اکرام اللہ اور ان کا جہان گزران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(تذکرہ اس کتاب کا جو ابھی پڑھی نہیں گئی)

سیاست کی آنکھ مچولی نے ڈاک کے آنے جانے پر پابندی لگا دی ہے۔ سو کتاب تو ملنے سے رہی مگر ہم نے بھی طے کر لیا تھا کہ اس وقت باتیں اکرام اللہ اور ان کی نئی کتاب ’جہان گزران‘ کے بارے میں ہی کی جائیں۔ وہ شدت سے یاد آ رہے ہیں۔ محمد عاصم کلیار کی ایک تحریر، اس کے بعد مسعود اشعر کا کالم، پھر لاہور میں ایرج مبارک کے گھر پر اسی کتاب کے سلسلے کی تقریب۔ یہ باتیں ہمیں بے چین کرنے کے لیے بہت ہیں۔ یوں بھی اکرام اللہ ہمارے سب سے زندہ اور توانا فکشن لکھنے والوں میں ہیں، میری پہلی پسند۔ مدتیں گزریں، اجمل کمال نے ’آج‘ کراچی میں ‘جہان گزران‘ کا کچھ حصہ شائع کیا تھا۔ اسی وقت دل میں ایک بات بیٹھ گئی تھی کہ آپ بیتی ہو تو ایسی ہو، ورنہ بہتر ہو گا کہ نہ لکھی جائے۔  اس دوران کئی درجن آپ بیتیاں پڑھیں، فلمی اداکاروں، سیاست دانوں، صحافیوں سے لے کر ادیبوں تک۔ لیکن اکرام اللہ کی آپ بیتی کا نقش دھندلا نہ ہوا۔ جب بھی ان سے باتیں ہوئیں یا ملاقاتیں، میں انہیں یاد دلاتا کہ اپنی روداد مکمل کر لیں۔ انہوں نے کتاب تو خیر چھپوا دی۔ ہر چند کہ بہت سی روداد ابھی باقی ہے۔ ملتان ما، ہی نہیں، اس سے آگے کا پورا قصہ بھی آجانا چاہیے۔

اچھے برے ادیبوں، اداکاروں، صحافیوں اور سیاست دانوں کی جو آپ بیتیاں نظر سے گزریں، ان میں زیادہ تر فضول تھیں، شیخی بازی یا خود پرستی اور طرح طرح کے تعصبات سے بھری ہوئیں۔ ادیب دوستوں میں انتظار حسین اور شاہد حمید کی آ پ بیتیاں سامنے آئیں۔ دونوں سے امید پوری نہیں ہوئی۔ انتظار صاحب نے ’جستجو کیا ہے‘ کو سفرنامہ بنا دیا، ان کی آپ بیتی سے بدرجہا بہتر تو مجھے لاہور کی اس زندگی کا بیان لگا تھا جس میں کتنی بہت سی زندگیوں کے قصے سمٹ آئے ہیں۔ ’چراغوں کا دھواں‘ یہ روداد بھی انتظار حسین ہی لکھ سکتے تھے۔ اور شاہد حمید تو اپنی عمر کے سترہ برسوں پر آکے ٹھہر گئے یا پھر سیاست کے بکھیڑے میں ایسے الجھے کہ اپنی معروضیت اور متانت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ لیکن اکرام اللہ نے کیا ردھم(Rythm)  اختیار کی ہے، ہموار اور سحر انگیز۔ کسی پرسکون صبح سویرے کے ماحول سے مماثل دھیمی دھیمی سے گت پر جیسے استاد ولایت خاں ستار بجا رہے ہوں۔

یہ ضبط اور وقار مجھے صرف اکا دکا آپ بیتیوں کے بیان میں نظر آیا۔ ان میں کوئی بھی اردو میں نہیں۔ ’جہان گزران‘ کا روشن ترین پہلو مجھے یہی محسوس ہوا کہ اکرام اللہ کی انسان دوستی پر کہیں ذرا بھی آنچ نہیں آنے پاتی۔ میرا خیال ہے کہ آپ بیتی لکھنے والے کو انا پرست یا اپنے آپ سے بھرا ہوا نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ آج کے ادیب کا سب سے بڑا فریضہ ایک تو انسان دوستی کے تصور کو کسی عقیدے کی طرح قبول کرنا ہے، ہر طرح کے مذہبی، مسلکی، سیاسی، علاقائی ، معاشرتی اور لسانی تعصب سے سو فیصدی آزاد ہو کر ، دوسرے یہ کہ اسے اپنے آپ سے اور اپنے محفوظات سے بھی آزاد ہونا چاہیے۔ اڈورنو (Adorno ) نے غلط نہیں کہا کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت بیمار جذبوں سے نجات پانا ہے۔

قرة العین حیدر کے سوانحی ناول ’کار جہاں دراز ہے‘ کی پہلی جلد کے مقابلے میں دوسری جلد کتنی کم مایہ ، پھسپھسی اور غیر دلچسپ ہو گئی ہے۔ جب تک وہ اپنے زمانے میں داخل نہیں ہوئی تھیں، ٹھیک تھیں۔ مگر اپنے دور میں آتے ہی وہ اپنے خاندان، دوستوں، عزیزوں کی محبت اور اپنی جذباتی مجبوریوں سے مغلوب ہو گئیں۔ ان کی دنیوی کامرانیوں اور فتوحات کے بیان نے ایک اچھے بھلے  Family Saga   کی دوسری جلد کو جی بھر کے خراب کیا۔ اصل میں جب تک کوئی پنک فلوائڈ کی وضع کردہ سمفنی کے مطابق Dark side of the Moon سے آنکھیں چار کر سکنے کی صلاحیت اور حوصلے سے متصف نہ ہو، اسے نہ تو فکشن لکھنا چاہیے، نہ آپ بیتی۔

ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب ’آج‘ کراچی میں اوم پرکاش والمیکی کی سرگزشت یا سوانحی ناول ’جوٹھن‘ شائع ہوا تھا۔ اس کے ہر لفظ اور ہر جملے میں ایک نادیدہ ہنرمندی، صداقت اور استعداد سے مالامال لہر موج خوں کی طرح دوڑ رہی ہے۔ 1947ء کی تقسیم اور فسادات کے پس منظر میں لکھی جانے والی، یادوں پر مبنی کتاب ’آزادی کی چھاﺅں میں‘ (مصنفہ بیگم انیس قدوائی) کا بھی یہی حال ہے۔ ایک اندوہ ناک تجربے سے گزرنے کے بعد بھی نفرت، غصے، شکوہ شکایت کا نشان تک نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ کسی غم آلود ردعمل، کسی طرح کی محرومی اور بدنصیبی، کسی واعظانہ اور ناصحانہ عنصر کا سراغ بھی نہیں ملتا۔ اپنے آپ میں مگن اور اپنی چال میں گم، ایک ندی ہے جو چپ چاپ بہے جاتی ہے اور بس۔

یہی حال اکرام اللہ اور ان کے جہان گزراں کا ہے۔ وہ تو گرد کے مانند اڑی جاتی ہوئی منزلوں کا ذکر بھی اس طرح کرتے ہیں جیسے یہ کوئی انہونی، غیر متوقع اور اچانک بات اور واردات نہ رہی ہو۔ یہ ان کے اسلوب بیان کی عام خوبی ہے۔ ایسے انسانوں میں بھی ، چاہے سماجی انصاف کے خلاف کسی زیادتی کا بیان ہو یا کسی ذاتی اور اجتماعی بدبختی کا، اکرام اللہ کی فکری اور جذباتی استقامت، ان کے اخلاقی موقف اور انسان دوستی کے ایک گہرے، نیم فلسفیانہ، مبہم احساس پر مشتمل ان کی سوچ کا یہی حال ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں کا ترجمہ دنیا کی کسی بھی زبان میں کر دیا جائے، میرا تاثر اور قیاس یہی کہتا ہے کہ اس (تحریر) کی خوبیاں بچی رہیں گی۔ وہ اپنے بیانیے کی زبان کو، کسی مصنوعی اور لسانی، بیرونی داﺅں پیچ کی مدد سے، بنانے اور تشکیل دینے کی کوشش نہیں کرتے۔ بیانیے کی زبان، لہجہ، اسلوب کے باہمی ادغام اور آمیزش سے خود اکرام اللہ کی تصویر ابھرتی ہے جنہوں نے اس طرح اپنے تجربے میں آنے والی سچائیوں کو بطور فکشن ایک بھر پھر سے سمجھنے اور سامنے لانے کی کوشش کی۔

1947 ء کی تقسیم، فسادات اور انسانی تاریخ کی سب سے ہولناک اجتماعی ہجرت نے مل جل کر ایک جوالا مکھی کا منظر یہ ترتیب دیا تھا۔ بہت سی محبتیں، یقین، بھروسے، امیدیں اور خواب اس کی نذر ہو گئے۔ بقول کرشنا سوبتی ، اس ڈراﺅنے سانحے کو نہ تو بھلانا ممکن ہے، نہ یاد کرنا۔ ہمارے یہاں ادھر ہندی اور انگریزی اخباروں، کتابوں، یادناموں میں اس موضوع پر اچھی بری کہانیوں، نظموں، مضامین کالمز کی باڑھ سی آئی ہوئی ہے اکرام اللہ کی کتاب میں بھی بالواسطہ طور پر مرکزی موضوع کا مرتبہ 1947ء کو حاصل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جہاں گزراں کے ساتھ وقت کی وہ ساعت بھی گزر گئی اور وقت میں یہی تو خوبی ہے کہ ٹھہرتا نہیں۔ ورنہ تو زندہ رہنا مشکل ہو جاتا۔

خود میرے ذہن میں 1947 ءکے پہلے اور بعد کا دور بہت سی ہانپتی کانپتی، ٹھہرتی بھگتی یادوں کے ساتھ زندہ ہے۔ اس ذخیرے میں کیا کچھ چھپا ہوا ہے، بٹواروں کی سیاست اور ذلتوں کے اسیر دل و دماغ کے ساتھ اسے دیکھنے اور سمجھنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکرام اللہ نے بھی اسے اپنے وجود کی سطح، اپنے دور کی آدھی ادھوری زندگیوں کی سطح سے اٹھ کر جہاں گزراں میں دیکھا اور دکھایا ہے۔ یہ کوشش بھی کی ہے کہ اس کم نصیب زمانے سے وابستہ سیاسی ضرورتوں اور اخلاق سے یکسر عاری، خود غرضانہ مقاصد کی سطح سے اوپر اٹھ کر (1947 ءسے پہلے اور بعد کے اپنے تجربوں) دیکھا اور دکھایا جائے۔ ایک معاشرہ ختم ہوا۔ دنیا کی بڑی دو تہذیبوں کے اشتراک سے جنم والی ایک روایت ختم ہوئی۔ اب نہ وہ لاہور، نہ وہ امرتسر۔ ان بستیوں کے گم شدہ زمانوں میں کھڑے ہوئے لوگ، اب ان کا تذکرہ موہوم خوابوں کی طرح کرتے ہیں۔ تو اب شدید ضروری ہو گیا ہے کہ نجیب محفوظ کی طرح واقعات اور کہانیوں کے بجائے خواب ہی لکھے جائیں۔ اکرام اللہ نے بھی اسی خواب کا دروازہ کھولا ہے، ایک دھیمی سی دستک کے ساتھ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •