کیا بنے گا دنیا کا: سچا ”سوشل میڈیا“ جانے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک نے جتنا ہمارے معاشرتی رویوں کو بدلا ہے شاید ہی اس کی کوئی اور مثال موجود ہو۔ اس تبدیلی نے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے ارتقائی سفر کی برق رفتاری کو بھی کہیں پیجھے چھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب تو ان عظیم الشان چینلزکی رائے سازی بھی فیس بک جیسے دیو ہیکل پلیٹ فارم کے اثر کے سامنے بونی نظر آتی ہے۔ اتنے با اثر ہونے کی سب سے بڑی وجہ سمارٹ فون تک آسان رسائی اور سستا انٹرنیٹ ہے جوکہ از خود بری بات نہیں، مگر اس کے منفی ومثبت استعمالات ضرور بحث طلب ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ عوامی حلقوں میں فیس بک جیسے پلیٹ فارم کو بہت زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا مگر سرچ کرنے پر لگتا یوں ہے کہ جیسے جہان کے ہر فرد کا اکاونٹ پورے دھوم دھڑکے کے ساتھ فیس بک پر رواں دواں ہے۔ اس پر آئی ہر نیوز فیڈ کو عمومی طور پر دھڑا دھڑ شیئر کرنا فریضِہ اول سمجھا جاتا ہے۔ اس سب پر سونے پہ سہاگا ہماری شہرت پسندی اور مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے کی خواہش ہے جو کہ کسی کی فرد اور ادارے کی عزت و ناموس کو بالَاِے طاق رکھ کر بس داد سمیٹتے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ انسان فظری طور پر خوشامد پسند ثابت ہوا ہے اور اسی جبلت کو فیس بک ٹیم نے مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر لائک یا کمنٹ ایسے فیچر متعارف کروائے اور یہ سلسلہ ایک عام سے پلیٹ فارم سے بڑھ کر اب لائف سٹائل تک پہنچ چکا ہے۔

بہت سی تحقیق کے نتیجے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ فیس بک پر اکژیت ایسی خبروں کی ہوتی ہے جو کہ فیک یا غلط ہوتی ہیں اور ان کا حقائق سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ہمیں آخر پتہ کیوں نہیں چلتا کہ کون سی سٹوری یا نیوز فیڈ صحیح ہے اور کون سی غلط؟ اس کا جواب شاید اس تجزیے میں چھپا ہو کہ ہمارے اذہان ”علم“ یعنی نالج کے بجائے معلومات یا انفارمیشن کے عادی ہوچکے ہیں اوراس طرح کی معلومات کی آسان رسائی ہمیں ذہنی طور پر تجزیہ سازی اور رائے استوار کرنے کی صلاحیت کو استعمال کرنے کی رغبت نہیں دیتی، اس کی بہت بڑی مثال اپنے گھر والوں کے اور کچھ لوگوں کا اپنے ہی نمبرز اور اس سے ملتی جلتی معلومات کا یاد نہ ہونا ہے، ماضی میں حالات خاصے مختلف تھے۔

سائنسی گفتگو خاصی خشک ہے چلئے اب بات ہوجائے کچھ معاشرتی پہلوؤں کی۔ عابد علی مرحوم کی قبل از مرگ موت کی خبر سے لے کررابی پیرزادہ کی نجی ویڈیو کے پھیلاؤتک، ٹرین حادثہ میں جلتے زندہ لوگوں کی چیخوں سے لے کر قحبہ خانہ کے چھاپوں کی ویڈیوز تک، بطور قوم ہماری اکثریت بے حس اور شاید جذبات سے عاری ہو چکی ہے۔

یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر فیس بک ایسی سہولت نہ ہوتی تو شاہ زیب کیس، کمسن بچوں پر تشدد کی داستان اور ایسے نجانے کتنے واقعات کا کیا ہوتا؟ شاید اس بات کا جواب دینا بہت آسان نہیں مگر ایک بات واضح ہے کہ ہمیں بطور معاشرہ اور فرد دونوں ہی سطحوں پر تربیت اور بردباری کی ضرورت ہے۔ ایسے موقع پچھلے چند سالوں میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے جو سوشل میڈیا پر ”تبدیلی“ نے جنم لیا ہے اس طوفان کا خمیازہ شاید آنے والی نسل تک کو بھگتنا پڑے۔

پاکستان اور اس جیسے بہت سے ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ اقتصادی و معاشی کمزوری کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار سے جڑا ہے اب اس سب کی ذمہ داری اشرافیہ، سٹیٹس کو، سیاسی و سماجی رہنماء، اساتذہ، صحافی، عوام اور خواص، سول سوسائٹی، قانون ساز اداروں، تعلیمی و علمی مراکز سے ہوتی ہوئی ایک فرد پر آ کر منہ چڑاتی نظر آرہی ہے اور شاید بہت عرصے تک ایسے ہی نظر آتی رہے۔

معاشرے میں سوشل میڈیا کا جن شاید بہت جلد ایک دیو بن کر ہم سب کو نگل لے، مگر اس کے دیو بننے کے عمل کو آہستہ ضرور کیا جاسکتا ہے۔ مگر کیسے۔ اس کا فیصلہ آپ نے اور میں نے کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علیم احمد خان کی دیگر تحریریں
علیم احمد خان کی دیگر تحریریں