اپنے مذاکراتیوں کے ہاتھوں غوطے کھاتا کپتان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزادی مارچ بارے سنا بہت کچھ تھا ۔ کہاں سے حمایت حاصل ہے ۔ کس نے منصوبہ بنایا کون گارنٹر ہے ۔ یقین ان باتوں پر بالکل بھی نہیں تھا ۔ سکون سے مولانا کی آنی جانیوں بارے خبروں کو ہی دیکھتے رہے تھے ہم لوگ۔

مولانا نے آزادی مارچ شروع کرنے سے پہلے بہت سی مشکلات پر قابو پایا ۔ پہلا مسلہ تو اپنی ہی جماعت میں اپنے ساتھیوں کو آمادہ اور تیار کرنا تھا کہ آزادی مارچ کرنا ہے۔ یہ کیوں ضروری ہے ، اس کا فائدہ کیا ہو گا ۔ نہ کیا تو نقصان کیا ہو گا۔

جے یو آئی ہمارے ملک کا ایک اہم سیاسی ادارہ ہے۔ ہم مولانا کی بھاری بھرکم شخصیت سے آگے بڑھتے ہی نہیں ۔ یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ جے یو آئی ہے  کیا ؟ دیوبند مکتبہ فکر کا سیاست میں سرگرم اور سب سے کامیاب آؤٹ لیٹ۔

ایک ایسی مذہبی جماعت جس کا اپنا اندرونی نظام نہایت جمہوری ہے۔ جہاں اکثر اوقات کسی تحصیل کا جنرل سیکرٹری یا صدر اپنے صوبائی امیر سے بھی زیادہ وزن اور اہمیت رکھتا ہے۔ جہاں بغیر عہدوں بلکہ ممبر شپ تک کے بغیر بہت سی دینی مذہبی شخصیات فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔

انصار الاسلام میں بطور کارکن ڈیوٹی کرتا کوئی نوجوان اس مکتبہ فکر سے منسلک اپنے خاندان کی چوتھی نسل کا نمائندہ بھی ہو سکتا ہے۔ کسی عالم دین کا پوتا کسی کا بیٹا۔

یہ کارکن جب کوئی سوال کرتا ہے ۔ تو مولانا ہی جانتے ہیں کہ ان کا جواب کہاں تک جائے گا۔ یہ ان کے اپنے فالورز میں کیسے لیا جائے گا۔ یہی کارکن جب گھر جا کر ہاں سہ وئی َ کیا کہتا ہے ؟ کا جواب دے گا تو گھر سے ملی حمایت مخالفت بہت کچھ طے کرے گی۔

مولانا کو اپنی پارٹی کے اندرونی نظام کو ایکٹیویٹ کرتے پورا سال لگا۔ پندرہ ملین مارچ تنظیم سازی۔ اس سے پہلے اک لمبا تھاٹ پراسیس اور جوابدہی کا مرحلہ ۔ آخر میں جا کر کہیں یکسوئی میں ڈھلا۔

پاکستان بھر سے کارکن کہانیاں لیکر آئے ہیں۔ اس مارچ میں شمولیت کے لیے لوگوں نے اپنی خاندانی تقریبات کو ملتوی کیا ہے، یا ان میں جلدی کی ہے۔ اب وہ یہاں پہنچ کر بیٹھے ہیں ۔ پارٹی تنظیم مسلسل اجلاس کرتی ہے۔ صورتحال کا جائزہ لیتی ہے ۔ اپنے کارکنوں کو آگاہ رکھتی ہے۔

جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ مولانا اپنے کارکنوں کو حکومت سے لڑائیں گے۔ وہ بہت ہی غلط سوچ کر بیٹھا ہے۔ جیسی یہ جماعت ہے اس کے کسی بھی سربراہ کو اپنا کارکن بہت ہی پیارا ہوگا۔ مولانا اپنے کسی کارکن پر لاٹھی تک نہیں اٹھنے دیں گے۔

امید یہی ہے کہ وہ ڈی چوک نہیں جائیں گے ۔ کوئی ایسی صورتحال نہیں پیدا ہونے دیں گے جس کا نتیجہ تصادم ہو۔

اس ساری تمہید کا مقصد صرف اتنا تھا کہ معلوم ہو سکے کہ مولانا نے اپنا ہوم ورک کر رکھا ہے۔ انہوں نے خود پر پڑنے والے آخری پریشر کا بھی پہلے اندازہ لگا کر اسے غیر موثر کیا۔ اہم سفیر مولانا سے مل چکے اور وہ غیر جانبدار ہی رہیں گے۔

اب جو ہے وہ سب آپس میں ہے۔ مذاکرات ہیں سیاسی حربے ہیں۔ میڈیا ہے ، ادارے ہیں۔

میڈیا کے محاذ پر مولانا کامیاب رہے ہیں۔ جب ڈی جی آئی ایس پی آر ٹی وی پر بیان دے رہے تھے کہ اس آزادی مارچ احتجاج سے بیرون ملک کیا میسج جائے گا یہ مولانا کو خود دیکھنا چاہئے۔ مولانا کو ہی اگر یہ دیکھنا ہے تو وہ سو میں ہزار نمبر لیکر پاس ہیں۔

انٹرنیشنل میڈیا زیادہ تر مولانا کو بطور ایک سیاستدان ڈسکس کر رہا ہے۔ ان کا مذہبی حوالہ کم کم دیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج کو فارن پالیسی نے بھی اکانومی سے ہی جوڑ کر دکھایا ہے۔

مولانا اگلے مرحلے میں بہت طریقے اور حکمت عملی کے ساتھ اداروں کو نیوٹرل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ کبھی یہ بتاتے ہیں کہ آپ ہمارے اپنے ہیں ، ساتھ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ہم بھی آپ کے اپنے ہی ہیں۔ گلہ بھی اپنوں سے ہی ہوتا ہے۔

مولانا نیا الیکشن چاہتے ہیں کپتان کا استعفی چاہتے ہیں۔ جے یو آئی کا چہرہ بدل کر اسے زیادہ جمہوری کرنا چاہتےہیں۔ اس کی پاکستان میں بیس وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پیشقدمی کرتے آگے بڑھے ہیں۔ اپوزیشن کو ایک بڑا ریلیف دلوا چکے ہیں ، تاجروں کو بھی ریلیف ملا ہے۔ اب اگر وہ اپنا حتمی مقصد کپتان کا استعفی حاصل نہیں کر پاتے تو ان کی واپسی یا پسپائی کا طریقہ کار دیکھنے والا ہو گا۔

اس کے بعد پینترا بدل کر حکومت کو دوبارہ ٹارگٹ کرنے کا عمل شروع کرنا، ایسا ہوتے دیکھنا ، طاقت کے کھیل سے دلچسپی رکھنے والے ہر فرد کے لیے یادگار رہے گا ۔ یادگار اس لیے کہ ہم پاکستانی سیاست کے ایک ہوشیار ترین ذہن کو اپنے آنکھوں کے سامنے سرگرم دیکھ رہے ہیں۔

آپ اگر میری طرح جے یو آئی سے تعلق نہیں بھی رکھتے ۔ تو بھی ایک گہرا سانس لیں ۔ خود کو بتائیں کہ یہ بھی ہماری پارٹی ہے ۔ مولانا بھی ہمارے پاکستانی خاندان کے ایک بڑے ہیں۔ جو دوسرے بڑوں سے حساب کتاب کرنے بیٹھے ہیں۔ حساب کتاب تو ہم گھرو گھری ایسے ہی کرتے ہیں ، اس میں ڈانگ پھرتی ہے ،جوتا چلتا ہے ، سر کھلتے ہیں ۔ اخے پیار میں پہلے پریمی جھگڑا کرتے ہیں ،مگر پھر آہیں بھرتے ہیں، اک دوجے پر مرتے ہیں ۔

اس بچے کی طرح سوچیں جس کے چاچے مامے لڑ پڑے ہوں۔ وہ بیٹھا دیکھ رہا ہو کہ کون کس کو کیسے کٹ رہا۔

آپ اب تک رج کے بور ہو چکے ہیں تو ایک بات بتاؤں ؟ مولانا کے ایک قریبی ساتھی سے پوچھا کہ یہ مذاکراتی ٹیم جب آتی ہے تو کیا  کہتی ہے۔ اس نے کہا چھوڑ یہ بات کے آتی ہے تو کیا کہتی ہے۔ جاتی ہے تو کان میں کہتی ہے کہ راغلے اے نو اس چہ لاڑ نہ شے پریدا چے لگ زئے تہ راشی۔ آ گئے ہو تو اب جانا نہیں ، اچھا ہے کہ ذرا عقل ٹھکانے آ جائے اس کی۔

قسمے اس بات کو مذاق ہی سمجھا تھا۔ پھر کان لمبا کر کے مولانا اور پرویز الہی کی گپ شپ سن لی (اصل میں کسی نے بتا دی)۔ مولانا نے پوچھا کہ کیا کہتا ہے کمبخت۔ تو جواب ملا کیا کہنا ہے اس کو تو ابھی تک یہی نہیں بتایا اس کے لوگوں نے کہ مولانا تمھارا استعفی لینے آئے ہیں۔ وہ تو سن کر حیران ہو گیا کہ اچھا واقعی؟

جس وزیراعظم کے مذاکراتی ایسے ہوں ۔ وہ انشااللہ وہاں بھی غوطےکھائے گا جہاں پانی ہی نہ ہو ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 368 posts and counting.See all posts by wisi