دھرنا، کنٹینر اور عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دھرنا اور کنٹینر کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور عوام تماشا بین۔ دھرنے کی سیاست بہت پرانی ہے، برصغیر میں گاندھی جی نے بھی دھرنے دیے انگریزوں کے خلاف اس وقت کھلے آسمان کے تلے دھرنا دینے والے چوکڑی مار کر بیٹھ جاتے اور مطالبات منوا کر ہی اٹھتے۔ سیاسی، تعلیمی، سماجی، معاشرتی مسائل کو حل کروانے کے لیے دھرنے دیے گئے کامیاب بھی ہوئے اور ناکام بھی۔ پاکستان میں زیادہ تر سیاسی دھرنے اور مارچ سربراہِ مملکت، یا کسی وزیر کے استعفیٰ کے لیے مشہور ہیں۔

سنا ہے پہلا دھرنا فیروزخان نون کی انتظامیہ کے خلاف دیا گیا مطالبہ تھا اسکندر مرزا کو برطرف کیا جائے۔ اس دور کے بعد زیادہ تر دھرنے الیکشن میں دھاندلی، اور وزیراعظم کے استعفیٰ کے لیے دیے گئے اب تو دھرنوں کا چلن ہوچلا ہے۔ ہر جمہوری دور میں دھرنے نے بھی اپنا کام دکھایا اور ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان میں ہر قسم کے احتیجاج، لانگ مارچ، جلسے جلوس یا دھرنے ان سب میں سیاسی رہنماؤں کے بعد کنٹینر کا رول سب سے اہم ہے۔ راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہوں، اہم جگہوں کو محفوظ بنانا ہو، اسٹیج بنانا ہو، یا سیاسی لیڈروں کے آرام کے لیے جگہ تیار کرنی ہو کنٹینر کا استعمال عام ہے۔ ساری دنیا میں کنٹینر کو سامان کی نقل وحمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں یہ اضافی کام بھی ہورہا ہے۔ دھرنے کا انتظام الگ کنٹینر کی سجاوٹ الگ۔

عمران خان کے دھرنے سے لے کر علامہ طاہر القادری اور نواز شریف کے جی ٹی روڈ مارچ میں کنٹینر کو استعمال کیا گیا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے دھرنے میں کنٹینر ایک لمبے عرصے تک مستقل مزاجی سے کھڑا رہا اس کی پائیداری میں کوئی شک نہیں اس میں کچھ صوفے، میز کرسی بیڈ اور ٹی وی ہوا کرتا تھا بارش ہو یا آندھی عمران خان اسی کنٹینر کی مدد سے دھرنے سے خطاب کیا کرتے، ڈی جے بٹ کے گانے یا شرکاء کے نعرے سب کا جواب یہیں سے دیا۔

یہ دھرنا ملکی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا یعنی ایک سو چھبیس دن لمبا دھرنا تھا۔ اس دھرنے میں خواتین، مرد بچے سب شامل تھے اور ایک پکنک کا سماں بنا ہوا تھا۔ ڈی چوک کی مشہوری کا باعث بھی یہی دھرنا تھا۔ ایک اور دھرنا پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے دیا تھا اس میں ان کا کنٹینر بم پروف کنٹینر کے نام سے مشہور تھا اس کے اندر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کا مکمل انتظام تھا وہ کنٹینر کے اندر سے ہی خطاب کرتے تھے اور مستقل وہیں قیام پذیر تھے یعنی انھوں نے کنٹینر کے اندر دھرنا دیا ہوا تھا، جبکہ خواتین بچے اور مرد باہر موسم کی سختیاں جھیلتے ہوئے قیام پذیر تھے یہاں تک کے پارلیمنٹ ہاؤس کی دیواروں کی گرل پہ دھلے ہوئے کپڑے بھی سکھائے گئے۔

نواز شریف نے ”مجھے کیوں نکالا“ کے نعرے کو بنیاد بنا کر لانگ مارچ کیا اس کے لیے بھی کنٹینر تیار کیا گیا وہ مکمل اے سی تھا اور نواز شریف بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے خطاب کرتے تھے۔ بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے بعد کراچی آمد پر بھی کنٹینر کو ٹرک پر لاد کر سواری کا انتظام کیا گیا تھا اس میں بلٹ پروف شیشہ نصب تھس جس کے پیچھے سے بے نظیر خطاب کرتی تھیں یہ جلوس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور دہشت گردی کا شکار ہوا لیکن بے نظیر کنٹینر کے اندر ہونے کی وجہ سے محفوظ رہیں شاید یہی وجہ ہے کہ کنٹینر اتنے مقبول ہوئے۔ تحریک لبیک کا دھرنا بغیر کنٹینر کا تھا لیکن اس دھرنے نے مطالبات منوانے کے علاوہ ایک نئی ریت بھی ڈالی کہ دھرنا ختم کرکے واپس جانے والوں کو باقاعدہ خرچی بھی دی گئی بس غلط یہ ہوا کہ ایک گالی پین دی سری زبان زد عام ہوگئی۔

اس وقت ملک میں پھر دھرنے کا موسم ہے اور کنٹینر نہایت طمراق سے اسلام آباد پہنچ چکا ہے اپنے لیڈران کو لے کر۔ یہ آزادی مارچ کرتا ہوا آیا ہے پتہ نہیں بہتر سال بعد بھی آزادی کی خواہش کیا رنگ لاتی ہے لیکن مولانافضل الرحمن کا کنٹینر جس نے ملکی تاریخ کے تمام کنٹینرز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ان ایک ساتھی نے فراہم کیا ہے۔ ان کے ساتھی نے ایک ایسا کاروان گھر مہیا کیا ہے جس میں ایک گھر کی تمام سہولیات ہیں۔ اس کے اندر کی خوب صورتی کسی جہاز کی اکانومی کلاس کا منظر پیش کرتی ہے، اس کے اندر بیڈ روم باتھ روم کچن ڈرائنگ روم اور لیونگ روم جہاں صوفے لگے ہیں یہ کاروں گھر جے یو آئی کے بلوچستان کے امیر مولانا عبد الواسع کی ملکیت ہے جو جاپان سے منگوایا گیا ہے۔ یہ ہے موجودہ دھرنے کا لگژری کنٹینر جبکہ عوام کی قسمت پچھلے دھرنوں کی طرح کھلا آسمان اور سخت زمین بستر ہوگا اب دیکھیں اس کنٹینر اور دھرنے کا ساتھ کتنا لمبا ہوگا فی الحال تو یہ اسلام آباد میں براجمان ہوگیا ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ جب لکھی جائے گی تو جلسے، جلوس، بھوک ہڑتال، دھرنوں کے ساتھ ساتھ کنٹینرز کا ذکر ضرور ہوگا۔ نا جانے پاکستان کی سیاست میں یہ انقلاب، دھرنے، لانگ مارچ، آزادی مارچ کب تک رہیں گے اور کب ہم ایک مستحکم جمہوری مملکت بن پائیں گے کب ہمارے ہر قسم کے سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں طے ہوں گے کب ہم ووٹ کی عزت کر پائیں گے، کب سڑکوں پر فیصلے ختم ہوں گے لیکن ایک بات طے ہے دھرنے سیاسی عدم استحکام کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ معیشت کی نشو ونما میں رکاوٹ بنتے ہیں اور اس کے اثرات ِ بد سماجی اور اقتصادی اور سیاسی ماحول کو ہراگندہ کرتے ہیں، مہنگائی مین بے تحاشا اضافہ، افراط ِ زر کو جنم دیتے ہیں۔

سرِ منبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں

علاجِ غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں

ہمارے درد کا جالب مداوا ہو نہیں سکتا

کہ ہر قاتل کو چارہ گر سے ہم تعبیر کرتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •