میں ادبی مختارا ہوں

مختارا بالاخر منظر عام پر آ گیا ہے اور اپنے مربی کے ساتھ ایک سرسبز لان میں خوش باش دیکھا گیا ہے اور اس نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اس نے دی گئی مغلظات کو محبت سمجھا اور تبرک جان کر حرز جان بنایا ہے اور یہ کہ اس نے محبت بھری دشنام کو سینے سے لگایا ہے اور یہ بھی کہ اکیس دن کے آئسولیشن کے بعد وہ کافی مطمئن ہے اور حافظ آباد میں بیوی بچوں

Read more

افسر ساجد کی سات کتابیں سات حیرتیں

دیکھنے والے کے لیے یہ دنیا ایک نگار خانہ ہے جہاں پلک جھپکنے کی دیر ہوتی ہے کہ سامنے والا لینڈ سکیپ تبدیل ہو جاتا ہے۔ جیسے Heraclitus نے کہا تھا تم اسی دریا میں دوبارہ پاٶں نہیں رکھ سکتے کہ نہ وہ دریا ہوتا ہے اور نہ تم وہ ہوتے ہو مگر حیرت کا مقام ہے کہ شاعری شاعری ہی رہتی ہے اور آپ اس میں بار بار پاٶں رکھ سکتے ہیں اور شاعری کا دریا آپ کو ساتھ

Read more

ادبی مجلّہ ’لوح‘ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے ’راوی‘ کا ہی دوسرا روپ ہے

ممتاز شیخ ادبی دنیا میں منفرد صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ انہیں نہ ستائش کی تمنا ہے اور نہ صلے کی پروا۔ گورنمنٹ کالج سے عشق اس پہ مستزاد ہے۔ وہ اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے روحِ رواں ہیں۔ اسی تنظیم کے زیرِ انتظام فقیدالمثال سالانہ مشاعرے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس کالج اور اب یونیورسٹی میں جو گیا اسی کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ اور ہو بھی کیوں نہ کہ سونا کندن

Read more

پٹڑی چمک رہی تھی

اٹلس سامنے ہے جس کے سات بّرِاعظموں کے ممالک جال در جال پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ بّرِ اعظم منجمد شمالی ہے یہ بّرِ اعظم جنوبی ہے۔ یہ بّرِ اعظم یورپ ہے۔ یہ سات سمندر ہیں یہ بحر الکاہل ہے یہ بحر اوقیانوس ہے یہ دیوی گائیا اور دیوتا یورنیس کی اولاد ہے۔ یہ دنیا کا دوسرا بڑا سمندر ہے یونانی اسطور میں یہ اطلس کا بیٹا ہے۔ یہ بّرِ اعظم ایشیا ہے دنیا کا سب سے بڑا بّرِاعظم۔ یہ بحر

Read more

افتخار عارف کی ’کتابِ دل و دنیا‘ ہی اصل دنیا ہے

افتخار عارف پر یہ حقیقت بہت پہلے واضح ہو گئی تھی کہ ع: ۔ ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے ’ کتابِ دل و دنیا‘ کو اگر مملکتِ شعر مان کر اس کے دستور کو پڑھنا ہو تو یہی مذکورہ بالا شعر قرار دادِ مقاصد قرار پاتا ہے۔ اور اس قرار دادِ مقاصد کو دستورِ شاعری کے دیباچے یا پہلے تعارف کی حیثیت حاصل ہو جاتی

Read more

سائرہ اور مائرہ صرف الحمرا کی چار دیواری میں محفوظ ہیں

فیض تہوار میں ڈرامہ شروع ہونے سے ذرا پہلے ہال میں بلھے شاہ کی کافی چینڑاں ایں چھڑیندا یار چل رہی تھی سو ڈرامے سے پہلے ہی ڈرامے کی معنویت پرت در پرت کھلتی چلی گئی اور اس مزاحمتی تھیٹر کے اغراض و مقاصد کا مفہوم بھی واضح ہوتا چلا گیا۔ یہ کافی پٹھانے خان نے گا کر خود کو بھی امر کر دیا اور اس کافی کو بھی مگر اس کافی کا جو مطلب ڈرامہ سائرہ اور مائرہ دیکھنے

Read more

پنجابی زبان اور اس سے ہمارا نہ ختم ہونے والا رومانس

ہم پیدا ہوئے پنجاب میں، تعلیم ہم نے حاصل کی اردو زبان میں، داخلہ لیا ایم اے انگلش میں اور ماں سے بچپن سے لے کر ان کی سوگوار موت تک بات کی صرف اور صرف پنجابی زبان میں یہ تو پھر یہ کیا برمودا مثلث ہے جو صرف ہم پنج پانیوں کے واسیوں کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ کوئی سوجھوان اس بجھارت کا تشفی آمیز جواب نہیں دے سکا بلکہ کسی نے اس سوال کی نوعیت کو سمجھا

Read more

میر حسن کی لاڑکانہ میں موت اور فیض کی دو نظمیں

فیض کی مشہورِ زمانہ نظم لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، کبھی ہم لہک لہک کر پڑھتے تھے اور ترنگ میں آ کر گا بھی لیتے تھے اس پر ثریا متانیکر کی جادو بھری آواز اور طلسم کہ وجود کو باندھ دیتا تھا پھر وقت پر لگا کر اڑا اور کسی شہبازِ لاہوتی کی طرح نظروں سے ایسے اوجھل ہوا کہ اس کے فرشتوں کے پروں سی پھڑپھڑاہٹ بھی نہیں سنائی دیتی۔ جب ثریا ملتانیکر اپنے وجود کو اپنی

Read more

گرو ارجن، ماٹی چینل اور کہروڑ پکا کا چاول پر نام لکھنے والا

شہیدی استھان کے اندر داخل ہونے کے لیے چرن دھون کی رسم ضروری تھا سو وہیں لگے ایک نل کے ذریعے ہم نے پاٶں دھوٸے۔ تب گاٸیڈ حنین نے کہا اب آپ شہیدی استھان کے اندر داخل ہونے کے اہل ہیں۔ تب سردار کنور سنگھ نے ہمیں رمالہ اور سروپا سے نوازا۔ رمالہ ایک لال رنگ کا رومال تھا جو سر پر باندھنا تھا اور سروپا ایک چادر تھی جو استھان کے اندر جانے والوں کو محبت کے طور پر

Read more

ایک بات پوچھوں، مارو گے تو نہیں ہود بھائی کو؟

ہود بھاٸی کے بیان یا لیکچر کی اتنی ہی اہمیت تھی کہ یہ دو دنوں کی بحث کا ہی سارا سامان تھا اور دیکھتے دیکھتے ساری گرد بیٹھ بھی گٸی۔ ہود بھاٸی کا اقبال سے موازنہ ہے ہی نہیں۔ جیسے اقبال کا میدان ساٸنس نہیں ہے ایسے ہی ہود بھاٸی شاعری سے متعلق نہیں ہیں۔ ہود بھاٸی میں یہ اہلیت تو ہے کہ وہ بتا سکیں کہ ساٸنس کی فلاں تھیوری غلط ہے اور فلاں صحیح مگر وہ یہ نہیں

Read more

لاہور شہر میں کبھی مجسمے ہوا کرتے تھے

یہ باغوں اور درسگاہوں کا شہر اب زبوں حالی کا شکار ہے۔ کبھی سڑکیں کشادہ صاف اور ہوادار ہوا کرتی تھیں۔ شہر اور شہروں کی خاص وجہِ شہرت یونہی نہیں بن جاتی یہ نصف صدی سے بھی زیادہ کا قصہ ہوتا ہے اور بسا اوقات صدیاں لگ جاتی ہیں ایک شہر کو ایک خاص نہج کا شہر بنانے کے لیے کئی صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ یہ شہرِ لاہور علم او باغوں کا شہر یونہی نہیں بن گیا اس کے پیچھے

Read more