جشن سال نو اور ازلی بے بسی

اختتامِ شام ہجراں کے انتظار میں نجانے کتنے ہی چاند بے آواز رونے میں مصروف ہیں۔ نہ جانے کتنے سورج سمندر میں آگ لگائے بیٹھے ہیں۔ مایوسی لے کے خالی ہاتھ پلٹنا کیسا تڑپا دینے والا ہے۔ اس بات کا اندازہ وہ انسان اچھی طرح کر سکتا ہے جو چائلڈ کورٹ کے سامنے بیٹھا اپنے…

Read more

نفسیاتی مریض

وہ پری چہرہ نجانے کب سے سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر سلیقے سے سجی ہوئی ان ہری چوڑیوں کو دیکھا جنھیں شیراز بڑے چاؤ سے اس کے لیے خرید کر لایا تھا۔ اس کے نکاح میں گزارے گئے حسین لمحات کسی فلم کے منظر کی طرح اس کی…

Read more

نادان لڑکی

زندگی نشیب و فراز کے ایک ایسے اندھے کنویں کے گرد گھومتی رہتی ہے جس میں خواہشات اور خوشیوں کے حصول کے لیے انسان کو اپنا وجود تو ایک بار اس کنویں کے سپرد کرنا پڑتا ہے اس کنویں کا پانی بعض لوگوں کے لئے تو آب حیات ثابت ہوتا ہے اور کچھ بدقسمت لوگ…

Read more

شبِ دید

جانتے ہو کہ کل شب پھر تم رات کے اسی آخری پہر میں خواب میں آئے تھے، جب تم سے ملاقات کی تمام امیدیں مایوسی میں ڈھل جاتی ہیں۔ تمہارا مجھے اس وقت آکر چونکا دینا میرے دل کے ہر خانے کو مسرتوں کے سرخ گلابوں سے مہکا دیتا ہے۔ جانتی ہوں یہ تاخیر میری…

Read more

افسانہ بدروح

یہ تم سے نفرت کی انتہا ہی تو ہے جو مجھے ہر وہ لڑکی جو خود سے بے نیاز آپنے خیالوں کی دنیا سجائے، ہتھیلی میں اپنا چہرہ تھامے، فضا میں موجود بادلوں سے مختلف تصویریں بناتیں رہتی ہے میں اس معصوم چہرے کے اندر چھپے بچپنے کو کھوجنے کے بجائے اس میں چھپی حرص…

Read more

محبوب کے نام ادھورا خط۔ خود کلامی

سنو میرے چاند! کل دوستوں کی محفل میں اچانک سے خوشبووُں کا تذکرہ ہونے لگا۔ یقین مانو میرے ذہن میں تمہاری خوشبو کے علاوہ کسی خوشبو کا گماں بھی نہ آیا تھا۔ میرا خوشبووُں اور خوشیوں سے معطر چہرہ تمہاری اچانک یاد آ جانے سے زرد پرچکا تھا۔ کیا تمہارے بھی ذہن میں وہ دن…

Read more

محبوبہ کے نام ایک خط

سنو جاناں! یہ جو تم خواہشات کی چادر اوڑھے ننگے پیر اس کٹھن صحرائی سفر پر نکل چکی ہو، جانے سے پہلے اپنے سے متعلقہ چند لوگوں کو اپنے سفر اور منزل کی معلومات دیتی جاوُ۔ اس تھکادینے والے سفر میں بیچ راستے سے مایوسی لے کر پلٹنا کیسا غضب ناک ہے۔ میں تو اس…

Read more

دو بستر اور ایک چادر

نومبر کی ابتدائی راتیں اپنے جوبن پر تھیں۔ عاشر رات کے اس پہر میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے راستے داخل ہونے والی مدھم چاندنی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ چاند کو پہروں تکتے رہنا اور اس کی ٹھنڈک کو اپنے وجود میں اتارنا اس کا مشغلہ تھا۔ سردیوں کی راتیں اس کا اور…

Read more

خواب اور نومبر

نبیلہ اپنا سردونوں بازوؤں میں ٹکا کر چھت پربیٹھی تھی شام کے وقت گھر کو لوٹتے پرندے۔ سورج کے غروب ہونے کے منظر۔ ہر بار اس کی آنکھوں میں جمی اداسی کو مزید گہرا کر کے اس کے جسم میں اتار دیتا تھا وہ بھی تو اس سورج کی طرح ہر گزرتے دن کے ساتھ…

Read more

محبت کا اقرار نامہ

میری بات تو سنو! اے سخن ور وجیہ مرد، نہ جانے تمہارا ساتھ نصیب ہوئے کتنے ہی دن، ہفتے، مہینے گزر گئے۔ میں ازلوں سے حساب کی کچی عورت محض باتیں بنانے کے فن سے ہی واقف ہوں۔ تمہارے آجانے کے بعد تو شاید اس میں مزید بہاؤ آگیا ہے۔ جب کوئی توجہ سے سننے…

Read more