی کم ہے، جہاں ایک مزدور پانچ سو سے بھی کم دہاڑی لگاتا ہے، جہاں امیر طبقہ 15 فیصد جبکہ 25 فیصد اپر مڈل کلاس ہے اور باقی لوگ خط غربت کی آخری حدود پہ ہیں۔

خان صاحب کے اس پندرہ ماہ کے دور حکومت نے 25 فیصد اپر مڈل کلاس کی قوت خرید کو بھی شدید ترین طور پہ متاثر کیا ہے اور اکثریت اپر مڈل کلاس، مڈل کلاس میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ملک ریاض صاحب کس طرح فائلوں کو پہیے لگا کر ایک جست میں ککھ پتی سے کھربوں پتی بن گئے اس بحث میں جائے بغیر میں صرف اتنا کہوں گا کہ ملک ریاض صاحب آپ کے عالمی معیار کے اس تفریح فراہم کرنے کے جنون نے ملک میں امیر اور غریب کی تفریق بلکہ واضح کردی ہے، اور پاکستان میں جو ایک چھوٹا پاکستان بستا ہے جسے کراچی کہا جاتا ہے صرف وہاں سے کتنے فیصد لوگ آپ کی اس عالمی معیار کی تفریح کے شوق کو پورا کرنے کی سکت رکھتے ہیں اس پہ آپ تنہائی میں غور ضرور کیجیئے گا اور اگر آپ واقعی سچے پاکستانی اور دردمند دل رکھنے اور اللہ سے کاروبار کے اپنے دعوے پہ قائم ہیں تو سوچیئے گا کہ کی تھیم پارک کی یہ موت مار انٹری فیس اللہ ربّ العزّت کے ساتھ کون سے کاروبار کی کڑی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •