شہر مدفون کی ایک گلی اور حسن کوزہ گر

شمیم حنفی 6 مئی 2021 کو رخصت ہوئے تھے۔ دو برس گزر گئے۔ جانا تو سبھی کو ہے۔ موت اچھے لوگوں کو اچک لینے میں کچھ عجلت پسند واقع ہوئی ہے۔ چند روز قبل برادرم محمود الحسن سے شمیم بھائی کی باتیں ہوتی رہیں۔ اب ان کا حکم موصول ہوا ہے کہ "ہم سب” پر شائع ہونے والی شمیم حنفی صاحب کی زیر نظر تحریر پھر سے شائع کی جائے۔ تعمیل کئے بغیر چارہ نہیں۔ اس تحریر کے ساتھ شمیم

Read more

یہ کوئی کتاب نہیں

محمود الحسن کو میں نے ادیب یا صحافی کے بجائے ادب کے ایک پُر شوق اور بے مثال قاری کے طور پر جانا۔ کوئی دس بارہ سال پہلے، اُن سے ملاقات ہوئی، آصف فرّخی نے تعارف کرایا، اور وہ مجھے بھا گئے۔ اس کا روباری دنیا میں ادب سے ایسا عشق! طبیعت میں اتنا ضبط اور ٹھیراﺅ! پھر تو جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور محمود الحسن سے ملاقاتیں یا باتیں ہوتی گئیں، میرے دل میں ان کی قدر بڑھتی

Read more

مسعود اشعر: اپنے آپ کو کہانیاں سنانے والا

(مگر یہ کہانیاں سب کے لئے ہیں)       اخبار نویسی اور صحافت کو ادب کی روایت سے الگ کر کے ہم نے اپنا بہت نقصان کیا ہے۔ نا انصافیوں کے مر تکب بھی ہوئے۔ غالبا یہ ادعائیت زدہ سماجی حقیقت نگاری کی ضد میں ہوا۔ بہر نوع، وجہ کچھ بھی رہی ہو، خسارہ تو اپنی ادبی روایت کا ہی ہوا۔ پتہ نہیں، ہم یہ کیوں بھول جا تے ہیں کہ عام زندگی اور یہاں تک کہ زندہ مسئلوں کا حق ادا

Read more

ایک ڈوبتا ہوا شہر اور منگلیش ڈبرال

یہ کہانی ایک جیتے جاگتے شہر کی ہے، کسی خواب کا بیان نہیں۔ اسے ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ  (The wasteland) کے ایک چھوٹے سے حصے ”پانی سے موت“  (Death by Water) کا بدلا ہوا روپ بھی کہا جا سکتا ہے۔ زندگی اور انسانی تقدیر سے وابستہ اچھے برے تجربے، مختلف زمانوں میں، ہمارے احساسات پر طرح طرح سے وارد ہوتے ہیں! اس کہانی اور اس شہر میں ہماری دلچسپی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس کا براہ راست

Read more

اکسٹھ سال لمبی رات: اجمل اجملی کی زندگی

ہر بستی، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، اس کی ایک الگ پہچان، الگ مہک، بلکہ الگ موسم ہوتا ہے۔ الٰہ آباد میں زندگی کے دس برس گزارے۔ اب خواہ مخواہ وہاں کی ہر بات یاد آتی ہے اور بہت سے لوگ، ایسے لوگ جن سے بے تحاشا محبت کی اور ایسے بھی جن سے روز کا ملنا جلنا رہا، مگر وہ ہماری زندگی اور ہمارے زمانے کا حصہ نہ بن سکے۔ اجمل اجملی، ہماری یادوں میں ایک مستقل جگہ رکھتے

Read more

گریش کرناڈ: طاق میں چراغ

گریش کرناڈ کو رخصت ہوئے سال بھر سے زیادہ کا وقت گزر گیا۔ ’’زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی…‘‘ اگر محمود الحسن (لاہور) نے ایک دھندلی ہوتی ہوئی یاد کی طرف توجہ نہ دلائی ہوتی۔ جنوبی ہندوستان کے کئی مشہور لکھنے والوں سے دور اور پاس کا تعلق رہا۔ ایپاپنکر، سچدا نندن، سلمیٰ، یو آر اننت مورتی، گریش کرناڈ۔ اپنے رہن سہن، وضع قطع، بات چیت اور مزاج کے اعتبار سے ان میں اور شمالی ہندوستان کے ادیبوں میں بہت

Read more

ایک خط کسی کا، سب کے نام: (محمد سلیم الرحمن کی کتاب ’نظمیں‘)

یہ کیسا سفر ہے ! مانوس سے نامانوس کی طرف، یا جہان معلوم سے ایک جہان نامعلوم کا۔ یا ایک انفرادی تجربے کا بیان جو بالآخر ہمیں اپنی اجتماعی دنیا تک پہنچا دے۔ ذاتی سے اجتماعی (Personal to impersonal) کا یہ مسئلہ شاعری میں بہت پیچیدہ اور مبہم ہے۔ اس پر علیحدہ بحث کی جانی چاہیے۔ پچھلے چند برسوں میں شاعری کے جو مجموعے میرے مطالعے میں آئے، یہ ان سب سے مختلف ہے۔ مختلف تو خیر ہر نئی اور

Read more

دلی سے اہل لاہور کے نام۔۔۔ ایک تعزیت نامہ

بھائی محمود الحسن، آپ کی وال پر ظفر حسن صاحب کے گزر جانے کی خبر دیکھی۔ دل ڈوبنے لگا۔ نومبر میں اُن سے ایرج مبارک کے گھر پر، اس کے بعد ڈیفنس کے کلب میں ناشتے کی میز پر ملاقات ہوئی تھی۔ کسے پتہ تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔ آج آپ نے تصویر یں بھیجیں تو خیال آیا کہ اُس روز ملاقات کی صبح ہم سب خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ معلوم نہیں کیا سوچ رہے تھے۔ انتظار صاحب جب

Read more

اکرام اللہ اور ان کا جہان گزران

(تذکرہ اس کتاب کا جو ابھی پڑھی نہیں گئی) سیاست کی آنکھ مچولی نے ڈاک کے آنے جانے پر پابندی لگا دی ہے۔ سو کتاب تو ملنے سے رہی مگر ہم نے بھی طے کر لیا تھا کہ اس وقت باتیں اکرام اللہ اور ان کی نئی کتاب ’جہان گزران‘ کے بارے میں ہی کی جائیں۔ وہ شدت سے یاد آ رہے ہیں۔ محمد عاصم کلیار کی ایک تحریر، اس کے بعد مسعود اشعر کا کالم، پھر لاہور میں ایرج

Read more

اپنے سائے کی پہچان – پیرزادہ سلمان کی شاعری کے ساتھ

نظام الدین میں اب تھک گیا ہوں تھک گیا ہوں یہ دیکھو گھر بدلتے، رزق چُنتے، راہ تکتے تھک گیا ہوں چھتوں پر رقص کرتے، آہ بھرتے زیست کرتے تھک چکا ہوں میں اب تھک چکا ہوں تھکتے تو خیر صوفی سنت بھی ہوں گے، اس تماشے کا حصّہ بنے بغیر، شاید اس تماشے کو دیکھتے دیکھتے۔ لیکن پیرزادہ سلمان کی یہ چھوٹی سی کتاب ہمیں نہ تو اپنی تھکن کا قصہ سناتی ہے، نہ اپنے اس نا مبارک زمانے

Read more