مشکل فیصلے اور ڈیفالٹ چورن

کہا جا رہا ہے مشکل فیصلے نہ کریں تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا۔ جناب سرکار جی، مشکل فیصلے عوام کو غریب کرنا نہیں، بلکہ پہلے *یہ خود پہ کیجیے، پھر پبلک کرے گی۔ * 1۔ *تمام پارلیمانی ممبر* اگلے الیکشن تک کوئی تنخواہ یا مراعات نہیں لیں گے۔ ( صوبائی اور قومی اسمبلیوں سب پہ یکساں ) ۔ 2۔ *تمام ارب پتی اور کھرب پتی* سیاست دان ( حالیہ ممبر اور ماضی کے ) اپنے 90 فیصد اثاثے اس

Read more

عالمی یوم محبت

میری بات تو سنو !اے  سخن ور وجیہ مرد، نہ جانے تمہارا ساتھ نصیب ہوئے کتنے ہی دن،ہفتے ،مہینے گزر گئے۔میں ازلوں سے حساب کی کچی عورت محض باتیں بنانے کے فن سے ہی واقف ہوں ۔ تمہارے آجانے کے بعد تو شاید اس میں مزید بہاؤ آگیا ہے۔ جب کوئی توجہ سے سننے والا انسان دسترس میں ہو اور تم جیسا، جومرد کی تعریف پر حیران کن حد تک پورا اترتا ہو، تو کون کافر اس ہنر میں مہارت

Read more

اسلامی اکانومی سسٹم وقت کی ضرورت کیوں ہے

عمران خان نے پاکستان میں ریاست مدینہ کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی جس میں انہیں بری طرح ناکامی ہوئی۔ اب اگر اس کڑی کو آگے لے کر جانے کی بات کی جائے تو مذہبی جماعتیں آگے آ کر عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے کہ ہم کیا لا سکتے ہیں، کیا دے سکتے ہیں، کس طرح سے معاملات اور حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی مذہبی جماعتیں سیاسی نظام میں ناکامی کے

Read more

پہلے عوام اپنا کام کریں

آئی ایم ایف کوئی فلاحی ادارہ نہیں ہے، نہ ہی اس کا کام غریبوں اور مسکینوں کی فلاح کے لیے کام کرنا ہے۔ یہ ایک کاروباری ادارہ ہے جو ایسے ممالک کو اپنے لیے سود پر قرضہ دیتا ہے جو اپنے ملک کو بہتر انداز میں چلا نہیں پا رہے ہوتے تاکہ وہ ان پیسوں کی مدد سے بحران سے نکل سکیں اور عوام کے لئے افادیت پیدا ہو اور اس کا بہتر استعمال کر کے اپنے سسٹم کو بہتر

Read more

مجھ سے دوستی کر لو والے پاپا کے گڈے

سوشل میڈیا کی اہمیت اور افادیت سے آج کے دور میں کون واقف نہیں؟ جہاں اس نے بہت سے لوگوں کو اپنے فن کے اظہار کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ سیاسی معاشی اور معاشرتی مسائل کی نشاندہی اور پھر اس کے حل تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ رائے کے اظہار کی آزادی دی ہے وہاں مردوں کی کچھ خاص قسمیں اس پلیٹ فارم پر وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں (جس کا مجھے ایمان کی حد تک

Read more

افسانہ وہم

موت چاروں طرف خوف کی صورت میں پھیلی ہوئی تھی۔ جیسے کوئی گوشت خور پرندہ کسی مردار کی تاک میں بیٹھا ہو، اس سے اٹھنے والے تعفن سے بھوک کو بڑھا رہا ہو۔ پیٹ بھر جانے کا احساس اسے سرور کی کیفیت میں مبتلا کر رہا ہو۔ اس نے بے بسی کے عالم میں اپنی کھڑکی سے باہر جھانکا۔ باہر ٹرکوں کی ایک لمبی قطار موجود تھی۔ جس کے اندر موجود مردہ جسم پر موت نے اپنے پنجے گاڑ کر

Read more

ہرجائی

ہرجائی اب چلے بھی جاؤ۔ میرے دل میں موجود خوش گمانیوں کا ہر کونا تمہاری چاہ سے رخصت طلب ہے۔ شبِ زندگی ابھی اختتام پذیر نہیں ہوئی۔ زندگی میں موجود اندھیرے اب بھی بدستور برقرار ہیں، مگر دور کہیں سے ٹمٹماتے قمقمے میری روح سے اندھیروں کو دور کرنے کے لیے بے قرار نظر آرہے ہیں۔ گلشن میں موجود کلیاں جو ہر بار تمہارے ساتھ ہونے کے باوجود مجھے اداس کر جاتی تھیں آج میری مسکراہٹوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کر

Read more

”زندگی“

تمہیں زندگی کیسی لگتی ہے؟ یہ کیسا عجیب سوال ہے۔ اس میں عجیب ہی کیا ہے؟ تم جب آنکھیں بند کرو تو زندگی کی کیسی شکل تمہارے ذہن میں ابھرتی ہے زندگی! اس کی آنکھیں کسی وحشی قاتل کی طرح خون ٹپکاتی ہیں۔ غصے کی حالت میں گالیاں بکتے اس مرد جیسی جس کی نظر میں اس کی بیوی کی اوقات کسی راہ پڑے پتھر سے زیادہ نہیں ہوتی، جس کو کبھی بھی ٹھوکر مار کر اپنی مردانگی اور طاقت

Read more

افسانہ ”التجا“

اے میری ناراض محبوبہ! اب مان بھی جاوُ نا۔ تمہیں مجھ سے منہ پھیرے نہ جانے کتنا عرصہ بیت چکا ہے۔ تمہارے جانے کے بعد سے چاند مجھ سے اکھڑا سارہتا ہے۔ عورت سے تعلق بنانے سے ساری زندگی محض اسی لئے گریز کرتا رہا تھا کہ یہ قیمت بہت بڑی مانگتی ہے۔ تم جاتے جاتے میرے بچپن کی سب سے اچھے ساتھی کو بھی اپنی مٹھی میں لے اڑی۔ اب میں چاند کو پکارتا ہوں تو وہ مجھے آنکھیں

Read more

افسانہ دیوانی

میری بے ساختہ ہنسی کو کھوجتے کھوجتے تمہارے ہونٹوں پر ابھرنے والی دھیمی مسکراہٹ، تمہاری محبت سے لبریز پر سحر آنکھیں جن کا جادو میری روح تک کو تمہاری خوشبو سے معطر کر دیتاہے۔ تمہاری ہتھیلی پر موجود گہری لکیریں جن کا کوئی سرا بھی کبھی ہمیں ایک نہ کر پائے گا۔ تمہارا آبگینے کی طرح میرا خیال رکھنا اس خوف کے ساتھ کہ وقتی طور پر تمہارے بدلتے مزاج اور تلخ رویے کی ذرا سی ٹھیس میرے وجود کو

Read more

افسانہ مرد

وہ ریلوے اسٹیشن پر بیٹھی نہ جانے کب کی ریل کی منتظر تھی۔ اس تھکا دینے والے انتظار نے اسے بے چین کر دیا تھا۔ اس کے مہندی لگے ہاتھوں میں لال چوڑیاں تھیں۔ وہ اپنا وقت ان کی کھنکھناہٹ کے ساتھ کاٹ رہی تھی. کبھی وہ انہیں گھوماتی اور کبھی گننے لگتی۔ وہ عجیب سی سرشاری کے عالم میں تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ نئی نویلی دلہن ہے۔ اس کا چہرہ نقاب کے نیچے چھپا ہوا تھا

Read more

جشن سال نو اور ازلی بے بسی

اختتامِ شام ہجراں کے انتظار میں نجانے کتنے ہی چاند بے آواز رونے میں مصروف ہیں۔ نہ جانے کتنے سورج سمندر میں آگ لگائے بیٹھے ہیں۔ مایوسی لے کے خالی ہاتھ پلٹنا کیسا تڑپا دینے والا ہے۔ اس بات کا اندازہ وہ انسان اچھی طرح کر سکتا ہے جو چائلڈ کورٹ کے سامنے بیٹھا اپنے بچوں سے ملاقات کی امید باندھے ہر گزرتے لمحے کو قیامت کی طرح جھیلتا آیا ہو اور طے شدہ وقت سے چند لمحے پہلے اسے

Read more

نفسیاتی مریض

وہ پری چہرہ نجانے کب سے سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر سلیقے سے سجی ہوئی ان ہری چوڑیوں کو دیکھا جنھیں شیراز بڑے چاؤ سے اس کے لیے خرید کر لایا تھا۔ اس کے نکاح میں گزارے گئے حسین لمحات کسی فلم کے منظر کی طرح اس کی بند آنکھوں میں در آئے تھے۔ وہ معمول کے مطابق کچن میں کام کرنے میں مشغول تھی۔ جب شیراز کے قدموں کی آواز اور چوڑیوں

Read more

نادان لڑکی

زندگی نشیب و فراز کے ایک ایسے اندھے کنویں کے گرد گھومتی رہتی ہے جس میں خواہشات اور خوشیوں کے حصول کے لیے انسان کو اپنا وجود تو ایک بار اس کنویں کے سپرد کرنا پڑتا ہے اس کنویں کا پانی بعض لوگوں کے لئے تو آب حیات ثابت ہوتا ہے اور کچھ بدقسمت لوگ اپنی پیاس کی شدت کو اتنا بڑھا لیتے ہیں کہ وہ انہیں سراب کرنے کی بجائے موت کی وادی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ موت

Read more

شبِ دید

جانتے ہو کہ کل شب پھر تم رات کے اسی آخری پہر میں خواب میں آئے تھے، جب تم سے ملاقات کی تمام امیدیں مایوسی میں ڈھل جاتی ہیں۔ تمہارا مجھے اس وقت آکر چونکا دینا میرے دل کے ہر خانے کو مسرتوں کے سرخ گلابوں سے مہکا دیتا ہے۔ جانتی ہوں یہ تاخیر میری آنکھوں میں بے قراری کے جذبات دیکھنے کے لئے ہی کرتے آئے ہو۔ مگر شاید تم اس بات سے ناواقف ہوں کہ تمہاری آنکھوں میں

Read more

افسانہ بدروح

یہ تم سے نفرت کی انتہا ہی تو ہے جو مجھے ہر وہ لڑکی جو خود سے بے نیاز آپنے خیالوں کی دنیا سجائے، ہتھیلی میں اپنا چہرہ تھامے، فضا میں موجود بادلوں سے مختلف تصویریں بناتیں رہتی ہے میں اس معصوم چہرے کے اندر چھپے بچپنے کو کھوجنے کے بجائے اس میں چھپی حرص اور لالچ کی تلاش میں لگ جاتا ہوں۔ ہر وہ لڑکی جو شرم و حیا کا زیور اپنی آنکھوں میں سجائے اپنے دوپٹے سے اٹکھیلیاں

Read more

محبوب کے نام ادھورا خط۔ خود کلامی

سنو میرے چاند! کل دوستوں کی محفل میں اچانک سے خوشبووُں کا تذکرہ ہونے لگا۔ یقین مانو میرے ذہن میں تمہاری خوشبو کے علاوہ کسی خوشبو کا گماں بھی نہ آیا تھا۔ میرا خوشبووُں اور خوشیوں سے معطر چہرہ تمہاری اچانک یاد آ جانے سے زرد پرچکا تھا۔ کیا تمہارے بھی ذہن میں وہ دن اسی انداز میں تروتازہ ہے؟ وہ وقت جب تم مجھے تحفہ دینے پر بضد تھے۔ میں جس چیز پر ہاتھ رکھتی تم اسے میرے قدموں

Read more

محبوبہ کے نام ایک خط

سنو جاناں! یہ جو تم خواہشات کی چادر اوڑھے ننگے پیر اس کٹھن صحرائی سفر پر نکل چکی ہو، جانے سے پہلے اپنے سے متعلقہ چند لوگوں کو اپنے سفر اور منزل کی معلومات دیتی جاوُ۔ اس تھکادینے والے سفر میں بیچ راستے سے مایوسی لے کر پلٹنا کیسا غضب ناک ہے۔ میں تو اس اذیت سے واقف ہوں۔ تنہائیوں سے محبت کرنے والے تو کسی طرح ان سے مرضی مطلب کے لوازمات ڈھونڈ نکالتے ہیں مگر اس کو آسیب

Read more

دو بستر اور ایک چادر

نومبر کی ابتدائی راتیں اپنے جوبن پر تھیں۔ عاشر رات کے اس پہر میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے راستے داخل ہونے والی مدھم چاندنی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ چاند کو پہروں تکتے رہنا اور اس کی ٹھنڈک کو اپنے وجود میں اتارنا اس کا مشغلہ تھا۔ سردیوں کی راتیں اس کا اور چاندنی کا ساتھ بھی اکثر چھین لیتی تھیں۔ وہ بادلوں کی اوٹ میں چھپے چاند کی چاندنی کو دیر رات تک کھوجتا رہتا اور پھر

Read more

خواب اور نومبر

نبیلہ اپنا سردونوں بازوؤں میں ٹکا کر چھت پربیٹھی تھی شام کے وقت گھر کو لوٹتے پرندے۔ سورج کے غروب ہونے کے منظر۔ ہر بار اس کی آنکھوں میں جمی اداسی کو مزید گہرا کر کے اس کے جسم میں اتار دیتا تھا وہ بھی تو اس سورج کی طرح ہر گزرتے دن کے ساتھ غروب ہو رہی تھی اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور نیچے اتر گئی نبیلہ جو کبھی رنگوں سے بھرپور شوخ حسینہ کے طور پر

Read more

محبت کا اقرار نامہ

میری بات تو سنو! اے سخن ور وجیہ مرد، نہ جانے تمہارا ساتھ نصیب ہوئے کتنے ہی دن، ہفتے، مہینے گزر گئے۔ میں ازلوں سے حساب کی کچی عورت محض باتیں بنانے کے فن سے ہی واقف ہوں۔ تمہارے آجانے کے بعد تو شاید اس میں مزید بہاؤ آگیا ہے۔ جب کوئی توجہ سے سننے والا انسان دسترس میں ہو اور تم جیسا، جومرد کی تعریف پر حیران کن حد تک پورا اترتا ہو، تو کون کافر اس ہنر میں

Read more

مقبوضہ کشمیر کی حالت زار

سوا تیرا ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا جموں کشمیر کا خطہ 24 اکتوبر 1947 کو وجود میں آیا۔ کشمیر جو کہ ایک نیم خودمختار ریاست ہونے کے باوجود اقوام متحدہ ہ کا ممبر نہ بن سکا۔ پچھلے ساٹھ سالوں سے اس توقع پر بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا شکار ہو رہا ہے کہ کسی طرح خودمختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے میں ابھر کر سامنے آ سکے مگر گزشتہ 60 سالوں میں لڑی جانے

Read more

کیوں کہ ساس بھی کبھی بہو تھی

بے بسی سے بے حسی کا فاصلہ طے کرنے والی ایک عورت جو بیک وقت ظالم بھی ہے اور مظلوم بھی۔ ہر عورت اپنی انا، عزت نفس کی بحالی اور نفس کی تسکین کے لئے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک ایسی ظالم عورت کا روپ دھاڑ لیتی ہے جس کی تمام خوبیوں اور خامیوں سے وہ ایک لمبے عرصے تک نفرت کرتی چلی آتی ہے۔ پاکستان جیسی اسلامی ریاست جس میں یونی پولر خاندانی نظام زندگی رائج ہے آج تباہی

Read more

افسانہ انتخاب

تمام دن سورج اپنے جوبن پر چمکنے کے بعد اب اپنی آخری پھیکی کرنیں ہر سو پھیلا رہا تھا۔ ایک اور دن اختتام پزیر تھا۔ تنہائیوں، آنسوؤں اور کرب سے بھرپور ایک اور رات زہریلی مسکراہٹ اپنے چہرے پہ سجائے بانہیں پھیلا کر اس کی منتظر تھی۔ رات اسے ہمیشہ ہی دہشت میں مبتلا کردیتی تھی۔ وہ کبھی خودپسندی کا شکار نہ ہوئی تھی رات نے تو ہمیشہ اس کی پرتوں کو کھولا تھا جس سے ساری دنیا ناآشنا تھی۔

Read more