تازہ دھرنے میں مذہبی کارڈ کا استعمال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جے یو آئی کا لانگ مارچ حکومت کی ناکام کارکردگی کے حوالے سے تھا مگر اسلام آباد پہنچ کر وہاں کی جانے والی تقاریر میں اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس سے ملکی فضا میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ستر 72 برسوں میں ہم نے ایک ہی کام کو بار بار ہوتے ہوئے دیکھا کہ جن کو دلائل سے شکست نہ دی جا سکے اسے مذہبی اور کرداری بنیادوں پر رسوا کر دیا جائے۔ ان طریقوں سے وقتی کامیابی تو مل جاتی ہے مگر اس کے اثرات بڑے ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ خاص طور پر سیاست کے ایوانوں میں یہ ٹرینڈ بن گیا ہے جن کے منفی نتائج کا سامنا ہم عوامی سطح پر زیادہ کرتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر عمران خان کے سیاسی انداز فکر اور پی ٹی آئی کے سیاسی رویوں کی شدید ناقد ہوں کیونکہ انہوں نے افہام و تفہیم کی سیاست کی بجائے گالی گلوج اور شور شرابہ کی سیاست کو فروغ دیا اور کارکردگی کی بجائے پرانی حکومتوں پر تنقید کو ترجیح دی۔ اور زیادہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مشرف کی مضر پالیسوں کو یہ سیاسی فرقہ کسی کھاتے میں نہیں لکھتا۔ یعنی جنرل مشرف کو استشنی حاصل ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت کو سوا سال کا عرصہ ہونے کو آیا ہے اور اس عرصے میں پی ٹی آئی کے سرمایہ داروں کے علاؤہ ہر طبقہ مسائل کا شکار ہو گیا ہے۔ غربت اور بے روزگاری کی شرح میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ غریب آدمی کے لئے زندگی گزارنا مشکل بنا دیا گیا ہے اور بیمار ہو تو مشکل ترین۔ سرکاری ہسپتالوں میں مہیا کی جانے والی سہولتیں ختم کر دی گئی ہیں۔ گھریلو بجٹ میں لگنے والی قدغن کا دفاع کرنا بھی مشکل ہے۔

حکومت وقت نعرہ لگاتی ہے ”آپ نے گھبرانا نہیں“، تو صاحب گھبرانے کی اجازت نہیں تو پھر آخری راستہ تو خود کشی کا ہی بچا ہے نہ۔ جذباتی طور پر میں مولانا سمیت اپوزیشن کی اس سوچ کے ساتھ ہوں کہ حکومت پالیساں اور اقدامات ملکی معیشت اور سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔ آپ دوسرے ممالک میں جا کر اپنی قوم کو کرپٹ بتاتے ہیں تو اس قسم کے بیانات کے بعد کون سا ملک ہے جو آپ کے ساتھ بزنس کرے گا۔

میں چونکہ خود ریگولر بنیادوں پر اشیائے خوردونوش اور دوائیں لے کر آتی ہوں اس لیے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے اچھی طرح سے واقف ہوں۔ ہر مہینے ریگولر بنیادوں پر آنے والی لسٹ محدود ہوتی جا رہی ہے ہر بار کوئی نہ کوئی چیز ڈراپ کرنی پڑتی ہے کہ اگلی بار سہی۔ سیل فون یا لیپ ٹاپ کی خرابی ایک بار ملتوی ہو جائے تو پھر وہ کام تو سمجھو مسلسل ہی التوا کا شکار ہو گیا گویا۔ اس کے علاؤہ یہ بھی کڑوی سچائی ہے کہ متوسط اور حق حلال کی کھانے والا طبقہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہر ماہ دس سے پندرہ ہزار کا مقروض ہو رہا ہے۔

موجودہ حکومت کی نااہلی کے پاکستان میں ملازمت کے مواقع ختم ہو رہے ہیں اور جو ہیں وہاں تنخواہوں کی کٹوتی کی وجہ سے کارکن مشکلات کا شکار ہیں۔ عالمی سطح پر بھی ہمیں کئی محاذوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہماری لابیز کمزور ہیں اور ہر موقع پر حکومتی سطح پر دیے جانے والے بیانات بھی جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔

ان حالات میں مولانا کے مارچ کے حمایتی ہر دوسرے طبقے میں موجود ہیں۔ تاہم سرزمین اسلام آباد میں کی جانے والی تقاریر میں میں مذہبی تڑکا لگا کر اسے مذہبی رخ دینے کی مذمت بھی شروع ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ جب عمران خان اور پی ٹی آئی یہی مذہبی کارڈ استعمال کر رہے تھے کہ تب بھی ہر دوسرے باشعور انسان نے اس فکر کی مخالفت کی تھی کہ باز آ جائیں ورنہ اسی تیر سے آپ بھی شکار کیے جائیں گے۔

اس لیے اپنے لونگ مارچ، انقلاب مارچ اور دھرنوں میں مذہبی کارڈ استعمال نہ ہونے دیا جائے اور اس سلسلے میں مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی قیادت بہت بہتر کردار ادا کر سکتی ہے۔

دوسری جانب یہ سچائی عیاں ہے کہ ہجوم کا کوئی لیڈر نہیں ہوتا تاہم مذہبی ہجوم کا لیڈر ہوتا ہے اور اگر وہی انتہائی پسندی کی جانب چلا جائے تو پھر معاملات کے بگڑنے کا کریڈٹ کس کے سر جائے گا۔ ان کے سر جنہوں نے انہیں اس انتہا کی طرف لے کر گئے یا وہ جو اسے سمجھ نہیں سکے اور کود پڑے۔

میرے مشاہدے کے مطابق اس دھرنے میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جو حکومتی نا اہلی کا شعور رکھتے ہیں دوسرے جو امیر کے حکم کے پابند ہیں اور اگر امیر بگڑ گیا؟

ہم مذہب کے نام پر بے لگام ہجوم کے ہاتھوں کئی انسانیت سوز مظاہرے دیکھ چکے ہیں اور اس پر شرمندہ بھی نہیں۔ اس لیے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں بار بار مذہبی معاملات کو اجاگر کرنا خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے کہ اگر اس دھرنے میں سیاسی معاملات میں ناکامی پر اسے مکمل طور پر مذہبی رنگ دے دیا گیا تو اس کے نتائج یقیناً پاکستان کی قومی سالمیت کے لیے انتہائی خطرناک ہوں گے۔

1977 میں بھی سیاسی ریلی مذہبی کارڈ استعمال کر کے ملک کو کئی سال پیچھے لے گئی تھی جس نے نہ صرف پاکستان کے سیاسی منظرنامے بلکہ سماجی ڈھانچے کو بری طرح تباہ و برباد کر دیا تھا۔ 1980 کی سیاست، مذہبی اور جہادی تنظیموں کے مفادات کی ایسی کہانی ہے جس میں کی گئی کاشت کاری کے ثمرات ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ خدارا مولانا اور اپوزیشں کو اس انتہا پسندی کی جانب جانے سے روکیں ورنہ کل کو ہم پاکستان کے مستقبل کے بارے میں بات کرنے کے لیے نہیں ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •