آزادی مارچ اور فوج: صرف تردید ہی کافی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے ساتویں روز اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے احتجاج جاری رکھنے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ رہبر کمیٹی کے سربراہ اور جمیعت علمائے اسلام کے رہنما اکرم درانی نے آج رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد متنبہ کیا کہ دو روز بعد آزادی مارچ نیا موڑ اختیار کرے گا۔ تاہم اپوزیشن نے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔

اس دوران پاک فوج کے ترجمان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں آزادی مارچ کو سیاسی سرگرمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے فوج کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ فوج ملکی دفاع کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے اور اس کے پاس سیاسی معاملات میں مداخلت کا وقت نہیں ہے۔ اور نہ ہی ہمارے پاس ان الزامات کا جواب دینے کے لئے وقت ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فوج کو انتخابات کی نگرانی کا شوق نہیں ہے تاہم جب حکومت فوج کو کوئی ذمہ داری سونپتی ہے تو وہ آئینی طور پر اسے پورا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ اگر فوج کو انتخابات کی نگرانی کے لئے طلب نہیں کیا جائے گا تو وہ اس عمل میں حصہ نہیں لے گی۔

میجر جنرل آصف غفور نے آزادی مارچ کو سیاسی سرگرمی قرار دیتے ہوئے اس میں فوج کے ہمہ قسم کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نمٹنا حکومت کا کام ہے۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے 2014 کے دھرنے کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ فوج نے اس وقت بھی مداخلت نہیں کی تھی بلکہ حکومت کی درخواست پر اہم عمارتوں کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ پاک فوج کے ترجمان کی وضاحت کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ فوج موجودہ صورت حال میں مزید متنازعہ نہیں ہونا چاہتی اور ملک کے سیاست دانوں سے توقع کرتی ہے کہ وہ خود ہی باہمی اختلافات میں سے اتفاق رائے کا راستہ نکالیں۔

یہ ایک مثبت رویہ ہے جو ملکی سیاست اور فوج کے کردارکے حوالے سے ایک نئے عہد کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے۔ اس گفتگو کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ فوج صرف حکومت کے کہنے پرکسی سول یا سیاسی معاملے میں ملوث ہوتی ہے، بصورت دیگر فوج آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور اسی کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری پورا کرنا چاہتی ہے۔

دیکھا جائے تو میجر جنرل آصف غفور نے اس انٹرویو میں وہی باتیں کہی ہیں جو مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہتے رہے ہیں کہ فوج کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے اور ملک میں حکومت سازی کے معاملات یا انتخابات کے انعقاد جیسے معاملات میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ اس حد تک اتفاق ہونے کے باوجود بڑی الجھن یہ ہے کہ پاک فوج کا وضاحتی بیان موجودہ سیاسی تصادم میں فوج کی حکمت عملی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اسی طرح ماضی کے دھرنوں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت وقت کے ’حکم‘ پر عمل کرنے کا حوالہ بھی حقائق کی مکمل اور درست تصویر سامنے نہیں لاتا۔ پاک فوج کے ترجمان کے لئے بہتر ہوتا کہ وہ ماضی کا حوالہ دینے کی بجائے موجودہ صورت حال پر فوج کی پوزیشن واضح کرنے تک محدود رہتے۔

ماضی کا ذکر کرتے ہوئے صرف 2014 کے دھرنے کی بات ہی نہیں ہوگی بلکہ 2016 کے فیض آباد دھرنا کا حوالہ بھی آئے گا اور اس بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سے رجوع کرنے کے علاوہ یہ بھی جاننا پڑے گا کہ جس جج نے فیض آباد دھرنے میں مداخلت کرنے والے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا، اب اسے ایک صدارتی ریفرنس کا سامنا ہے جس کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل ان کی برطرفی کا حکم بھی صادر کرسکتی ہے۔ یہ ایک طویل اور پیچیدہ بحث ہے۔

اس میں صرف فوج ہی سے غلطیاں سرزد نہیں ہوئیں بلکہ ان سیاسی عناصر نے بھی ملکی نظام کے حوالے سے آئین کی روح کے منافی کردار ادا کیا ہے جنہوں نے سیاسی اقتدار کے لئے فوج کی اعانت قبول کرنے کی کوشش کی یا سیاسی فیصلوں میں عسکری قیادت کی حکمت عملی کے نمائیندے بن کر ملک میں حکومت بنانے اور گرانے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

موجودہ حکومت پر گو کہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے برسر اقتدار آنے کا الزام لگایا جاتا ہے تاہم اگر اس الزام کی تفصیل میں جانے کی کوشش کی جائے گی تو سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ دھاندلی صرف 25 جولائی 2018 کو پولنگ والے دن ہی نہیں ہوئی تھی بلکہ اس دن ایک خاص نوعیت کے نتائج حاصل کرنے کے لئے نت نوع ہتھکنڈے اختیا رکئے گئے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں اکثریت حاصل نہ کرسکے، عدالتی نظام سے لے کر خلائی مخلوق یا محکمہ زراعت سے موسوم ریاستی اداروں نے ایسے حالات پیداکیے کہ ایک خاص جماعت ناکام ہو تو ایک محبوب جماعت کامیاب و سرخرو ٹھہرے۔

تحریک انصاف کسی مداخلت کے بغیر بھی انتخابات میں قابل ذکر کامیابی حاصل کرسکتی تھی لیکن اس کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے انتخابات سے پہلے اور بعد میں برتے جانے والے ہتھکنڈوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حقیقت جاننے کے لئے سیاسی یا تاریخی علوم کا ماہر ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ نام نہاد ’الیکٹ ایبلز‘ کون ہیں اور وہ کیوں عین انتخابات سے پہلے وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ یا اگر وہ آزاد امید وار کے طور پر کامیاب ہوں تو اسی پارٹی کی طرف رجوع کرلیتے ہیں جس کے سر پر ہما کے بیٹھنے کا اشارہ دیا جاتا ہے۔

عمران خان انتخابات سے پہلے اپنی پارٹی میں دھڑا دھڑ ’الیکٹ ایبلز‘ کی شمولیت کے بغیر پونے دو کروڑ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے تھے۔ جب ان بارسوخ اور ہمہ وقت قومی مفاد کے لئے پارٹیاں تبدیل کرنے والے سیاسی خانوادوں کی شمولیت کے باوجود مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کو مطلوبہ تعداد میں نشستیں حاصل نہ ہوسکیں تو آزاد ارکان اور اسٹیبلشمنٹ نواز چھوٹی پارٹیوں کو ہانک کر عمران خان کو وزیر اعظم بنوایا گیا۔

پنجاب میں تحریک انصاف کا وزیر اعلیٰ لانے کے لئے بھی یہی کھیل کھیلا گیا تھا۔ یہ بحث اپنی جگہ ملکی سیاسی انتظام اور جمہوریت کے فروغ کے حوالے سے اہم رہے گی کہ سیاسی پارٹیاں کیوں خانوادوں اور برادریوں یعنی الیکٹ ایبلز کی بنیاد پر سیاست کرتی ہیں اور سیاسی جماعتوں میں جمہوری طریقہ کیوں متعارف نہیں ہو پاتا۔ لیکن انتخابی سرکس کو ایک خاص ڈھب سے کسی خاص گروہ یا شخص کو اقتدار دلوانے کے لئے استعمال کرنے کے کھیل میں مقتدر حلقوں کی دلچسپی اور مہارت کا استعمال دراصل اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کا بنیادی نکتہ ہے۔ اسے ہی دراصل انتخابی دھاندلی کہا اور سمجھا بھی جارہا ہے۔

اس پس منظر میں پاک فوج کے ترجمان کی یہ وضاحت اگرچہ مثبت اور خوش آئیند ہے کہ فوج موجودہ احتجاج کو سیاسی معاملہ سمجھتی ہے اور حکومت کو ہی اس سے نمٹنا ہوگا لیکن اس کے ساتھ ہی ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے حکم پر ’مداخلت‘ کا اشارہ مسلسل خطرے کی گھنٹی بنا رہے گا۔ آزادی مارچ کے شرکا اور قیادت نے بہت ہوشیاری سے اپنے احتجاج کو پرامن رکھ کر اور ہر قسم کے اشتعال سے دور رہ کر مثبت اور تعمیری سیاسی کردار ادا کیا ہے لیکن ایک بڑے ہجوم کا موڈ تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی۔ بعض اوقات ایسی صورت حال بھی پیدا ہوجاتی ہے کہ قیادت کو اپنی حکمت عملی ترک کرکے اجتماع کی بات کو ماننا پڑتا ہے۔

حکومت کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ابھی بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کا موقع ہے۔ متعدد مبصرین اس حوالے سے ان امور کا تفصیل سے ذکر کرچکے ہیں جن پر پیش رفت کے ذریعے حکومت اپوزیشن کے احتجاج کو ختم کروانے کا اہتمام کرسکتی ہے۔ تاہم اس کے لئے ’مظاہرین کو تھکا دینے‘ کی حکمت عملی دراصل حکومت کی ناکامی ہوگی۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ امن و امان کی افسوسناک صورت حال پیدا ہوجائے۔ یا قائدین مظاہرین کو منتشر ہونے کی ہدایت کردیں لیکن موجودہ حکومت کی سیاسی اتھارٹی کو لاحق چیلنج موجود رہے گا۔

فوج کے ترجمان کی یہ بات درست ہے کہ حکومت کو یہ معاملہ سیاسی طور سے حل کرنا چاہیے لیکن فوج کو یہ یقین بھی دلانا چاہیے کہ ماضی میں ملکی سیاست کی سمت متعین کرنے کے لئے جو طریقے اختیارکیے جاتے رہے ہیں، اب انہیں ترک کردیا جائے گا۔ اگر یہ پیغام خفیہ طور سے ملاقات کرنے والے سیاست دانوں کو ہی دے دیا جائے تو ملک میں اداروں کے سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں شک و شبہ کی گہری دھند چھٹ سکتی ہے۔ پھر مختلف فیصلوں میں کسی پراسرار خفیہ قوت کی مداخلت کا تاثر از خود ختم ہوناشروع ہوجائے گا۔

اس وقت نیب ہو یا عدالتیں، ان کے فیصلوں کو نہ تو خود مختار مانا جاتا ہے اور نہ ہی ان سے حالات سازگار ہونے میں مدد مل رہی ہے۔ فوج جب سیاسی معاملات سے مکمل دست برداری کا اشارہ دے گی تو خفیہ راستوں اور طریقوں سے رابطے کرنے والے خود ہی مایوس ہوجائیں گے اور یہ قیاس آرائیاں بھی دم توڑنے لگیں گی کہ کون کس ادارے کا چہیتا یا نمائیندہ ہے۔

اب وقت ہے کہ عمران خان بھی براہ راست قوم سے خطاب کریں اور اپنی حکومت کے خلاف سیاسی ناراضگی کو دور کرنے کے لئے سنجیدہ اور ٹھوس تجاویز سامنے لائیں۔ اس کے بعد پارلیمنٹ میں اسی بہادری سے اپنے سیاسی مخالفین کی تنقید کا سامنا کریں جس کا مظاہرہ ان کی محبوب برطانوی پارلیمنٹ میں گزشتہ دو برس سے بریکسٹ کے سوال پر ہوتا رہا ہے۔ جمہوری نظام میں آوازیں دبا کر مسائل حل کرنے کی روایت موجود نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1318 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali