میر حسن کی لاڑکانہ میں موت اور فیض کی دو نظمیں

فیض کی مشہورِ زمانہ نظم لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، کبھی ہم لہک لہک کر پڑھتے تھے اور ترنگ میں آ کر گا بھی لیتے تھے اس پر ثریا متانیکر کی جادو بھری آواز اور طلسم کہ وجود کو باندھ دیتا تھا پھر وقت پر لگا کر اڑا اور کسی شہبازِ لاہوتی کی…

Read more

گرو ارجن، ماٹی چینل اور کہروڑ پکا کا چاول پر نام لکھنے والا

شہیدی استھان کے اندر داخل ہونے کے لیے چرن دھون کی رسم ضروری تھا سو وہیں لگے ایک نل کے ذریعے ہم نے پاٶں دھوٸے۔ تب گاٸیڈ حنین نے کہا اب آپ شہیدی استھان کے اندر داخل ہونے کے اہل ہیں۔ تب سردار کنور سنگھ نے ہمیں رمالہ اور سروپا سے نوازا۔ رمالہ ایک لال…

Read more

ایک بات پوچھوں، مارو گے تو نہیں ہود بھائی کو؟

ہود بھاٸی کے بیان یا لیکچر کی اتنی ہی اہمیت تھی کہ یہ دو دنوں کی بحث کا ہی سارا سامان تھا اور دیکھتے دیکھتے ساری گرد بیٹھ بھی گٸی۔ ہود بھاٸی کا اقبال سے موازنہ ہے ہی نہیں۔ جیسے اقبال کا میدان ساٸنس نہیں ہے ایسے ہی ہود بھاٸی شاعری سے متعلق نہیں ہیں۔…

Read more

لاہور شہر میں کبھی مجسمے ہوا کرتے تھے

یہ باغوں اور درسگاہوں کا شہر اب زبوں حالی کا شکار ہے۔ کبھی سڑکیں کشادہ صاف اور ہوادار ہوا کرتی تھیں۔ شہر اور شہروں کی خاص وجہِ شہرت یونہی نہیں بن جاتی یہ نصف صدی سے بھی زیادہ کا قصہ ہوتا ہے اور بسا اوقات صدیاں لگ جاتی ہیں ایک شہر کو ایک خاص نہج…

Read more