محبت کا اقرار نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری بات تو سنو! اے سخن ور وجیہ مرد، نہ جانے تمہارا ساتھ نصیب ہوئے کتنے ہی دن، ہفتے، مہینے گزر گئے۔ میں ازلوں سے حساب کی کچی عورت محض باتیں بنانے کے فن سے ہی واقف ہوں۔ تمہارے آجانے کے بعد تو شاید اس میں مزید بہاؤ آگیا ہے۔ جب کوئی توجہ سے سننے والا انسان دسترس میں ہو اور تم جیسا، جومرد کی تعریف پر حیران کن حد تک پورا اترتا ہو، تو کون کافر اس ہنر میں مہارت اختیار کرنے کے لیے جتن نہ کرے گا۔

عورت کے عشق میں رند کا مجنوں ہونا جانتی ہوں، مگر محض تمہاری آنکھوں کی چاشنی سے خود کو لیلیٰ کی کیفیت میں ڈھلتا دیکھنا معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟

۔ تمہاری پر سحر آواز کی گرمائش سے دیوانگی میں مبتلا ہونے والی، تمہارا دیدار کرنے پر نہ جانے ہوش سے بیگانگی کے کس مرحلے پر کھڑی ملے گی۔

ہاں یہ سچ ہے تمہاری آنکھوں میں ابھرنے والی چمک اور ہونٹوں پر ہر لمحہ رقص کناں، دھیمی مسکراہٹ نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔

جانتی ہوں کہ تم مجھے پاگل، دیوانی سمجھتے ہو، مگر آئینے میں ایک بار کھڑے ہو کر اس فرصت سے خود کو دیکھو نا جس فرصت سے ہر رات میں تمہاری شبیہہ بناتی ہوں۔ تم خود پر طاری نہ ہو جاؤ تو پھر کہنا، مگر تمہیں میری ایک شرط ماننا پڑے گی، میرے کہنے پر بس ایک بار اتنے ہی دلفریب اور دلکش لہجے میں خود کو پکارنا، جتنا وہ میرے لئے راحت بخش اور مسرت افزا ہوتا ہے۔

کیا کبھی تم نے غور کیا ہے کہ تمہاری جادوئی آواز کو نہ جانے کتنی سمندری تتلیاں مڑمڑکے سنتیں ہیں اور پھر جا کر جھیلوں اور ندیوں کے پاس بسنے والی بلبلوں اور فاختاوُں سے اس کا تذکرہ کر کے انہیں حسرتوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

تمہارا یہ غضب ڈھاتا ہوا فسوں، شباب، زہر، نشہ یہ سب شراب کو بھی احساس کمتری میں مبتلا کر دینے کی طاقت رکھتا ہے تو مجھ جیسی عورت کا تیرے سحر میں جوگن ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔

کبھی فرصتوں میں اپنی آنکھوں میں انہیں وحشتوں کے ساتھ جھانک کر دیکھو جن شدتوں کے ساتھ میں ہر خواب میں تمہیں دیکھتی آئی ہوں۔ تمہاری شرابی، آتشی آنکھوں پر پہرا دیتی تمہاری گھنی پلکوں کے فسانے، ان کا تناوُ اور خمار کسی کو بھی تمہاری تمنا میں مبتلا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

پھر تمہارا اپنی تمام خوبیوں سے مکمل طور پر آشنا ہونے کے باوجود درویش صفت رویہ تمہیں کسی بھی لڑکی کے ذہن میں ابھرنے والے تصوراتی، مثالی مرد سے بھی چار قدم آگے لاکھڑا کرتا ہے۔

ہاں میرے محبوب! تم اس دیوانی کو اندر باہر سے اتنے حسین لگتے ہو، جتنا تم کبھی کسی کو نہ لگ پاؤگے۔

میں اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں تمہارے ظاہری حسن کے ساتھ ساتھ تمہارے کردار کی پختگی اور روح کی پاکیزگی میرے وجود پر تاحیات یوں ہی قہر ڈھاتی رہے گی اور میرے دل پر سدا اب تمہارے وجود کی ہی حکمرانی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وجیہہ جاوید کی دیگر تحریریں