میر حسن کی لاڑکانہ میں موت اور فیض کی دو نظمیں


فیض کی مشہورِ زمانہ نظم لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، کبھی ہم لہک لہک کر پڑھتے تھے اور ترنگ میں آ کر گا بھی لیتے تھے اس پر ثریا متانیکر کی جادو بھری آواز اور طلسم کہ وجود کو باندھ دیتا تھا پھر وقت پر لگا کر اڑا اور کسی شہبازِ لاہوتی کی طرح نظروں سے ایسے اوجھل ہوا کہ اس کے فرشتوں کے پروں سی پھڑپھڑاہٹ بھی نہیں سنائی دیتی۔ جب ثریا ملتانیکر اپنے وجود کو اپنی آواز میں سمیٹ کر کہتیں کہ اور اہلِ حکَم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی تو یوں لگتا ابھی آسمان سے بجلی کا کوندا لپکے گا اور اہل حکَم کے سر پر واقعی کڑکے گا اور ہر شے کو خس و خاشاک کرتا آگے بڑھ جائے گا۔ ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے دوست کہتے

جب ارضِ خدا کے کعبہ سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہلِ صفا مردودِ حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

تو فیض کی یہ نظم ہم نوجوانوں کا ایک نوع کا قومی ترانہ بن جاتا اور جب بھی کوئی تقریب ہوتی اور ہم اس تقریب میں مصروف بلکہ منہمک ہوتے تو ہمارے جونئیرز ہمیں رشک بھری نظروں سے دیکھتے اور ہم بھی دل ہی دل میں اور کبھی اونچی آواز میں درسگاہ کی راہداریوں میں شاداں و فرحاں پڑھتے

اٹھے گا انالحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اور راج کرے گی خلقِ خدا

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

پھر رشکِ چمن ٹولیوں پر ستم ٹوٹا اور بجلی کڑکی بھی تو ہم پر اور مردودِ حرم ٹھہرائے بھی گئے تو ہم ہی۔ نہ ہم نے لوحِ ازل دیکھی جہاں یہ سب ہمارے لیے مرقوم تھا اور نہ اصل میں تخت گرنے کے منظر دیکھے۔ البتہ باغ و بہار گلیوں میں ہو کا عالم دیکھا سمندر کا مدو جزر فنا ہوا دریاٶں کے سوتے خشک ہوئے اور نہروں سے بھل صفائی کی مہم جاری ہوئی۔ صوتِ ہزار کا موسم جیسے کُلّی طور پر روٹھ گیا۔

وقت کب رکتا ہے مگر شاید رک جاتا ہے جب ہم رک جاتے ہیں جب کوہِ گراں کی جگہ روئی اور روئی دھننے والا ہوا میں باریک ذروں کی طرح اُڑتا ہے تب وقت رکتا نہیں جامد ہو جاتا ہے۔ یوں تو اس کی رفتار ازلی و ابدی ہے مگر اس کا اصل تعلق احساس سے جڑتا ہے جب گٹر ابلنے لگیں اور کوچہ و بازار میں تعفن پھیلا پڑا ہو تب وقت چلے یا رکے کسی کی بلا سے۔ جب چہار دانگ عالم میں ہم کسی اور نام سے بلائے جانے لگیں اور جب ہمارے نام تبدیل کر دیے جائیں تب وقت کی رفتار کا پتہ نہیں چلتا کہ رتیں بدل گئی ہیں اور چڑیوں کی چہکار بارود کی بو میں دب گئی ہے اور ثریا ملتانکر کے ساتھ ٹینا ثانی کی آواز بھی بے ہنگم شور و غوغا میں گم ہو گئی ہے۔ اور لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے والی نظم شاید اپنے دائمی جادو سے محروم ہو گئی ہے۔

رُت نے ایک اور کروٹ لی مگر یہ کروٹ کسی ابر آلود صبح کی نوید لے کر نہیں آئی ہے بلکہ یہ صحرا میں سرخ اور گرم ریت اڑانے والی دوپہر کی علامت بن کر ظاہر ہو رہی ہے۔ حور بی بی کتنا خوبصورت نام ہے اور ایک خوبصورت اور عظیم عورت کے نام سے موسوم بے نظیر آباد شہر میں کتے کے کاٹنے سے ہلاک ہو گئی ہے یوں امسال کتے کے کاٹنے سے اموات کی تعداد پچیس تک پہنچ گئی ہے مگر اس گرم ریت اڑانے والی دوپہر میں اسی عظیم خاتون کے آبائی ضلع میں موت کی حکایت اور دراز ہے مگر لذیذ نہیں اور منہ کا ذائقہ کڑوا کسیلا کرنے کے لیے کافی ہے۔

میر حسن کی عمر دس سال تھی وہی دس سال جو ہمارے عوامی حکمران اپنی اپنی باری میں صرف کر چکے ہیں۔ میر حسن سڑک کنارے ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر ایک عالمِ بے بسی میں جان کی بازی ہارا۔ بزرجمہرانِ اشرافیہ کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹنے سے بچاٶ کی ویکسین پورے ملک میں کہیں دستیاب نہیں۔ میر حسن کا نقاہت سے مارا ہوا جسم اور اس کی ماں کا غربت اور محرومی سے مارا ہوا چہرہ اسی گرم ریت بھری دوپہر میں ایک سا ہو گیا ہے۔ میر حسن نے تو نہ فیض کا نام سنا ہے اور نہ ثریا ملتانیکر کی آواز میں وہ نظم جو کبھی ہم لہک لہک کر پڑھتے تھے کہ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے مگر فیض نے میر حسن کو دیکھا ہوا تھا اس کی ماں کو بھی، مجھے بھی اور آپ کو بھی بلکہ ان کتوں کو بھی دیکھا ہوا تھا جو میر حسن کی موت کا سبب بنے۔ یہ کتے فیض کی اس کتاب میں شامل ہیں جو آج سے اسی سال پہلے شائع ہوئی تھی اور ان کتوں کا نوشتہِ تقدیر ہے کیا؟

یہ گلیوں کے بیکار آوارہ کتے

کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی

زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا

جہاں بھر کی دھتکار جن کی کمائی

مگر تان ان کتوں کی بھی فیض نے خلقِ خدا پر ہی توڑی ہے جس نے بجلی کڑ کڑ کڑکنے کا منظر دیکھنا ہے۔ نہ فیض ہے اور نہ ثریا ملتانیکر البتہ خلقِ خدا کے لئے کھلے چھوڑے ہوئے کتے ضرور ہیں۔ یہ نظمیں گانے اور پڑھنے والے نہ بھی رہیں تو فیض کی یہ نظمیں کالم کا پیٹ تو بھر سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS