پاکستان کی مسیحی کمیونٹی اور الٹی گنگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان حقائق کو جھٹلانا نہیں جا سکتا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتں ہمیشہ ہی حکومت کی عدم توجہ کا شکار رہی ہیں۔ اس وقت مسیحی کمیونٹی کے دو بڑے ایشوز ہیں، پہلا میرج ایکٹ اور تنسیخ نکاح اور دوسرا ایڈورڈز کالج پشاور۔ جس پر حکومت نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ کرسچن کمیونٹی تو متحرک دکھائی دیتی ہے مگر لیڈرشپ کا وہی کردار ہے کہ ہر کوئی کریڈٹ سمیٹنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ امید ہے کہ سپریم کورٹ یا پھر انصاف کی دعویدار سرکار انصاف ضرور کرے گی۔

اور یہ بھی کہ حکومت جو بلا جواز ایڈورڈز کالج پشاور پر قبضہ کرنے سے دستبردار ہو جائے گی۔ مگر وہ ایشوز جس نے مذہبی اقلیتوں کو کسمپرسی میں جھکڑ کر رکھا ہوا ہے۔ چاہے وہ عوامی ترقیاتی منصوبہ بندی ہو یا ملازمتی منصوبے ہوں، ہر شعبہ ہائے زندگی میں امتیاز نے انہیں معاشی طور پر پست رکھا ہے۔ اس امتیاز نے انہیں احساس کمتری کا شکار بنا دیا ہوا ہے۔ دارالحکومت اسلام آبادکی کچی بستیوں میں رہنے والے مسیحی جن کی تقریباً 20 ہزار تعداد ہے کے مسائل حکومت نے آج تک حل نہیں کیے۔

جے سالک ان مسیحی کچی آبادیوں اورسینٹری ورکرز کے حقوق اور فلاح کے لئے بلند و بانگ نعرے لگاتے رہے اور الیکشن میں ہمیشہ 100 فیصد ووٹ حاصل کرتے رہے ہیں اور اب بھی کبھی کبھار نمایاں نظر آتے ہیں۔ مگر ان کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔

اس کے علاوہ کئی این جی اووز اور لیڈرز بھی کوشاں دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی معاشرتی اور معاشی سٹیٹس کی تبدیلی کے لئے کسی نے بھی کوئی خاص نتیجہ خیز کوشش نہیں کی۔ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ یہ لوگ خود اپنی حالت بدلنا نہیں چاہتے۔

کسی قوم کی حالت بدلنے کے لئے 72 سال کم نہیں ہوتے۔ 72 سالوں میں بھی ان کے ماتھے پر لگا داغ ختم نہیں ہو سکا۔ جس کی وجہ سے ساری قوم کو ذہنی اذیت اٹھانا پڑتی ہے۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، پشاور یا راولپنڈی اسلام آباد میں مسیحیوں کی بڑی آبادیاں موجود ہیں۔ ان علاقوں میں مسیحی آبادی کا تیسرا حصہ آج بھی درجہ چہارم کی نوکریاں کر نے پر مجبور ہے۔ دوسری ملازمتیں نہ ملیں اور رہائشی مشکلات کی وجہ سے وہ لوگ یہ نوکریاں چھوڑنا نہیں چاہتے۔

نہ انہیں سہولتیں میسر ہیں نہ ذہنی بحالی کے کوئی منصوبے۔ یوں ان کی اولاد بھی یہی کام کرنے پر مجبور ہے۔ اور دوسرا المیہ یہ ہے کہ جس خاندان کا کوئی فردپڑھ لکھ کر اچھی پوسٹ پر آ جاتا ہے وہ خاندان کے دوسرے افراد کے لئے ترقی کا زینہ نہیں بنتا۔ یعنی چین نہیں بنتا۔ ترقی کے لئے جدوجہد کرنا انسانیت کا شیوا ہے۔ وسائل ہونا بھی ضروری ہے۔ انگزیزوں نے غریب کمیونٹی کی ترقی کے لئے کوششیں کی اور ان کے لئے ترقی کے ذرائع بھی چھوڑکر گئے مگر دولت کے پجاری جو خود کو مسیحی قوم کا پاسبان کہتے ہیں انہوں نے بھی اپنی ہی کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا۔

چاہیے یہ تعلیمی ادارے ہیں یا صحت کے شعبے۔ وہاں بھی طبقہ بندی کو ترجیح دی اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ با وسائل پاسبان مشن کی پراپرٹیز پر مزے کر رہے۔ اور کچھ قیمتی پراپرٹیاں بیچ کر بیرون ملک بھاگ گئے ہیں۔ حالانکہ اس وقت کے حاکم جنرل پرویز مشرف نے یہ قانون بنایا تھا کہ مشن کی پراپرٹی کوئی بیچ نہیں سکے گا۔ مگر یہ سلسلہ کہیں نہیں رکا۔ یو سی ایچ ہسپتال جس کی بحالی کے کوششیں کی جا رہی تھیں وہاں شوکت خانم کی صورت میں ایسٹ کمپنی آ چکی ہے۔ خدا خیر کرے اور مسیحی عوام ان کالی بھیڑیوں کا غلبہ کیسے ختم کر سکے گی۔ یہی پراپرٹیز مسیحیوں کی رہائشی ومعاشی مسائل دور کرنے کے لئے استعمال میں آتیں تو آج بہت فرق پڑچکا ہوتا۔ مگر یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •